سواتی کے ساتھ جو عدالت میں ہوا

آئی جی اسلام آباد جان محمد نے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے سے معذرت کر لی ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ حالات میں کام نہیں کر سکتا ۔  جان محمد کے بیان کے بعد سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر جاری کیا گیا اپنا حکم واپس لے لیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کا معافی نامہ بھی مسترد کر دیا ہے ۔

ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت میں اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد اور وفاقی وزیر اعظم سواتی پیش ہوئے ۔ وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی معافی مانگ رہے ہیں اور انہوں نے تحریری معافی نامہ جمع کرا دیا ہے، میرا موکل شرمندہ ہے، عدالت سے معافی مانگتا ہے، اگر موکل شرمندہ نہ ہوتا تو معافی نہ مانگتا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر آپ ہر بڑی شخصیت کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے آجاتے ہیں، یہ بتائیں کہ آپ کا لائسنس کتنے دنوں کےلیے معطل کروں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جے آئی ٹی میں نیب،آئی بی اور ایف آئی اے کے بہترین افسران شامل کریں گے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں آرٹیکل 62 ون ایف کا جائزہ بھی لیں گے، ہم پارلیمنٹ کی بے حد عزت کرتے ہیں لیکن طاقت و اختیار کا اس طرح استعمال نہیں ہونے دیں گے، کسی جرگے کی صلح صفائی کو ہم نہیں مانتے ۔
پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے آئی جی جان محمد سے پوچھا کہ آئی جی صاحب بتائیں آپ نے پرچہ درج کیوں نہیں کیا ۔ آئی جی جان محمد نے جواب دیا کہ میں ملک سے باہر تھا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس معاملے میں دوسرا پرچہ درج ہو سکتا ہے، اگر ہوسکتا ہے تو آج ہی درج کریں ۔ چیف جسٹس نے اعظم سواتی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے، یہی رول آف لا ہے ۔

آئی جی جان محمد نے کہا کہ میں ایک ڈسپلن فورس کا آدمی ہوں، میں اپنے تبادلے کے احکامات پر عمل کروں گا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی کی جائیداد کے باہر باڑ لگانے کی تحقیقات کرائیں گے، یہ ذہن میں رکھیں اس ملک کو چلانے کے لیے ایماندار لوگ چاہئیں ۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کی معطلی کے احکامات واپس لے لیے ۔
اعظم سواتی کے اثر و رسوخ کا شکار متاثرہ خاندان بھی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ متاثرہ شخص نیاز محمد نے کہا کہ میں غریب بندہ ہوں، ظلم ہوا لیکن میں نے پاکستان کے ناطے اعظم سواتی کو معاف کر دیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے معاف کردیا تو کریں، ہم تحقیقات کریں گے، جس نے میرے خلاف مظاہرہ کرنا ہے وہ کرے، غریبوں کو دبا دیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کہاں ہے سی ڈی اے والے لوگ جنہوں نے اعظم سواتی کی قبضے کی زمین پر نوٹس نہیں لیا ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد طارق جہانگیری نے کہا کہ متاثرہ خاندان صلح نامے کی بنیاد پر ضمانت پر رہا ہوا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی کو اتنا غصہ ہے کہ آئی جی تبدیل کرا دیا، فریقین کے درمیان صلح ہوگئی ہے لیکن یہ جرم ریاست کےخلاف ہے ۔ اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ اسلامی قوانین کے مطابق صلح ہوجائے تو معافی ہو جاتی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ تعالی نے اسلامی اصولوں کا بہت بڑا نایاب تحفہ دیا ہے، جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں اسلامی اصولوں کو استعمال کیا جاتا ہے، غریب پر ظلم ہوگا تو ہم چپ نہیں رہیں گے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح فون کالز پر کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، اس طرح پولیس افسروں کی عزت خراب کی جاتی ہے ۔پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ کون سے پولیس والے تھے جنہوں نے اعظم سواتی کےخلاف پرچہ نہیں کاٹا ۔ شہزاد ٹاؤن کے ڈی ایس پی نے کہا کہ میرے آفس میں کوئی بھی درخواست نہیں آئی ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ سی ڈی اے والے بتائیں کہ کس نے خاردار تاریں لگائیں؟ ۔ وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق سی ڈی اے کی حدود میں تاریں لگی ہوئی ہیں ۔

اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ سواتی نے قانون میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ماں باپ اور بچوں کو پکڑ کر اندر کرادیا جائے؟ کیا متاثرہ فیملی ان کے مقابلے کے لوگ تھے، ایسے لوگ ملک چلائیں گے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بطور قاضی ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کمرہ عدالت میں اعظم سواتی کی ویڈیو بھی دکھائی جائے گی، اس کیس میں مسئلہ یہ ہے کہ جیسے حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں کیس میں تفتیش کو رہنے دیں، آرٹیکل 62 ون ایف کااطلاق کر دیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وضاحت کریں کیوں نہ اعظم سواتی کو نااہل کر دیں، نیک پارسا،صادق اور امین سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں ۔ سپریم کورٹ نے آئی جی تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیا ۔ عدالت نے قرار دیا کہ جس طریقے سے تبادلہ ہوا اس پر عدالتی کارروائی جاری رہے گی ۔ آئی جی کے تبادلے میں اثر و رسوخ کی تحقیقات کیلئے تین رکنی جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی جو دو ہفتوں میں رپورٹ دے گی ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے