پانامہ اسکینڈل، ڈراپ سین؟

جو ہونا تھا ہو گیا اب آگے کی سوچیں، ملک مشکلات میں گھرا ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے ادارے کو بدنام نہیں کیا جا سکتا، یہ وقت بھی پلک جھپکتے گزر جائے گا اور تب تک آپ کی جماعت ایک بار پھر بڑی انتخابی کامیابی کے لئے تیار ہو گی۔ اگر نہیں تو یہاں کے انصاف کے عمل سے آپ بخوبی واقف ہیں، جیل واپس بھیج دئیے جائیں گے اور اس کے لئے دی گئی قانونی وجوہات پر تجزئیے ہمیشہ کی طرح جاری رہیں گے، آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح ایک وزیراعظم کو مکھن سے بال کی مانند اقتدار و انتخاب سے باہر کیا جاتا ہے اور کس طرح اپنے مفادات و مصلحتوں کے تحت اس ناانصافی کا نیا جواز گھڑا جاتا ہے۔ بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو نے بھی تو اپنے وزیراعظم باپ کے عدالتی قتل کے باوجود قاتلوں سے سمجھوتہ کیا تھا۔ اگر بینظیر بھٹو ایسا نہ کرتی یعنی تمغۂ جمہوریت عطا نہ کرتی تو کیا پھر مرتضیٰ بھٹو بن جاتی۔ یہ ہیں وہ مشورے جو اس وقت نواز شریف صاحب کے بہت سے سیاسی مشیران انکے کانوں میں سرگوشیوں کی مانند ڈال رہے ہونگے۔

آج جنرل ضیاء کی باقیات اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان باقیات کے گٹھ جوڑ کے خلاف نواز شریف کو مرتضیٰ بھٹو یا بینظیر بھٹو میں سے کسی ایک کی حکمت عملی کو اپنانا ہو گا۔ اقتدار کی بازی جان کی بازی ہوتی ہے اور خاص کر جب اقتدار عوام کو بااختیار بنانے اور انکی ووٹ کو عزت دلوانے کے لئے حاصل کیا جائے تو پھر آپ کو ایسی جیلوں یا ایسی رہائی سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ہاں اگر آپ کی باقی ماندہ زندگی کا مقصد اپنی دختر مریم نواز کو ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم بنانا ہے تو پھر آپ کے پاس آپشنز موجود ہیں۔ وہ یہ کہ آپ مریم نواز کو ضمنی انتخاب لڑا کر اسمبلی میں لے آئیں اور گھر بیٹھ کر آئندہ انتخابات کا انتظار کریں۔ دوسرا راستہ ذرا کٹھن ہے اور وہ یہ کہ آپ اپنے قانونی اور سیاسی مشیران کے ایسے مشوروں کو بالائے طاق رکھ کر سڑک پر آ جائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاناما اسکینڈل کے شواہد کا جو بھانڈا پھوٹا ہے اس کے بعد شک کی گنجائش نہ رہی۔ نیب کے استغاثہ کے وکلاء نے احتساب عدالت کو تو مائل بہ کرم کر لیا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے پڑھے لکھے اور تجربہ کار قانون دان ججوں کے سامنے انکی صلاحیت کا پول کھل گیا۔ جب نیب کے وکلاء سزاؤں کے خلاف شریف خاندان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران ٹھوس دلائل نہ دے سکے تو ان سزاؤں کا معطل ہونا فیصلے سے پہلے ہی نظر آ رہا تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سامنے نیب کے وکلاء نواز شریف کا لندن کی جائیدادوں سے تعلق ثابت نہ کر سکے اور اس تمام معاملے میں مریم نواز کے کردار کے حوالے سے بھی تسلی بخش دلائل نہ دے سکے۔

مثلاً یہ کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ جب مریم نواز پر لندن کی جائیدادوں کی ملکیت کا الزام ہی نہیں تو انکو ناجائز اثاثے رکھنے والی سزا کیوں سنائی گئی۔ معزز عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چند دوسرے فیصلوں میں یہ بات طے کر دی گئی ہے کہ ملزم پر بارِ ثبوت تب آئے گا جب نیب کچھ بنیادی قانونی تقاضے پہلے پورا کرے گی۔ یعنی نواز شریف اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے لئے ثبوت تب پیش کریں گے جب نیب کسی ابتدائی ثبوت کے ذریعے کم از کم انکی لندن فلیٹ کی ملکیت دکھا پائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار دینا نیب کے قانون کی منشا ہر گز نہیں اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے بیشتر فیصلے بھی موجو د ہیں۔ اسی طرح مریم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے الزام کی بنیاد پر ناجائز اثاثوں کے جرم میں سزا سنانا بھی ہائیکورٹ کے لئے حیرت کا باعث تھا۔ ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ پاناما کیس سننے والے سپریم کورٹ کے بنچ نے بھی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق مریم نواز کے خلاف کسی اور مناسب عدالتی فورم پر کاروائی کے لئے کہا تھا۔ عدالت نے نیب کے وکلاء کی توجہ اس شق نمبر 9۔اے۔پانچ کی طرف دلوائی جس کے تحت مریم نواز کو سات سال قید کی سزا ملی۔ عدالت کے مطابق اس شق کا تعلق آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والے ملزمان سے ہے نہ کہ کسی جعلی دستاویز پیش کرنے والے سے متعلق جس کا مقدمہ دوسرے قوانین کے تحت چلایا جانا تھا۔ اس حوالے سے بھی نیب کے وکلاء فاضل عدالت کومطمئن نہ کر سکے۔

پاناما کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو چکا ہے مگر ہم میں سے کچھ لوگ پردہ گرنے کے باوجود تھیٹر سے باہر کی حقیقی دنیا میں جانے کو تیار نہیں۔ مگر کیا خود نوازشریف اتنے بڑے ڈراپ سین کے بعد حقیقی سیاست کی دنیا میں جانے کو تیار ہیں؟ اگرنواز شریف ووٹ کو عزت دو والے اپنے بیانیے پر ڈٹ گئے اور ان کو ملنے والی سزا کے پیچھے چھپی سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا تو پھر قانون کے پاس بھی قانونی نہ سہی کچھ سیاسی آپشنز ضرور موجود ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نواز شریف کی سزا برقرار رکھنا اور مریم نواز کو رہا کر دینا۔ ایسے میں نواز شریف کو یقیناً مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ وہ مشکل فیصلے جن کو ماضی میں نہ کرنے کے باعث نواز شریف آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔ سوگ کے چالیس دن گزرنے سے پہلے یا بعد میں اگر نواز شریف نے الیکشن سے پہلے پاناما اسکینڈل سے جڑی تحقیقات، عدالتی کاروائیوں اور دی گئی سزاؤں کے خلاف تحریک چلائی تو وہ بلاجواز بھی نہ ہو گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شریف خاندان کی رہائی کی مکمل قانونی وجوہات بروقت بیان کر دیں تو وہ براہ راست الیکشن سے پہلے کی قانونی و عدالتی کاروائیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیں گی۔ سوال اٹھے گا کہ پاناما اسکینڈل میں نوازشریف کا نام نہ ہوتے ہوئے بھی انہیں اس میں کیوں گھسیٹا گیا؟ اگر پاناما اسکینڈل میں قانونی طور پر نواز شریف کے خلاف براہ راست کارروائی نہیں ہو سکتی تھی تو کیا اقامہ کو بغیر تفصیلی ٹرائل کے اچانک نواز شریف کے خلاف اسی وجہ سے استعمال کیا گیا؟ کیا پاناما اسکینڈل کے اوپر آج تک ہونے والی کاروائیوں کا مقصد محض نون لیگ اور نواز شریف کو عوام کی نظر میں گندا کرنا تھا؟ اگر اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے شریف خاندان کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے کی تفصیلی وجوہات سامنے آتی ہیں تو پھر ان سوالات کا جواب دینا یا لینا لازمی ہو گا ۔ اگر نواز شریف نے بھی مذکورہ سوالات کا جواب سر عام نہ مانگا تو یہ قوم ایک بار پھر تیس سال پیچھے چلی جائے گی جب ایک عدالتی قتل کے شکار وزیر اعظم کی بیٹی نے اپنے اقتدار کی خاطر سب کچھ بھلا دیا تھا۔ ستم ظریفی کہیں یا کچھ بھی اب ووٹ کی عزت نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے