شامی جنگ میں سارے شامل

شام میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کے زیر قبضہ علاقے ادلب پر ایران اور روسی کے تعاون سے شامی فوج کے حملوں پر امریکا اور ترکی ردعمل دکھانے کیلئے تیار دکھائی دے رہے ہیں ۔ بی بی سی کے مطابق امریکی فوج کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اپنی معمول کی بات چیت میں شامی فوج کی جانب سے باغیوں کے آخری بڑے ٹھکانے ادلب پر حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے امکانات پر غور و خوض کیا ہے ۔

تاہم جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ صدر نے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کی صورت میں کسی فوجی کارروائی کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ دنیا اس قتل عام پر آنکھیں موندے نہیں رہ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ انسانی جانوں کے لیے قیامت خیز ہو سکتا ہے ۔ ترکی نے ادلب صوبے میں جنگ بندی کی اپیل کی تھی ۔

ادھر شامی حکومت اور روس نے کہا ہے کہ وہ ادلب پر اپنے منصوبے کے تحت حملہ جاری رکھیں گے۔ شامی حکومت نے ایرانی اور روسی رہنماؤں سے بات چیت کے بعد متعدد ٹویٹس میں اس کا اظہار کیا ہے ۔ روس نے شمالی شام میں باغیوں کے آخری مضبوط گڑھ ادلب میں ترکی کے جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔

ادلب میں فوجی کارروائی سے متعلق ایران، روس اور ترکی کے صدور نے ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی ہے ۔ اجلاس میں روس اور ایران کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے اور شامی صدر بشار الاسد کو حق حاصل ہے کہ وہ شام کا مکمل کنٹرول حاصل کریں ۔

متعلقہ مضامین