سندھ کے جنگلات بحریہ ٹاؤن کو الاٹ

سپریم کورٹ میں سندھ کے جنگلات کی زمین لیز پر دینے کے مقدمے کی سماعت ہوئی ہے ۔ درخواست گزار قاضی علی اطہر ایڈووکیٹ نے عدالت میں جنگلات کی زمین لیز پر دینے کی دستاویزات پیش کیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نواب شاہ اور کراچی کو ہزاروں ایکڑ جنگلات کی زمین الاٹ کی گئی، درخواست اور دستاویزات میں سامنے آنے والا یہ سنگین الزام ہے، وزیر جنگلات نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قواعد میں نرمی کر کے 850 ایکڑ زمین لیز پر دی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زمین درخت لگانے کیلئے لیز پر دے رہے ہیں اور وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں، بنانے والے سے بعد میں پوچھیں گے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جب پوچھیں گے تو وہ اپنے دفاع میں کہیں گے کہ روٹی، کپڑا اور مکان میں سے مکان پہلے دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس اختیار کے تحت یہ زمین بحریہ ٹاؤن کو دی گئی؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین تحفے میں بانٹ دی، لوگ جنگلات کی زمین لوٹ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نےکہا کہ یہ بات مسلمہ ہے کہ سندھ کے جنگلات تباہ کر دیئے ۔  پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سندھ کے چیف کنزرویٹر اعجاز نظامانی نے کہا کہ تصدیق کرتا ہوں ستر فیصد جنگلات برباد ہوگئے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نوابشاہ میں ہزاروں ایکڑ بحریہ ٹاؤن کو دے دی گئی ۔
سپریم کورٹ نے سندھ میں گزشتہ تیس سال کی لیز زمین کی تفصیلات طلب کر لیں ۔ لیز پر زمین لینے والوں کے نام اخبار میں اشتہاری نوٹس شائع کئے جائیں ۔ سندھ حکومت اور محکمہ جنگلات دو ہفتے میں تفصیلات فراہم کرے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے