نئے پاکستان کے وزیر عدالت میں

صبح صبح تیل و گیس کی قیمتوں کے مقدمے میں لمبے چوڑے ریمارکس کے بعد وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کو طلب کیا گیا ۔ اس کے بعد تینوں جج صاحبان اٹھ کر چلے گئے ۔ ساڑھے گیارہ بجے وفاقی وزیر عدالت کے کمرے میں پہنچے تو کچھ دیر بعد عدالت بھی آ گئی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں وفاقی وزیر پٹرولیم کو دیکھ کر کہا کہ خان صاحب آئیے، سرور خان صاحب۔ معلوم نہیں اس معاملے کا پس منظر آپ کا پتہ ہے یا نہیں، کراچی میں معاملہ چل رہا تھا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل میں کچھ مسائل ہیں، بنیادی اسٹرکچر میں مسئلہ ہے، بندر بانٹ ہوئی ہے، بہت سے لوگوں کو بھاری تنخواہوں پر لگایا گیا، ڈیلر شپ دینے میں بھی کچھ کو نوازا گیا ہے ۔ ایم ڈی کو ۳۷ لاکھ تنخواہ پر لگایا گیا، کام کا پوچھا تو کچھ بھی نہیں، قیمتیں تو مارکیٹ کی طاقتیں طے کرتی ہے اور عالمی مارکیٹ کو دیکھا جاتا ہے ۔

چیف جسٹس نے وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عام صارفین کو ریلیف ملتا ہے یا نہیں، یہ ہمارا نہیں آپ کا کام ہے، آپ نے ہی لوگوں کو مہنگائی کا جواب دینا ہے، ہم نے اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کو دیکھنا ہے، ہم نے آڈٹ کرایا ہے، آپ نے بھی کوئی ٹاسک فورس بنائی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اچھی فرم سے آڈٹ کرایا ہے، غیر پیداواری اخراجات کو دیکھا جائے، ایم ڈی 37 لاکھ تنخواہ لیتا رہا، کہاں اور کیسے تشریف لائے، کیا ان کا تقرر درست تھا؟ کیا اقربا پروری تھی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب کی بات ہم بھی کرتے ہیں اور احتساب کا نعرہ آپ بھی لگاتے ہیں مگر اس کانتیجہ کیا ہے، مجھے کوئی نتائج نظر نہیں آ رہے، نیب (پراسیکیوٹر جنرل کی طرف اشارہ) ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ ہم نے پی آئی اے کی ہر چیز کر کے دیدی ہے، اب اس کو کس نے درست کرنا ہے، حکومت کو فری ہینڈ ہے ۔ عدالت میں حقائق آنے چاہئیں ۔

چیف جسٹس نے وفاقی وزیر غلام سرور سے کہا کہ سر، ہم آپ لوگوں کی مدد کیلئے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، کرپشن، اقربا پروری کو کیسے ختم کرنا ہے، جنھوں نے لوٹا ہے اب ان کے خلاف کارروائی آپ نے کرنی ہے، اس کیلئے نیب موجود ہے ۔

غلام سرور نے کہا کہ آپ نے جو کچھ فرمایا درست کہا، آپ کی گائیڈ لائنز کو فالو کیا جائے گا، ہم انشا اللہ ایسا ہی کریں گے، زندگی کا مقصد یہی ہے جو آپ نے فرما رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں جو اس ملک نے دیا ہے وہ واپس کر کے جانا ہے، مجھے اس سے بڑا عہدہ نہیں مل سکتا، آئندہ سماعت پر ہمارے پاس پیش رفت کر کے آئیں ۔ غلام سرور خان نے کہا کہ مجھے بھی اس سے بڑا عہدہ نہیں مل سکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب بھی وزارت پٹرولیم سے تعاون کرے، ایل این جی کی بھی بات کر رہا ہوں ۔

احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر نے کہا کہ دو تین ہفتوں میں کر کے دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہفتوں نہیں دنوں کی بات کریں، اب اگر کسی ریفرنس میں کمی کوتاہی ہوئی تو ذمہ داری عائد کی جائے گی، غلطی، کمی اور سقم نیب کے ریفرنس میں ہوتا ہے اور بعد میں الزام عدلیہ پر آتا ہے کہ ملزمان کو سزا نہ ہو سکی، لازمی نہیں ہے کہ ہر آدمی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، جن کے خلاف ریفرنس نہیں بنتا ان کو بدنام نہ کریں، اب اگر درست تحقیقات نہ ہوئیں اور سقم رہا تو تفتیشی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

غلام سرور خان نے عدالت میں کہا کہ ایل این جی کی انکوائری نیب بھی کر رہی ہے اور ہم بھی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، بظاہر اس معاہدے میں شفافیت نہیں تھی، معاہدے کی کچھ شقیں خفیہ رکھی گئیں ۔ جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ کیا یہ معاہدہ حکومتوں کے مابین تھا؟ غلام سرور خان نے جواب دیا کہ معاہدہ پاکستان اور قطر کے درمیان ہے اور ہماری جانب سے پاکستان اسٹیٹ آئل نے کیا ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاہدے پر ججز کو چیمبر میں بریفنگ دینا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے غلام سرور خان سے کہا کہ عوام کو نظر آئے کہ پاکستان میں کچھ بہتر ہو رہا ہے، لوگوں کی توقعات ہیں ان پر پورا اترنا ہے ۔

عدالت نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے افسران کے تقرر، بھاری تنخواہ و مراعات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ پی ایس او بورڈ کو ہدایت کی کہ ایل این جی معاہدے پر بھی جواب جمع کرایا جائے جس کے  بارے میں بحث ہو رہی ہے کہ اس میں شفافیت نہ تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے