آئی جی تبادلے کے مقدمے میں گرما گرمی

اسلام آباد کے پولیس سربراہ کے تبادلے پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ فواد چودھری نے کل بیان دے کر کس پر طنز کیا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ قانون کی حکمرانی نہیں کہ نکال دو یا ہتھکڑیاں لگا دو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی وزیر کہتا ہے جو دل کرے گا کریں گے، دل والی باتیں اب ختم ہوگئی ہیں، کس وزیر کے کہنے پر بچوں کو گرفتار کیا گیا، اعظم سواتی ٹی وی پرکہتے ہیں عدالت کو وضاحت کروں گا، اعظم سواتی آج عدالت کیوں نہیں آئے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ چیف جسٹس کدھر ہے اعظم سواتی؟ وفاقی وزیر کو تحمل سے کام لینا چاہیے، اطلاعات کے وزیر قانون دان بھی ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کہ فواد چوہدری اپنے بیان میں کسے اشارہ کر رہے تھے، فواد چوہدری نے کس کو ٹوئیٹ کیا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ملک قانون کے مطابق چلے گا، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی ۔ فواد چودھری کے بھائی وکیل فیصل نے کہا کہ ہماری پہچان عدالت کا وکیل ہونا ہے، فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالت کے احترام میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی امریکہ سے پاکستان آئے تھے اور

اعظم سواتی شاہد واپس امریکہ نہیں جا سکتے، ہم اعظم سواتی سے پوچھیں گے وہ واپس امریکہ کیوں نہیں جا سکتے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے