بغاوت اور دہشتگردی کے مقدمات درج

حکومت نے خادم رضوی اور افضل قادری کے خلاف بغاوت اور دہشتگری کے الزامات کے تحت مقدمات درج کئے ہیں ۔ یہ بات وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پریس کانفرنس میں بتائی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر تمام ادارے قانون کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ چوہدری فواد کے مطابق کچھ شرپسند عناصر نے نظام کو تہہ بالا کرنیکی کوشش کی، احتجاج کا یہ مطلب کا نہیں لوگوں کے جان و مال اور املاک کھولیں۔

چوہدری فواد نے کہا کہ جو احتجاج قانون کے دائرہ سے باہر ہو اس پر ریاست خاموش نہیں رہ سکتی، تحریک لبیک نے پاکستان کے آئین کو للکارا۔ چوہدری فواد کا کہنا تھا کہ

احتجاج کے دوران لوٹ مار کیساتھ گاڑیاں جلائی گئیں۔ سیرت النبی کانفرنس میں دنیا بھر کے علما نے کہا کہ جو تحریک لبیک نے کیا وہ عاشقان رسول نہیں کرسکتے۔ آپریشن میں ریاست کے تمام اداروں نے مشترکہ طور پر شریک تھے۔ اپوزیشن اور میڈیا ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے اور سپورٹ کیا۔اپوزیشن سے کئی معاملات پر تلخی ہے۔

چوہدری فواد نے بتایا کہ پنجاب سے 2899، سندھ سے 139، اسلام آباد سے 126 لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ تحریک لبیک کے رہنماؤں کیخلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے، خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کا مقدمہ لاہور میں درج کیا گیا ہے۔ افضل قادری کو گجرات میں بغاوت اور دہشتگردی کے الزام میں چارج کردیا گیا ہے۔ پانچ کروڑ کے لگ بھگ سرکار کی املاک کو نقصان پہچانے والوں کو چارج کیا جارہا ہے۔ان افراد کیخلاف جو الزامات ہیں عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے