پختونخوا میں بہتری کی صرف باتیں ہی کیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اسپتالوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کام مکمکل نہیں کر سکی، انفکشن پھیل رہے ہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پشاور کے دماغی ہسپتال کی حالت اب بھی خراب ہے، وہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح باندھ کر رکھا جاتا ہے۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے پختونخوا میں اسپتالوں کے مواد ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق صوبائی سیکرٹری صحت نے پیش ہو کر بتایا کہ رپورٹ جمع کرائی ہے، پی کے میں 63 سرکاری ہسپتال ہیں جن کا مواد جمع ہوتا ہے، یہ اسپتال روزانہ 4 ہزار 1 سو 73 کلو فضلہ پیدا کرتے ہیں ۔ اس میں سے 3693 کلو گرام فضلہ تلف کرنے کیلئے مشینیں موجود ہیں ۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ 158 نجی ہسپتال ہیں جو روزانہ 860 کلو ویسٹ بناتے ہیں، اس میں سے 532 کلو تلف کر لیا جاتا ہے، سرکاری اسپتالوں کے تمام فاضل مواد کو ٹھکانے لگانے کیلئے 200 ملین روپے کا بجٹ مختص کر دیا ہے، مزید مشینیں لا کر دسمبر 2019 تک یہ کام مکمل کر لیا جائے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے وزیر کیوں نہیں آئے، ہر بار سیکرٹری آ جاتے ہیں، آپ کہتے تھے کہ ہم نے کے پی میں کمال کر دیا ہے، گزشتہ پانچ سال بھی کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہی تھی نا، فضلہ تلف کرنے کے معاملے میں اب بھی کوتاہی کی جا رہی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اسپتالوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کام مکمکل نہیں کر سکی، ہر بار آتے ہیں اور مزید مہلت لیتے ہیں ۔

سیکرٹری نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے بعد کام شروع کر دیا ہے، جو ہسپتال فضلہتلف نہیں کرتے ہیں اس پر جرمانہ کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جرمانہ کرتے رہیں اگر کسی کو انفیکشن ہو جائے تو اس کا کیا کرنا ہوگا ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن نجی ہسپتالوں میں فضلہ تلف کرنے کے آلات ہیں ان سے بات کیوں نہیں کرتے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس فیصل عرب نےکہا کہ ایک ہزار کلوگرام کا فرق رہ گیا ہے، کئی مشینیں استعداد کے مطابق کام بھی نہیں کرتیں ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پنجاب میں 26 مشینیں منگوائیں، چار ماہ میں باہر سے درآمد کرکے کام بھی شروع کر دیا اور اب کسی بھی اسپتال کا فاضل مواد تلف کرنے سے نہیں بچتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب پنجاب کے ہسپتالوں میں فضلے کی موجودگی صفر ہے ۔

چیف جسٹس نے عدالتی حکم نامہ لکھوایا کہ ہر دو ماہ کے بعد پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، سماعت دو ماہ کے لئے ملتوی کرتے ہیں ۔ اس کے بعد ریمارکس دیے کہ پشاور کے دماغی ہسپتال کی حالت اب بھی خراب ہے، وہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح باندھ کر رکھا جاتا ہے، کسی کو احساس نہیں کہ وہ بھی انسان ہیں، مینٹل ہسپتال میں لوگوں کو باندھ کر اور لٹکا کر رکھا ہوا ہے جا کر کسی نے دیکھا ہے، کس چیز پر بلند و بانگ دعوے کرتے رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت پختونخوا کو مخاطب کر کے کہا کہ صرف کہتے رہتے ہیں کہ وہاں سب کچھ اچھا بنا دیا ہے، اگر آپ کو یقین نہیں آتا ہے تو چلیں دوبارہ وہاں کا دورہ کر لیتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہاں پر اب بھی زائدالمیعاد دوائیاں دی جا رہی تھیں ۔ سیکرٹری ہیلتھ  نے کہا کہ عدالتی احکامات کے بعد اب وہاں بہتری آئی ہے، جن دواؤں کے بارے میں عدالت نے نشاندہی کی تھی وہ بھی فراہم کر رہے ہیں ۔

سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اسپتالوں سے متعلق رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے