امید کے دیے

پوائنٹ آف آرڈر/ ارشد وحید چوہدری

انصاف کے نام پہ 22 سال قبل نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے والے عمران خان اپنی مد مقابل جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت سے حلف اٹھا کر پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے لیے انہوں نے 176 ووٹ حاصل کیےاس طرح قائد ایوان کا منصب اتحادی جماعتوں کے ووٹوں سے ہی انہیں نصیب ہو سکا ہے اور اس احسان کا بدلہ انہوں نے اپنی ابتدائی ٹیم میں ان جماعتوں کے 7 کھلاڑیوں کو شامل کر کے فوری چکا بھی دیا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے اس لو دو کی کیونکہ صرف چار ووٹوں سے قائم کرسی کو بچانے کے لیے انہیں کتنی بار اپنے اصولوں پہ سمجھوتا کرنا اور کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑیں گے اس کا بخوبی ادراک بھی خان صاحب کو جلد ہی ہو جائے گا۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد پہلے ہی دن قومی اسمبلی میں عمران خان کو اپوزیشن بلخصوص پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان کی طرف سے جس شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ باب تو ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جناب وزیر اعظم کو یہ احساس جتانے کے لیے بھی کافی ہو گا کہ احتجاج بھی خاص حد تک ہی قابل قبول ہوتا ہے اور اپنے اس جمہوری حق کے لیے آزادی کا استعمال اس نہج تک ہر گز نہیں جانا چاہئیے جہاں سے اگلے کی ناک شروع ہوجائے۔ اس صورتحال میں تو انہیں پارلیمان میں اس پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو جیسے نووارد کا جمہوریت پہ لیکچراور ناصحانہ کردار بھی بہت بھلا دکھائی دیا ہے جس نے ایوان میں بیٹھے ہوئے بھی ملک کے وزیر اعظم کے انتخاب جیسے انتہائی اہم جمہوری عمل میں حصہ تک نہیں لیا۔ عمراں خان پہ جہاں بہت سے لوگوں کے ان گنت رویے اور بہروپ آشکار ہوں گے وہیں وزارت عظمی کے منصب جلیلہ پہ فائز ہونے کے بعد اب بتدریج ان پہ اس عہدے کے تقاضوں سے لے کر مجبوریوں تک ایسے ایسے در وا ہوں گے جس کے بعد توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کی ذات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزیر اعظم کے عہدے پہ متمکن ہونا عمران خان کی 22 سالہ جدو جہد کا ثمر ہے یا یہ 22 دماغوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، ہم یہ بھی نشان دہی کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ جس نا انصافی کے خلاف ملک میں 126 دن کا طویل ترین دھرنا دیا گیا اور عمران خان انصاف کا حصول جس پارلیمان سے چاہتے تھے اب اسی پارلیمان کے ارکان کا کمیشن بنا کر اپوزیشن کا مطالبہ پورا کرنے کی بجائے وہ انہیں عدالتوں کا دروازہ کٹھٹھکانے اور کنٹینر پر چڑھنے کے مشورے کیوں دے رہے ہیں۔ ہم یہ بھی زیر غور نہیں لاتے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے خان صاحب کواس تبدیلی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے ایک درجن لوگ بھی اپنی پارٹی سے میسر نہیں آ سکے اور انہیں سابق آمر پرویز مشرف کے : ہیروں ؛ پہ اکتفا کیوں کرنا پڑا۔ ہم تو یہ استفسار بھی نہیں کرتے کہ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد بھی صبر کا دامن چھوڑ کراپنی پہلی ہی غصیلی تقریر میں اللہ کو گواہ بنا کر ڈاکووں کا احتساب کرنے کا وعدہ کرنے والے عمران خان نے انہی کو اہم عہدوں پہ کیسے فائز کر دیا جنہیں کل تک وہ خود ڈاکو کہتے تھے۔ ہم تو یہ سوال بھی نہیں اٹھاتے کہ کسی لٹیرے سے آئندہ کوئی این آر او نہ کرنے کا عزم طاہر کرنے والے کپتان تو ایسے کئی لٹیروں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنا چکے جو این آر سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ہم تو یہ پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کرتے کہ عوام کو صاف ستھری اور دیانت دار قیادت دینے کے وعدے کرنے والے جناب عمران خان کو سب سے بڑے سیاسی میدانمیں اتارنے کے لیے کوئی ایسا کھلاڑی بھی نہیں ملا جس کا دامن کم از کم قتل جیسے قبیح جرم میں ملوث ہونے کے الزامات سے ہی پاک ہوتا۔ ہم تو یہ فارمولا جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ وزیر اعظم ہاوس میں رہائش نہ رکھنے کا فیصلہ کرنے والے نو منتخب وزیر اعظم جب سیکڑوں ایکڑوں کے گرد قائم کی گئی اسی فصیل کے اندر قیام پذیر ہوں گے تو سیکیورٹی سے لے کر دیکھ بھال تک اخراجات کیسے کم ہو جائیں گے۔ ہم تو یہ توجہ بھی نہیں دلاتے کہ انتخابات میں اکثریت پانے کے بعد ہر ہفتے قومی اسمبلی میں پی ایم کوایسچن آور (وقفہ سوالات) شروع کرنے کی یقین دہانی کرانے والے خان صاحب قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد ہی کیسے اس پریکٹس کو دو ہفتوں میں ایک دن کرنے پہ لے گئے ۔ چھوڑیں، ان تمام اور اس طرح کی کئی دیگر فضول اور لغو باتوں میں الجھنے کی بجائے ہم مستقبل کے سہانے سپنوں کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ امید پہ دنیا قائم ہے۔ عمران خان کی سب سے بڑی خوش قسمتی اور طاقت یہ ہے کہ قوم کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام انہیں ایک نجات دہںدہ اور مسیحا تصور کرتی ہے۔ قوم کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف کپتان کی طرف دیکھ رہی ہے اس کی ٹیم کی طرف بھی نہیں کیونکہ انہیں یقین محکم ہے کہ ان کا کپتان ناممکن کو ممکن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے پونے دو کروڑ ووٹرز کے ساتھ پچیس جولائی کےدن گھروں میں بیٹھے رہنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو بھی اندھا اعتقاد ہے کہ عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا گر آتا ہے ۔ انہیں بھروسہ ہے کہ خان مٹی کو ہاتھ لگائے تو وہ سونا بن جاتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دکھوں کا مداوا اگر کوئی کر سکتا ہے تو اس لیڈر کا نام صرف عمران خان ہے ۔ وہ صرف یہ مانتے ہیں کہ پاکستان کو 71 سالوں سے اس کی کھوئی منزل تک اگرکوئی پہنچا سکتا ہے تو وہ بھی صرف عمران خان ہی ہے۔ عوام واقعی اپنے کپتان سے تبدیلی کے متمنی ہیں وہ حقیقت میں ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں، وہ ہر گز آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے طلبگار نہیں ہیں وہ کوئی غیر حقیقی خواہشات کے اسیر نہیں ہیں انہیں اپنے کپتان سے صرف ایسا پاکستان چاہئیے جس میں قانون کسی طاقت ور کے گھر کی لونڈی نہ ہو بلکہ قانون کا سب پہ مساوی اطلاق ہو، وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں انصاف کا ترازو ہمیشہ کسی با اختیار اور متمول کی طرف ہی نہ جھکے۔ وہ اس پاکستان کی توقع کرتے ہیں جہاں کوئی صاحب اقتدارو اختیار آئین کو موم کی ناک نہ بنا سکے، جہاں بالا دستی کے تمام سوتے جمہوریت سے پھوٹیں، جہاں کا نظام کسی طاقت اور امارت کے نشے میں بد مست کے سامنے لونڈی بن کے نہ کھڑا ہو، عوام عمران خان سے وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں بد عنوان کو پکڑے جانے پہ تمام عمرجیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کا خوف لاحق ہو، جہاں کوئی نو گو ایریا ہو نہ ہی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، جہاں کسی کو مسجد ،مندر، گرجے اور گوردوارے میں جاتے ہوئے عدم تحفظ کا احساس نہ ہو ، فرقہ واریت کا نام و نشان نہ ہو،جہاں اظہاررائے کی آزادی ہو، جہاں جرم کا مرتکب گمشدہ نہ ہو بلکہ اسےعدالت سے سزا ملے، جہاں کسی صوبے میں احساس محرومی نہ ہو بلکہ وہ ایک مٹھی کی شکل میں متحد ہوں۔ عوام عمران خان سے ایسے پاکستان کے طلبگار ہیں جہاں پروٹوکول اور سیکیورٹی کے نام پہ ان کی عزت نفس کا جنازہ نہ نکالا جائے، جہاں تعلیم یافتہ نسل کو پرچی پہ نہیں بلکہ قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پہ نوکری نہ ملے، جہاں عوام کی عزت نفس کے تحفظ کا پیمانہ رنگ و نسل یا امارت و غربت نہیں بلکہ ان کا کردار ہو۔ جہاں تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہو،جہاں سبز پاسپورٹ عزت کا نشان سمجھا جائے اور روپے کی قدر ہو، جہاں روشنیاں ہمیشہ جگمگاتی رہیں اور سب سے بڑھ کر عوام عمران خان سے وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں پیاس سے مرنے والے ایک کتے کا حساب بھی ان سے لیا جائے ۔
وزیراعظم پاکستان سے بصد ادب گزارش ہے کہ وہ اپنی سمت درست کرنے کے لیے 100 دن مقرر کریں یا 10 دن عوام ان
سے 1825 دن بعد حساب لیں گے۔ اس تسبیح کہ؛ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں؛ کو اپنا ایمان سمجھنے والے عمران خان کے لیے دعا ہے کہ اللہ ان کی مدد فرمائے اور وہ عوام کی آنکھوں میں امید کے دئیوں کو روشن رکھ سکیں کیونکہ خدانخواستہ اگر یہ دئیے بجھ گئے تو یہ صرف عمران خان کی نہیں پاکستان کی ناکامی ہوگی ۔

 

متعلقہ مضامین