کابینہ اجلاس کے فیصلے

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دی گئی ۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہمنگل کو کابینہ کی آئندہ میٹنگ ہو گی اس کا ایجنڈا تیار ہو گیا، پورے ملک کی کچی آبادیوں کے لوگوں کو سہولتیں پہنچانے کے لیے ٹاسک فورس بنائی جائے گی، صوابدیدی فنڈز ختم کرانا کابینہ میٹنگ کا اہم نقطہ تھا، نواز شریف نے 21 ارب روپے کے فنڈز استعمال کیے، صدر پاکستان کا کوئی آئینی کردار نہیں رہا لیکن انہوں نے بھی 8 سے 9 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال کیے، 30 ارب روپے ایم این ایز کو نواز شریف نے دیے، وزیراعظم نے کہا کہ اگر میں کسی کو صوابدیدی فنڈ دوں گا تو وہ عوامی پیسے کی توہین ہو گی، پانامہ پیپرز کے بعد نواز شریف جہاں گئے وہاں اربوں روپے کے اعلانات کیے، کسی نے نہیں دیکھا کہ اس علاقے کو ضرورت کس چیز کی ہے ۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج کابینہ نے تاریخی فیصلہ کیا ہے، کوئی بھی منصوبہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لا کر فنڈز دیے جائیں گے، ایک ٹریلین کی رقم پارلیمنٹ سے منظور منصوبوں پر اضافی خرچ کی گئی ۔ آج کابینہ نے وزرا کے صوابدادی فنڈز پر پابندی لگا دی گئی ۔ وزیر اطلاعات، وزارت قانون اور باقی وزارتوں کے وزیر بھی ایسے فنڈز استعمال نہیں کر سکے گے، وزیراعظم اپنا سرکاری جہاز استعمال نہیں کریں گے، چیف جسٹس اور صدر بھی سرکاری جہاز استعمال نہیں کریں گے ۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم نے عید پر لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا، بجلی اور گیس پر تفصیلی بریفنگ مانگی ہے، ایک ہزار کا سرکلر ڈیٹ چھوڑ کر پچھلی حکومت گئی ہے، وزیراعظم ایک نمازی آدمی ہیں اگر کوئی تصویر نہیں دیتا تو اس پر تنقید بے جا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم خان چیف سیکرٹری کے پی کے رہے ہیں انکی کارکردگی کی بنیاد پر لگایا گیا، کلب کلاس میں سفر کرنے کی شرط سب پر ہوگی، کیڈ کی وزارت کو ختم کرنے پر غور ہو رہا ہے ۔ فواد چودھری نے کہا کہ اگر ایف آئی اے نے آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ کابینہ میں بھیجا تو فیصلہ کریں گے، پرویز مشرف کا معاملہ کابینہ میں آیا تو فیصلہ کریں گے ۔ فواد چودھری نے کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کا معاملہ کابینہ میں آیا جس کا فیصلہ کیا گیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے