منشا بم جے آئی ٹی رپورٹ

سپریم کورٹ میں قبضہ مافیا منشاء بم کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔

عدالت کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں جے آئی ٹی قائم کی گئی تھی، جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کر دی ۔ رپورٹ کے مطابق منشاء بم حراست میں ہے، اس سے کچھ ریکوری بھی کی ہے ۔

منشاء بم کے خلاف کل 66 مقدمات تھے، ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق 19 زمینوں پر غیر قانونی قبضے سے متعلق تھے، ۹ مقدمات میں تفتیش ہو رہی ہے، پولیس غیر قانونی قبضہ واگزار کرنے میں مدد کر رہی ہے، منشاء بم نے 32 کنال زمین پر قبضہ کر رکھا تھا، قبضہ واگزار کرا لیا گیا ہے، منشاء بم کے خلاف دیوانی مقدمات ہیں ۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ ان معاملات میں رپورٹ پیش کروں گا ۔ عدالت میں ایک شخص محمود اشرف نے کہا کہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں، میرے 9 پلاٹوں پر منشاء بم نے قبضہ کر رکھا تھا، چیف جسٹس کا مشکور ہوں، لاہور پولیس نے تاریخ میں پہلی دفعہ بہت اچھا کام کیا ہے، سول عدالتوں میں مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا، محمود اشرف نے بتایا کہ پلاٹوں سے قبضہ واگزار کرایا گیا ۔

سپریم کورٹ نے سول جج کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایل ڈی اے کو تمام مقدمات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔سماعت دو ہفتوں کےلئے ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے