آگئے ہیں نیا پاکستان بنانے، چیف جسٹس

اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کے تبادلے پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ آئی جی وزیراعظم کے زبانی احکامات پر تبدیل کیا گیا ۔ یہ بیان اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دیا جس کے بعد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے تبادلے کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو وزیراعظم نے کہا تھا کہ آئی جی جان محمد اہل افسر نہیں ہیں اس لئے تبدیل کیا جائے ۔ عدالت نے آئی جی کے تبادلے کے احکامات معطل کر دئیے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے اس صورتحال پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو اس طریقے سے چلانے کی اجازت نہیں دیں گے، کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ آ گئے ہیں نیا پاکستان بنانے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر افسر اہلیت نہیں رکھتا تو اس کو شوکاز نوٹس جاری کرکے نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے نہ کہ تبادلے کیا جائے، انہوں نے پوچھا کہ اس تبادلے کیلئے اتنی جلد بازی کیوں دکھائی گئی؟

عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت کی کہ عدالت میں دیئے گئے زبانی بیان کو تحریری طور پر بیان حلفی کی صورت میں جمع کرائیں ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی ہدایت کی کہ اس پر حکومت اپنا مؤقف پیش کرے ۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کے تبادلے کیلئے جاری کئے گئے احکامات معطل کر دئیے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان ایسے نہیں چلے گا ۔  پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سماعت کے آغاز پر آئی جی کی تبدیلی کی سمری پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ وزیراعظم کے زبانی احکامات پر تبادلہ کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ تبادلے کی اصل وجہ کیا ہے؟ سیکرٹری اسٹبلشمنٹ خود عدالت کو حقائق بتائیں ۔ عدالت میں بات کرتے ہوئے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کی سانس پھول گئی ۔

چیف جسٹس اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ سانس لے لیں، ابھی آپ نے عدالت میں بہت ٹف ٹائم دیکھنا ہے ۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ وزیراعظم دفتر کا یہ خیال تھا کہ آئی جی اسلام آباد کسی بھی معاملے پر بہت سست ردعمل ظاہر کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ آپ کا تبادلے سے کیا تعلق ہے، عدالت بیان حلفی بھی طلب کرے گی، عدالت کمیٹی بھی تشکیل دے گی، پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوگی، پاکستان کسی کی مرضی سے نہیں قانون کی حکمرانی سے چلے گا، چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ اگر آپ کو کسی سے ایسے احکامات ملے تو منع کیوں نہیں کیا، عدالت اداروں کو خود مختار کرنا چاہتی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے اعظم سواتی کے بیٹے کی لڑائی پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، یہ وزیر کے کہنے پر تبادلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار والا واقعہ دہرایا جارہا ہے، آئی جی کا تبادلہ اوپر والوں کے حکم پر کیا گیا، وزارت داخلہ تبادلے کی مجاز ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان ایسے نہیں چلے گا، پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوگی، عدالت وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار والا واقعہ نہیں دہرانے دے گی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تبادلے میں عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا گیا، عام طور پر تبادلے کیلئے سمری بھیجی جاتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے تبادلہ وزیر کے کہنے پر کیا گیا، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ریاست کے ملازم ہیں، یاد رکھیں عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ایسے ہی مقدمے میں طلب کیا تھا ۔

 

سماعت بدھ اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے