چیف جسٹس نے وکیلوں کو سنا دیں

ای او بی آئی کیس میں قانونی اجازت کے بغیر فیس لینے والے وکیلوں کے مقدمے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گوندل نے ادارے کے چیئرمین کے طور پر روپے مالیت کی پراپرٹی دو سو روپے میں خرید لی، اس نے ای او بی آئی کی تباہی پھیر دی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے روسٹرم پر کھڑے فیس لینے والے وکیلوں اعتزاز احسن اور بابر ستار سے کہا کہ ایتھیکل وکیل کو تو ایسے مقدمات لینے ہی نہیں چاہئیں، ایسے کیس میں تو اچھے وکیل کو بریف پھینک دینا چاہئیے کہ ہم یہ کیس نہیں لیتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اعتزاز احسن کا معلوم نہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی قانونی نکتے پر معاونت کے مقدمے کی ای او بی آئی سے فیس لی ہو ۔

دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے کہا کہ اگر ہم اس مقدمے میں کوئی حکم نہ دیں تو آپ لی گئی فیس میں سے کتنی رقم ڈیم فنڈ میں دیں گے، حکومت سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مؤثر بہ ماضی منظوری دے دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈیم کو اس طریقے سے تو نہیں دینا چاہوں گا، یہ تو سزا یافتہ ہونا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اعتزاز صاحب کا یہی مسئلہ ہے کہ اکڑ، اڑ جاتے ہوتے ہیں، دس ہزار جرمانہ بھی ان کی جگہ نجم (چیف جسٹس کے بیٹے) نے دیئے، انہوں نے آج تک بچے کو وہ پیسے بھی واپس نہیں کئے ۔

چیف جسٹس نے بابر ستار سے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں کوئی درخواست بھی دائر کی ہے ۔ بابر ستار نے کہا کہ ایک قانونی سوال کی تشریح ہونا ہے اس کیلئے درخواست دائر کی ہے، کیا خود مختار ادارے بھی وفاقی حکومت ہیں یا نہیں، پہلے یہ سوال طے کیا جانا چاہئیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر او جی ڈی سی ایل اور دیگر سرکاری اداروں نے اسی طرح نجی وکیلوں کی خدمات حاصل کرنی ہیں تو پھر اٹارنی جنرل اور سرکاری وکیلوں کی کیا ضرورت ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ میں نے جواب جمع کرایا ہے اور اس میں گزشتہ عدالتی حکم میں ہمیں ای او بی آئی کا وہ نوٹی فیکیشن فراہم کرنے کیلئے حکم دیا گیا تھا جس کے تحت وکیلوں کی خدمات حاصل کی گئی ۔ چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے کہا کہ ٹھریں، بابر ستار پہلی بار تو ہمارے پاس پھنسا ہے اس کے ساتھ کچھ تو کرنے دیں، بہت بڑا وکیل بن گیا ہے، اس کا ابھی تک سپریم کورٹ میں ٹیسٹ نہیں ہوا ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالتی حکم پر وہ لیٹر ہمیں فراہم کیا گیا ہے، یہ نوٹی فیکیشن نہیں بلکہ ادارے کا اندرونی طور پر جاری کیا گیا خط ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکیلوں کی خدمات اس طرح حاصل نہیں کی جانی چاہئیں کہ اداروں کے سربراہ اپنے دوست وکیلوں کو کیس دے دیں، رات کو پارٹی شارٹی چلتی ہے جیسے ایک زمانے میں چلتی تھی، ہم بھی اس دور سے گزر کر آئے ہیں، صبح ادارے کا سربراہ اسی وکیل کو ہائر بھی کر لیتے ہیں ۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ بتایا جائے اس کیس میں ای او بی آئی کی جانب سے وکیلوں کو بغیر کسی قانونی اجازت کے دی گئی رقم کس سے واپس لی جائے، وکیلوں سے یا ان افسران سے جنہوں نے ان کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی؟ عدالت میں وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے ۔ وزارت قانون جواب جمع کرائے کہ کیا اس معاملے میں مؤثر بہ ماضی فیسوں کی منظوری دی جاسکتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے