حسین حقانی خرد برد نیب کے حوالے

سپریم کورٹ نے حسین حقانی کے خلاف سفارتخانے کے فنڈز میں خرد برد کی تحقیقات ایف آئی اے سے لے کر نیب کے حوالے کر دی ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میمو کمیشن کیس میں حقانی عدالت کو واپس آنے کا بیان حلفی دے کر گئے تھے ۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے حسین حقانی کو امریکا سے پاکستان واپس لانے کے مقدمے کی سماعت کی ۔ عدالتی معاون نے بتایا کہ قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ایک مجوزہ مسودہ پیش کیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق  چیف جسٹس نے کہا کہ حسین حقانی کے واپس آئے بغیر کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکتا، وہ ہمیں بیان حلفی دے کر گئے تھے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے کنونشن اور عالمی معاہدے کے تحت نیب پاکستان کی تسلیم شدہ اینٹی کرپشن باڈی ہے اس لئے حسین حقانی کے خلاف درج کئے گئے مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے کی بجائے نیب کرے تاکہ بین الاقوامی فورمز پر حقانی کی واپسی کیلئے نیب رجوع کر سکے ۔
عدالت نے حقانی کے خلاف سفارتخانے کے فنڈز میں خرد برد پر درج مقدمے کی تفتیش نیب کے حوالے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر مینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین