ٓآسیہ مسیح کیس فیصلے میں نیا کیا؟

سپریم کورٹ نے سزائے موت کی قیدی آسیہ مسیح کو توہین رسالت کے الزام سے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا فیصلہ دیا ہے مگر اس فیصلے میں ایسا کیا نیا ہے جو کیس کی سماعت کے دوران سامنے نہ آیا تھا ۔

عدالت عظمی میں رپورٹنگ کرتے ہوئے اس مقدمے کی اپیل کی طویل سماعت کے دوران ججز بہت محتاط دکھائی دیئے تھے اور انہوں نے صرف سوال پوچھے ریمارکس نہیں دیے ۔ اب جب فیصلہ آیا تو کم و بیش وہی حقائق ہیں جو عدالت کے سامنے آسیہ بی بی کے وکیل نے رکھے تھے اور جن کی وجہ سے کیس میں شہادتیں مشکوک ہو گئی تھیں ۔

تاہم مقدمے کے فیصلے میں کچھ چیزیں نئی ہیں ۔ پہلی چیز تو یہ کہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے تحریر کیا ہے جو فوجداری کے ماہر جج نہیں مگر چونکہ کیس بہت آسان تھا اور شہادتیں کھل کر آپس میں متضاد اور متصادم تھیں تو انہوں نے کھل کر ان کی نشاندہی کی ۔ سپریم کورٹ میں فوجداری مقدمات کے ماہر قانون دان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے الگ سے نوٹ لکھا ہے ۔

دوسری اہم چیز یہ نظر آئی کہ انگریزی میں تحریر کئے گئے فیصلے کے ساتھ ہی اس کا اردو ترجمہ بھی کچھ ہی دیر میں عدالت کی ویب سائٹ پر لگا دیا گیا جس کا مطلب ہے کہ پس منظر میں اس پر کافی کام کیا گیا تھا ۔

تیسری اہم بات توہین رسالت اور توہین مذہب کے ماضی بعید کے واقعات اور مقدمات کو بھی اس فیصلے کا حصہ بنا کر معاشرے میں موجود مسائل کی نشاندہی کی کوشش اور فیصلے کو مضبوط کرنے کیلئے بنیاد فراہم کی گئی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصلے کے ابتدائی حصے میں قرآن و حدیث اور آئین پاکستان کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ مذہب اور پیغمبر اسلام کی توہین کی سزا موت یا عمر قید ہے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ماضی میں توہین آمیز مواد کی وجہ سے فیس بک سمیت سترہ ویب سائٹس کو بند کرنے کا بھی اس فیصلے میں ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے لکھا ہے کہ توہین رسالت یا توہین مذہب کا غلط اور جھوٹا الزام بھی اکثر لگایا جاتا ہے ۔ اس کیلئے انہوں نے مشعال کیس اور اکرم مسیح کیس کی مثالیں دی ہیں ۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پچھلے اٹھائیس برس میں ایسے 62 افراد کو مقدمات کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا جن پر توہین مذہب یا توہین رسالت کا الزام لگایا گیا تھا ۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود اس فیصلے کے ایک پیرا گراف میں معاملے کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے کہ ’کسی کو حضرت محمد (ﷺ) کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی جرم کو سزا کے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے بعض اوقات کچھ مذموم مقاصد کے حصول کے لیے قانون کو انفرادی طور پر غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ حقائق کے مطابق 1990 سے تقریباً 62 افراد توہین رسالت کے الزام پر قانون کے مطابق مقدمے کی سماعت سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نامور شخصیات بھی جنہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کا چند افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہو رہا ہے، خطرناک نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک حالیہ مثال مشعال خان کا قتل ہے جو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم تھا جس کو اپریل 2017 میں یونیورسٹی کے احاطے میں مشتعل ہجوم نے صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے کوئی توہین آمیز مواد آن لائن پوسٹ کیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے فیصلے میں مشہور ایوب مسیح کیس کی بھی تفصیل لکھ کر تاریخ کو تازہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ فیصلے کا اس حوالے سے پیرا گراف کچھ یوں واقعہ کو بیان کرتا ہے ۔۔۔۔

’ایوب مسیح پر توہین عدالت کا الزام اس کے ہمسائے محمد اکرم نے لگایا تھا۔ یہ واقعہ 1996 میں پیش آیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن اس کے باوجود علاقے میں عیسائیوں کے گھر جلا دیے گئے اور عیسائی برادری کو جو چودہ گھروں پر مشتمل تھی، گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ملزم ایوب کو سیشن عدالت میں گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔ بعد میں اس پر جیل میں دوبارہ حملہ ہوا۔ مقدمہ جب ختم ہوا تو ایوب مسیح کو مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنا دی گئی۔ عدالتِ عالیہ نے سزا کی توثیق کی البتہ عدالتِ ہذا میں اپیل کی سماعت کے دوران یہ واضح ہوا کہ دراصل شکایت کنندہ اس کے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا جس پر ایوب اور اس کے والد رہائش پذیر تھے اور یوں ملزم کو مقدمے میں پھنسا کر وہ اس کے سات مرلے کے پلاٹ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ لہذا مذکورہ اپیل عدالت نے منظور کر لی تھی اور سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔‘

ایک اور پیرا گراف کو بھی پڑھنا ضروری ہے جس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے لکھا ہے کہ

’یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی فرد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور خود سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کے توہین رسالت کے ملزم کو بھی مجاز عدالت کے روبرو اپنا دفاع کرنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹا الزام لگانے کا تدارک ہو سکے۔‘

اپیل کی سماعت کے دوران جو سوالات اٹھائے گئے ان میں ایف آئی آر کا تاخیر سے اندراج کا سوال بھی شامل تھا جس پر بہت زور دیا گیا تھا ۔ اب عدالت نے فیصلے میں بھی اس پر بحث کی ہے ۔ لکھا گیا ہے کہ ملزمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں پانچ دن کی تاخیر کی گئی جس سے شک ہوتا ہے کہ اس دوران اپیل کنندہ کے خلاف ایک منظم سازش تیار کی گئی۔ عدالت نے اس بارے میں استغاثہ کی یہ وضاحت مسترد کر دی کہ ایف آئی آر میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس بارے میں حقائق کو پرکھا جا رہا تھا۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس ایف آئی آر کے لیے درخواست کس نے تحریر کی تو اس نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے درخواست ایک وکیل نے لکھی تھی جس کا نام انہیں یاد نہیں ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ’یہ امر بھی اس ایف آئی آر کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔‘

عدالت نے فیصلےمیں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات میں موجود تضاد کو واضح کیا ہے اور لکھا ہے کہ استغاثہ کی دونوں گواہ معافیہ بی بی اور اسما بی بی کے دفعہ 161 کے تحت دیے گئے بیان اور جرح کے دوران دیے گئے بیانات میں فرق پایا گیا ۔ اسی طرح مدعی قاری محمد سلام نے بھی اپنے بیانات میں رد وبدل کیا ۔

عدالتی فیصلے کے ایک پیرا گراف میں واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ  ’جب ملزمہ کو مجمعے کے سامنے لایا گیا تو وہ تنہا تھی ۔ صورتحال ہیجان انگیز اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو خوفزدہ اور غیر محفوظ پایا اور مبینہ اعترافی بیان دیا۔ اسے رضا کارانہ بیان تصور نہیں کیا جا سکتا اور سزا، خاص طور پر موت کی سزا کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔‘

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ حتمی قرار دیا ہے کہ آسیہ مسیح کے ساتھ گواہ خاتون اور اس کی بہن کے ساتھ کھیت میں پانی پلانے پر جھگڑا ہوا تھا اور استغاثہ ملزمہ کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اس لئے آسیہ بی بی کو بری کیا جاتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے