اورنج لائن ٹرین اگلے سال

سپریم کورٹ نے لاہور اورنج لائن ٹرین منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر نیب کے خلاف شکایت آئی تو متعلقہ تفتیشی افسر کے خلاف عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر کارروائی کی جائے گی ۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو پراجیکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر سبطین علیم نے بتایا کہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین اگلے سال ۳۰ جولائی کو چلے گی ۔ عدالت عظمی کے بنچ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبہ چین کے قرضے سے مکمل ہو رہا ہے ۔ اس وقت دس ملین کی فوری ضرورت ہے تب کام آگے بڑھے گا، رقم موجود ہے مگر ایکنیک کی منظوری کا انتظار ہے ۔ ایم ڈی نے بتایا کہ منصوبے کو چار پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ٹھیکیدار لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے معاہدے کے پابند ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میگا پراجیکٹس تاخیر کا شکار ہیں متعلقہ محکمے کام نہیں کر رہے، ہم وزیراعلی پنجاب اور وزیر خزانہ اسد عمر کو بلا سکتے ہیں ۔

عدالتی ہدایت پر منصوبے کے ایم ڈی، ایل ڈی اے حکام نے ٹھیکیداروں کے ساتھ اجلاس کر کے آگاہ کیا کہ 15 نومبر تک پہلا مرحلہ اور 31 مارچ تک دوسرے مرحلے میں منصوبے سے متاثرہ لاہور کی سڑکیں از سر نو بنا لی جائیں گی جبکہ اورنج ٹرین 30 جولائی کو چلے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کوئی ایسی کارروائی نہ کرے کہ منصوبے کا شیڈول متاثر ہو، انہوں نے کہا کہ اگر نیب کے خلاف کوئی شکایت آئی تو متعلقہ تفتیشی افسر کو عدالت کی حکم عدولی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ۔ سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین