اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، جے آئی ٹی

سپریم کورٹ میں اسلام آباد آئی جی تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر اعظم سواتی کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے جے آئی ٹی رپورٹ پڑھی جس میں لکھا ہے کہ سواتی فیملی اور ان کے ملازمین کے بیانات اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ باغ میں گائے گھسنے کا الزام مکمل جھوٹ اور گھڑا ہوا ہے، سواتی کے ساتھ حکام نے خصوصی برتاؤ کیا، اثر و رسوخ استعمال کیا گیا ۔ سواتی نے اپنے دفتر/عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کی جانب سے غریب خاندان  پر تشدد و گرفتاری کے کیس کی سماعت ۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر رپورٹ طلب کی تھی میڈیا رپورٹس کے مطابق سربمہر رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے لیکن میں نے ابھی تک رپورٹ نہیں دیکھیں، عدالت نے رپورٹس میں مختلف سوالات پوچھے تھے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملہ میں بنیادی سوال تو دھونس دھاندلی کا تھا، جے آئی ٹی کو پوچھنا تھا کہ پرچہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں، سنا ہے کوئی آئی جی تشریف لائے ہیں، کیا نئے آئی جی عدالت میں تشریف لائے ہیں؟  عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں جے ائی ٹی نے اعظم سواتی کا موقف مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ اعظم سواتی نے غلط بیانی کی اور وفاقی وزیرکے ساتھ خصوصی رویہ اپنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ۔

وکیل علی ظفر نے عدالت میں بحث کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ اعظم سواتی کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نوٹس کر دیتے ہیں اور ان پر فرد جرم عائد کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنا جواب جمع کرائیں ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کتنے ایکڑ پر اعظم سواتی نے قبضہ کر رکھا ہے؟ تو ان کے وکیل علی ظفر نے سوال کا جواب دیئے بغیر کہاکہ ان کے موکل بیرون ملک ہیں وہ تین دسمبر کو واپس آئیں گے ، جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل سے کہاکہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ۔ بعد ازاں عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی اعظم سواتی کے وکیل کو فراہم کونے کا حکم دے دیااور ان سے تحریر ی جواب طلب کرلیا ، چیف جسٹس کا وکیل سے کہنا تھا کہ  آپ اعظم سواتی کو بلا لیں یا پھر میں بلا لیتا ہوں۔ کیا ایسے شخص کو وزیر رہنا چاہیے یا رکھنا چاہیئے ۔

عدالت نے اعظم سواتی کے وکیل کی آئندہ بدھ تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی ۔ تاہم وکیل نے مزید وقت پر اصرار کیا تو چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ چار بجے تک جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھ کر آ جائیں ۔ ہمارے سامنے کوئی وزیر شزیر نہیں اعظم سواتی ایک عام شہری ہیں ۔ علی ظفر ایڈووکیٹ نے کہاکہ اعظم سواتی اس وقت ویانا میں ہیں۔

اس دوران متاثرہ خاندان کے افراد نے بتایا کہ ان کا تصفیہ ہوچکا ہے تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی عزت کے لیے ہم لڑ رہے ہیں۔ آپ کو کیا حق ہے آپ معافی دے دیں؟ کوئی معافی نہیں ہو گی ۔ دریں اثناء جے آئی ٹی کی طرف سے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی، رپورٹ 5 والیمز  پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیااورپولیس نے وقوعہ ہونے کے بعد آغاز سے ہی درست انداز میں تحقیقات نہیں کی جبکہ پولیس کے رویے سے پولیس کی ارادتا لاپرواہی سامنے ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے اعظم سواتی فیملی کے موقف کو ہی آگے بڑھایا ۔ تاہم متاثرہ فیملی کے نیاز حسین نے بتایا کہ جرگہ کے دباو پر راضی نامہ کیا گیا کیونکہ بطور پشتون جرگہ کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔ راضی نامہ کے بعد اعظم سواتی کی اہلیہ متاثرہ فیملی کی خواتین کے لیے کپڑے لیکر آئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی اہلیہ نے بیٹے کو سکول داخل کروانے کی بھی پیشکش کی ۔ عثمان سواتی کے ایک ملازم نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے رقم بھی آفر کی تاہم متاثرہ فیملی نے رقم لینے سے انکار کر دیا۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی فیملی نے راضی نامہ سے متعلق تمام اقدامات سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے بعد کئے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے