ملک ریاض پھر سپریم کورٹ میں

سپریم کورٹ نے ڈادوچہ ڈیم کی تعمیر پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک بھر میں زیر تعمیر اور تجویز کردہ ڈٰیموں کی تفصیلات طلب کر رہا ہوں، تاخیر کی وجہ سے سارے زیر تعمیر ڈیموں کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے راولپنڈی کے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ملک ریاض پیش ہوئے ۔ ملک ریاض کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ایک سال میں ڈیم کر دینے پر راضی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کیلئے مزید وقت نہیں دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آبی وسائل تعمیرکرنے ہیں، ایک ایک ڈیم تعمیرکرکے دیں گے، ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیرمیں کس نے رکاوٹ ڈالی، ذمہ داران کا تعین کیا جائے ۔ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری نے بتایاکہ ڈھڈوچہ ڈیم راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے کے لئے بنایا جانا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ 2015 میں منظوری کے باوجود ابھی تک ڈیم تعمیر نہیں ہوا گزشتہ تین سالوں کے ایک ایک روزکا حساب لیں گے، آبی وسائل کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے والے سازش میں برابر کے شریک ہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کیلئے چھ ارب درکار ہیں، تعمیر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے بھی ممکن ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرائیویٹ پارٹنرشپ سے افسران کے کھانچوں اورکمیشن مارے جانے کا خطرہ ہے جو بھی آبی وسائل بنا کر دینا چاہتا ہے اسے بنانے دیں، پانی کے شیئر کا معاملہ اب سپریم کورٹ طے کرلے گی ۔ عدالت نے کہا کہ ڈیم کی پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت تعمیر کیلئے پنجاب حکومت آئندہ سماعت پر آگاہ کرے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیکریٹری محکمہ آبپاشی پنجاب کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ۔ مشاورت کیلئے بدھ تک کی مہلت بھی دی چیف جسٹس نے پنجاب میں پانی کے کا کُل اور حاصل کردہ لگان کا پوچھا تو سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ سالانہ دو ارب روپے لگان ہے، آدھا وصول ہوتا ہے ۔ عدالت نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 13 ستمبرتک ملتوی کر دی ۔

واضح رہے کہ راولپنڈی میں دادوچہ ڈیم کیلئے مختص ستائیس ہزار کنال سرکاری اراضی بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے پلاٹ بنا کر بیچ دی ہے اور یہ مقدمہ سات برس سے عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ ملک ریاض اور ڈی ایچ اے حکام اب پنجاب حکومت کو متبادل زمین پر ڈیم بنا کر دینے کی پیش کش کر رہے ہیں ۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اب اگر پنجاب حکومت ڈیم اپنی رقم سے بھی تعمیر کرتی ہے تو اس کا پانی صرف ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے ہی استعمال میں آئے گا ۔

متعلقہ مضامین