سندھ اسمبلی کے سو دن کی کارکردگی

سندھ اسمبلی کی پہلے پارلیمانی سال کے پہلے 105دن ،کیا کارکردگی؟؟

عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com

عام انتخابات 2018اور سندھ اسمبلی پارٹی پوزیشن
وفاق اور دیگر صوبوں کی طرح 25جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں سندھ میں بھی مجموعی طور پر 15ویں اور قیام پاکستان کے بعد 13ویں سندھ اسمبلی وجود میں آئی اور تمام نشستوں پر انتخابات کے بعد 168کے ایوان میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز(پی پی پی پی) کے 99،پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے 30، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان(ایم کیوایم ) کے 21، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے) کے 14، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے 3اور متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) کا ایک رکن ہے۔

پہلے پارلیمانی سال کے 100دن
سندھ اسمبلی نے25نومبر2018ء کو اپنے پہلے پارلیمانی سال کے 105مکمل کرلئے ہیں ۔ اس دوران 3اجلاس میں 28دن کارروائی کے شمار ہوئے ۔ اس عرصے میں گزشتہ 20سال میں پہلی بار ایک ہفتے میں دوبار کورم (25فیصد ارکان )پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی ہوا اور ایجنڈے میں شامل اہم نکات زیر بحث نہ آسکے۔

سندھ اسمبلی کارکردگی
27اپریل1937ء کو بننے والی سندھ اسمبلی کی81سالہ تاریخ کو مدنظر رکھا جائے تو اس کی کارکردگی عمومی طور پر بالخصوص پیپلزپارٹی کے ادوار میں بہتر رہی ہے۔مجموعی طور پرپیپلزپارٹی کا قانون سازی کا ریکارڈ دیگر کے مقابلے میں ہمیشہ بہتر رہاہے۔ 1973ء کا آئین اور2010ء میں ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم واضح مثال ہے۔ پیپلزپارٹی 1971ء سے تا حال مجموعی طور پر سندھ میں 6بار اقتدار میں آئی ہے اور سندھ اسمبلی کی دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں قانون سازی بہتر رہی اور پیپلزپارٹی کا ہمیشہ یہ موقف رہاہے کہ وہ پارلیمانی اداروں کو مستحکم اور مضبوطی پر یقین رکھتی ہے۔

پیپلزپارٹی کا 2018کا انتخابی منشور
پیپلزپارٹی نے عام انتخابات 2018ء کے انتخابی منشور کے صفحہ نمبر 64سے 70تک اسی ضمن میں مختلف امور کا ذکر کیاہے جن میں وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کا وعدہ ہے۔ صفحہ نمبر 70میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہاگیا ہے کہ’’ صوبوں کو دیے گئے ا ختیار ا ت اور مشترکہ شعبوں کے حو الے سے 18و یں ترمیم کے نفاذ کے لیے موجودہ قانونی، ریگولیٹری اور پالیسی ضوابطِ کار میں نمایاں تبدیلیاں یقینی بنائی جا ئیں گی‘‘۔امید تھی کہ پیپلزپارٹی سندھ میں قانون سازی میں نہ صرف اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھے گی بلکہ کارکردگی اور بھی بہتر رہے گی۔ 25جولائی 2018ء کوعام انتخابات ہوئے اور 13اگست 2018ء کو نومنتخب ارکان سندھ اسمبلی نے اپنے رکنیت کا حلف اٹھایا،15اگست کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا،جبکہ16 اگست کو وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا۔ 4ستمبر کو صدارتی انتخاب ہوا اور ا17ستمبر کو 9ماہ کے بجٹ کی منظوری کے لئے اجلاس بلایا گیا اور اب 9نومبر سے سندھ اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔

پارلیمانی نظام میں مجالس قائمہ کی اہمیت
نئی اسمبلی کے پہلے105دنوں میں کئی اہم امور زیر بحث آئے ،تاہم کوئی اہم قانون سازی نہیں ہوئی ہے،جس کی بنیادی وجہ خصوصی اورقائمہ کمیٹیوں نہ بننا ہے۔پارلیمانی نظام میں پارلیمانی کمیٹیاں مقننہ کا اہم جز تصور کی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کمیٹیوں کوماہرین چھوٹی مقننہ بھی قرار دیتے ہیں۔متحرک کمیٹی نظام سے ہی محکموں ،انتظامیہ، منتخب نمائندوں اورعوام کا حقیقی احتساب ممکن ہوسکتا ہے۔قائمہ کمیٹیوں کے کردار کو مستحکم کرنے کا مطلب مقننہ کو مستحکم کرنا ہے۔ اسمبلی کی اپنا اکثر کارروائی کمیٹیوں کے ذریعے ہی سرانجام دیتی ہے۔پارلیمنٹری کمیٹیوں کا نظام اہم معاملات کی بحث کے لئے ایوان کا وقت بھی بچاتا ہے اور قوائد کے مطابق گرفت بھی رکھتا ہے۔ سندھ اسمبلی کے قوائد وضوابط کار2013ء کے رول نمبر167 میں قائمہ کمیٹیوں کے فرائض کا ذکر ہے۔اسی رول کی ذیلی شق 7 کے مطابق’’سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی متعلقہ محکمہ یا اس سے منسلک کسی ادارے کے انتظامی اخراجات ،سپرد کی گئی قانون سازی ،عوامی شکایات اور پالیسیوں کا جائزہ لے سکتی ہے اور نتائج و سفارشات کی رپورٹ محکمہ کو پیش کرسکتی ہے اورمحکمہ اس کا جواب کمیٹی کودو ہفتوں کے اندر پیش کرے گا‘‘۔رول نمبر174کے مطابق کمیٹیوں کو سرکاری ملازمین کو طلب کرنے اور سرکاری ریکارڈ کا معائنہ کرنے کا اختیار بھی ہے ۔

سندھ اسمبلی اور کمیٹیاں
سندھ اسمبلی میں 5 خصوصی اور 34 قائمہ کمیٹیاں ہیں اوربروقت ان کمیٹیوں کا بننا ضروری ہے بصورت دیگر ایک طرف قانون سازی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تودوسری طرف اسپیکر کو مشکلا ت کا سامنا ہوتاہے۔ اس کی واضح مثال 20نو مبر کو پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر سندھ اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر کی جانب سے 22نومبر تک اور 23نومبر کو اجلاس دو بار اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ، مگر پھر بھی کورم پورام نہیں ہوااور اسپیکر نے تیسری بار بھی 26نومبر تک کیلئے ملتوی کیا۔ پرائیویٹ ممبر ڈے اپوزیشن کے لئے اہم ہوتا ہے ۔بزنس ایڈوائزری کمیٹی ہوتی تو اجلاس ملتوی نہ ہوتا ۔

بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی اہمیت
سندھ اسمبلی کے قوائد وضوابط کار2013ء کے مطابق اسمبلی کی کارروائی حکومت اور اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے چلانے کیلئے سب سے پہلے بزنس ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو اسپیکر ، وزیر قانون وپارلیمانی امور اور قائد حز ب اختلاف کی مشاورت سے قائم کی جاتی ہے ، جو اسمبلی اجلاس چلانے کے حوالے سے فارمولہ طے کرتی ہے ۔ مثلا 2013ء کے انتخابات میں بننے والی اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے یہ طے کیاتھاکہ تلاوت قران پاک ، نعت شریف ،دعا ، وقفہ سوالات اور توجہ دلاو نوٹس کے مراحل میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی تاکہ اجلاس کی کاروائی چلتی رہے، یہی وجہ ہے کہ 2013ء سے 2018ء کی اسمبلی کا اجلاس ایک دن بھی کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی نہیں ہوئی۔

قائمہ کمیٹیاں کب تک بننا ضروری؟
سندھ اسمبلی کے قوائد وضوابط کار2013ء کے مطابق سندھ اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کے قیام کے لئے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ 2013ء بننے والی اسمبلی کی39میں سے5خصوصی اور قائمہ کمیٹیاں اسمبلی کی مدت کی تکمیل تک نہیں بن سکیں جن میں ہا ؤس کمیٹی ، گورنمنٹ اشورنس کمیٹی، خصوصی کمیٹی ،قواعد وضوابط کمیٹی اور کنسٹرکشن کمیٹی شامل ہے، جبکہ12قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کا انتخاب نہیں ہوسکاہے۔ان میں زراعت کمیٹی ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کمیٹی ، فنانس کمیٹی، اطلاعات و آرکائز کمیٹی ،آب پاشی کمیٹی ،کچی آبادی کمیٹی ، مائنز اینڈ منرل کمیٹی ،اقلیتی امورکمیٹی ،پاپولیشن ویلفیئر کمیٹی،لینڈ یوٹیلائزیشن وریلیف اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کمیٹی ، جنرل ایڈمنسٹریشن،اینڈ کوآرڈی نیشن ڈپیارٹمنٹ کمیٹی اور امور نوجوانان کمیٹی شامل ہیں۔اس طرح مجموعی طور پر 17 کمیٹیاں عملاً5سال غیر فعال رہیں۔

بلوچستان میں قائمہ کمیٹی کے قیام کی مدت
قائمہ کمیٹیوں کے قیام مدت کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی کے قوائد وضوابط کار بہت اہمیت دی گئی ہے۔بلوچستان اسمبلی کے قوائد وضوابط کار کے رول نمبر 128کے مطابق وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد90 دن کے اندر قائمہ کمیٹیوں کا قیام ضروری ہے۔ پنجاب اسمبلی کے قوائد وضوابط کاررول نمبر 147کے مطابق’’ پنجاب اسمبلی کی اکثر کارروائی کمیٹیوں کے ذریعے ہی سرانجام دیجاتی ہے‘‘۔مختصر یہ کہ موجودہ سندھ اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن پہلے 100دن میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل ناکام رہی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں موجودہ قائد حزب اختلاف کا غیر فعال کردار
اپوزیشن جماعتوں کے مختلف ارکان کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کی بطور قائد حزب اختلاف اب تک کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے اور اگر وہ اسی طرح کام کرتے رہے تو اپوزیشن کا کردار بہت ہی محدود ہوجائیگا اوران کو خود متحرک ہونا ہوگا یا پھر کسی متحرک رکن کو موقع دینا ہوگا۔ فردوس شمیم نقوی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔

سابق اسپیکر اور سینئر پارلیمنٹیرینز نثار احمدکھوڑو کی رائے
نثار احمد کھوڑو پیپلزپارٹی سندھ صدر ہیں اور 1988ء سے مئی2018ء تک 7بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اورقائد حزب اختلاف ، سینئر صوبائی وزیر اور اسپیکر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں ۔راقم الحروف سے گفتگو میں نثار احمد کھوڑوکا کہنا ہے پارلیمانی نظام میں قائمہ اور خصوصی کمیٹیوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ پورا سال کام کرسکتی ہیں ،جبکہ اسمبلی کااجلاس سال میں 100دن ہوتاہے ۔ صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیاں زیادہ بااختیار ہیں وہ کسی کو بھی کارروائی کیلئے طلب کرسکتیں ہیں اور صوبائی اسمبلیوں کی کمیٹیوں کو منع بھی نہیں ہے ۔ اصولی طور پر اسمبلی میں اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر ، وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے بعد حکومت اوراپوزیشن کو فوری مل بیٹھ کر بزنس ایڈوائزری کمیٹی سمیت تمام کمیٹیوں کی تشکیل کرنی چاہیے، اس سے پارلیمانی نظام بہتر سے بہتر انداز میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتاہے۔ موجودہ سندھ اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتے میں دوبار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہونے کے ضمن میں سوال کے جواب میں کہاکہ اصولی طور پر تمام ارکان کو بروقت ایوان میں پہنچ کر کارروائی میں شریک اور کورم پورا کرنا چائے ۔ میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ وقفہ سوال تک کورم کی نشاندھی نہ کی جائے تو اجلاس بروقت شروع ہوکر اس کی کاروائی آگے بڑھ سکتی ہے،تاہم یہ فیصلہ حکومت اوراپوزیشن نے مشاورت سے کرناہے اور یہی کرنا چاہیے ۔ ارکان کی تربیت کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ماضی میں مختلف جماعتوں کے سینئر اپنے نئے ساتھیوں کی تربیت کرتے تھے اور کچھ ہی عرصہ میں بیشتر لوگ سیکھنے میں کامیاب ہوجاتے تھے ۔ حالیہ کچھ برسوں میں مختلف این جی اوز نے یہ کام شرو ع کیا لیکن اس بار ابھی تک تربیت کا مرحلہ شروع نہیں ہوا ہے اس میں ارکان کو خود بھی قوائط وضابطہ کار کا مطالعہ کرکے سیکھنے کی ضرورت ہے ، اس سے ان کی اپنی کارکردگی بھی بہتر ہوگی اور اسمبلی کی کاروائی بھی بہتر سے بہتر انداز میں چل سکے گی۔

سابق قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کی رائے
سندھ اسمبلی کے سابق قائدحزب اختلاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کا کہناہے کہ اسمبلی میں ایڈوائزری کمیٹی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک نہ ہی تو قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی ہے اور نہ ہی ایوان کی کارروائی چلانے کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی فارمولہ طے ہے ،کیونکہ یہ کام بزنس ایڈوائزری کمیٹی کرتی ہے ،اس لیے پہلے مرحلے میں اس کمیٹی کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکموں کی 34کمیٹیوں میں سے یہ طے ہواہے کہ 15کمیٹیوں کے چیئرمین اپوزیشن اور 19کے حکومت سے ہوں گے تاہم حکومت اور اپوزیشن کے پاس کون کون سی کمیٹیاں ہوں گی یہ طے نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے طلب کیے گئے اجلاس میں کورم پورا کرنا بنیادی طورپر حکومت کی ذمہ داری ہے اپوزیشن اپنا حصہ ڈالتی ہے ۔ سندھ اسمبلی کے حالیہ دو اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہوئے ہیں اس میں حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس چلنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن کے اجلاس پر قومی خزانے سے 20سے25لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آتے ہیں اور کارروائی کے بغیر اخراجات کرنا یہ قومی خزانے کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نئے ارکان کی تربیت بھی ضروری ہے اور یہ کام ہماری جماعت پہلے بھی کرتی تھی اور 2016ء کے مشکل ترین حالات کے بعد بھی ہم نے اپنے نئے ارکان کی تربیت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے ۔

سابق ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا کی رائے
سندھ اسمبلی میں2008ء سے2018ء تک ڈپٹی اسپیکر کے فرائض انجام دینے والی خاتون رکن اور صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضا کا کہناہے کہ قائمہ کمیٹیوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے اگر مجالس قائمہ متحرک ہوں گی تو نہ صرف قانون سازی میں بہت بہتری اور تیزی آئے گی بلکہ محکمے بھی متحرک ہوں گے ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ یہ کمیٹیاں جلد ازجلد بنیں ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دس سال میں ہم نے این جی اوز سے مل کر تمام ارکان اور بالخصوص خواتین کی تربیت کیلئے اہم اقدام کیے اس حوالے سے سندھ اسمبلی میں ’’ویمن پارلیمانی کاکس ‘‘بھی بنا، جس میں خواتین کو پارلیمانی تربیت دی گئی اور خواتین ممبران خواتین ، بچوں اور دیگر اہم ایشوز کے حوالے سے کئی اہم بل اسمبلی سے منظور کرانے میں کامیاب ہوئی ، یہ اس تربیت کا نتیجہ تھا ۔خواتین کاکس میں خواتین ارکان نے تربیت کاہمارا تجربہ کامیاب رہاہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس اسمبلی میں شروع کریں۔ انہوں نے کہاکہ کورم پورا ہونا چاہے اس کی ذمہ داری حکومت اپوزیشن دونوں کی ہے۔

تحریک انصاف کے سینئر رکن خرم شیر زمان کی رائے
خرم شیر زمان2013ء میں تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے رکن منتخب اورپھر پارلیمانی لیڈر بھی رہے اور اب بھی ممبر سندھ اسمبلی ہیں۔خرم شیر زمان کا کہناہے کہ کورم پورا کرنا بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے ، اپوزیشن صرف اپنا حصہ ڈالتی ہے ،لیکن ہم نے یہ محسوس کیاہے کہ حکومت اپنا یہ فرض پورا نہیں کررہی ہے ۔ 20نومبر کو اسپیکر نے پرائیوٹ ممبر ڈے کے موقع پر کورم کو بنیاد بنا کر اجلاس ملتوی کیا اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیاہے کہ کورم کے معاملے پر ہم حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، یہی وجہ ہے کہ 23نومبر کے اجلاس میں میں نے خود کورم کی نشاندھی کی تاکہ حکومتی جماعت کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ارکان نئے ہیں اور ان کی تربیت کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے اور میں یہ کوشش کررہاہوں کہ ارکان کی تربیت ہو اسی طرح پارلیمانی کمیٹیوں کے قیام کے لئے ہم حکمت عملی طے کررہے ہیں جلد یہ کمیٹیاں تشکیل پائیں گی ۔

کارکردگی بہتر بنانے کیلئے تجاویز
سندہ اسمبلی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ارکان تربیت عمل فوری شروع کر انا ضروری ہے ،مزید یہ ہے کہ ارکان کو مختلف کارروائی کی افادیت و اہمیت اور معاملات سے آگاہ کیا جائے ۔ فوری طور پر بزنس کمیٹی سمیت تمام قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور اپوزیشن لیڈر کو اپنا کردار متحرک کرنا ہوگاور ساتھ ساتھ اپنی معاونت کیلئے ڈپٹی کے طور پر اپنے کسی ساتھی کا انتخاب بھی کرنا ہوگا۔ مختلف جماعتوں کو ہر 6 ماہ بعد اپنی ارکان کی کارکردگی کاجائزہ لینا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے