آسیہ کی رہائی پر مولوی خاموش؟

سپریم کورٹ سے بری کی جانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے ۔ اس بارے میں متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک جا چکی ہیں یا پاکستان میں ہیں لیکن اس پوری صورتحال میں وہ مذہبی طبقہ مکمل خاموش ہے جس نے ایک ہفتہ قبل پورے ملک کو بند کرکے کئی شہروں میں شہری املاک کو نقصان پہنچایا تھا ۔

تحریک لبیک نے آسیہ کی رہائی کو صرف معاہدے کی خلاف ورزی قرار دینے کا بیان جاری کیا ہے لیکن کسی قسم کے دھرنے یا تحریک چلانے کی دھمکی نہیں دی ۔

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی موکلہ کو ملتان جیل سے رہائی کے بعد محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں یا نہیں ۔ اس صورتحال میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ شئیر کی جانے والی وہ ٹویٹ ہے جو یورپی پارلیمنٹ کے صدر انٹونیو تجانی نے کی ہے ۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ آسیہ بی بی جیل سے رہا ہو گئی ہیں اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ میں پاکستانی حکام کا شکر گزار ہوں ۔ میں ان سے اور ان کے خاندان سے یورپی پارلیمنٹ میں جلد ملنا چاہتا ہوں ۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہائی کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بیرون ملک منتقل کر دیا گیا ہے ۔  ابتدائی طور پر آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے نکال کر اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا ۔

تاہم وفاقی حکومت نے اس کی تردید کی ہے کہ آسیہ بی بی بیرون ملک چلی گئی ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کی خبروں کی تردید کی ہے ۔

آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے مدعی محمد سالم نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے، تاہم عدالت عظمی کے طرف سے اس اپیل کو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا ۔ قانون کے مطابق نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی وہی بینچ کرتا ہے جس نے اس مقدمے کا فیصلہ دیا ہو ۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کو رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

دوسری جانب آسیہ بی بی کی رہائی پر تحریک لبیک پاکستان نے رد عمل میں کہا کہ آسیہ بی بی کی رہائی حکومتی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پورے پاکستان کی فضا آسیہ کی رہائی کی خبر سن کر غم و کرب میں مبتلا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے بدعہدی کی سیاہ تاریخ رقم کی گئی ہے ۔

 

وفاقی حکومت نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ اگر تحریل لبیک پاکستان کی قیادت احتجاج کے لیے باہر نکلے تو اس کی قیادت کو گھروں میں نظر بند کر دیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے