افتخار چودھری کے داماد کو ریلیف

سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے داماد کا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست میں شامل کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو قانون کے مطابق ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف کاروائی کرے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے دبئی میں گرفتار مرتضی امجد کی نظرثانی درخواست کی سماعت کی ۔ درخواست ان کی اہلیہ اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بیٹی نے دائر کی تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ مرتضی امجد سنہ 2007 سے 2009 کے دوران ایڈن ہاؤسنگ لمیٹد کے ڈائریکٹرز میں شامل تھے اس کے بعد ان کا اس منصوبے سے تعلق نہیں ۔ سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کئے اور سنے بغیر مرتضی امجد کا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست میں شامل کیا تھا جس کی وجہ سے اس کو گزشتہ دنوں دبئی میں گرفتار کیا گیا ہے ۔

وکیل نے کہا کہ عدالت کا حکم بغیر کسی قانونی جواز کے تھا، نیب اس معاملے کی پہلے ہی انکوائری کر رہا ہے ۔ وکیل حامد خان نے بتایا کہ مخالفین کی طرف سے مرتضی امجد اور اس کے خاندان کو بدنام کیا گیا ہے ۔ عدالت نام ای سی ایل سے نکالنے اور مرتضی کا پاکستان لا کر نیب کو قانون کے مطابق تفتیش کا حکم دے ۔

سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر مرتضی امجد کا نام عدالتی فیصلے کی وجہ سے ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے تو نکال دیا جائے ۔ عدالت نے نیب کو ایڈن ہاؤسنگ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی ۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی اطلاعات فواد چودھری نے دبئی میں مرتضی امجد کی گرفتاری کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا تھا ۔ واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان پرانی چپقلش اب عدالتی جنگ میں بدل چکی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق افتخار چودھری نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے جبکہ ان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے عمران خان کی باسٹھ ون ایف کے تحت اہلیت کو اس بنیاد پر چیلنج کیا ہوا ہے کہ ان کی ایک بیٹی ٹیریان کا نام انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے