جج کے میاں شریف کی وصیت پر ریمارکس

العزیزیہ ریفرنس میں نیب پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل ہو گئے ۔ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ملزمان ریکارڈ پیش کر دیتے جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ دادا کے زیر کفالت تھے،ملزمان ریکارڈ بغل میں رکھ کر اسے ڈھونڈنے کا کہتے رہے، ملزمان کی متفرق درخواست میں میاں محمد شریف کی وصیت کا ذکر ہے ۔ جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ قطری کے خطوط میں نہ تو میاں شریف کی وش کا ذکر ہے نہ ہی ول کا، یہ تو وہ خواہش ہے کہ جس خواہش پر دم نکلے ۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی، نواز شریف گھٹنے میں تکلیف کے باعث عدالت پیش نہ ہوئے، عدالت نے آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی ۔

العزیزیہ ریفرنس میں تیسرے روز نیب نے حتمی دلائل مکمل کر لئے، نیب پراسکیوٹر واثق ملک نے بیان میں کہا کہ ہل میٹل سے ٹوٹل 97 فیصد رقم پاکستان آئی جسکا 88 فیصد منافع نواز شریف کو ملا، سپریم کورٹ میں قطری کے پہلے اور دوسرے خطوط میں تضاد ہے، جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ قطری کا رولا شروع کہاں سے ہوا؟جب قطری آیا ہی نہیں تو اسکے خطوط کی کیا حیثیت ہے؟کیا ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کیلئے قطری سے رقم نہیں آئی؟ نیب پراسکیوٹر بے بتایا کہ ملزمان کے مطابق کاروبار شروع کرنے کیلئے سیڈ منی قطری نے فراہم کی، جج نے ریمارکس دیئے کہ قطری کےبھیجے پیسے میں اتنی برکت ہو گئ کہ ہر طرف کاروبار پھیل گیا،،،جج نے مزید کہا کہ جوڈیشری جا سب سے بڑا مسئلہ عدالت میں جھوٹ بولنے کا کلچر بن گیا ہے، مدعی، وکیل اور ملزم سب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، جج سے انصاف کی توقع کی جاتی ہے، بالکل ایسے جیسے دال چنا دے کر کہا جائے کہ اس میں سے بوٹیاں نکالو،

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کومبر سے پیسے بھجوانے کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا العزیزیہ کی وضاحت نہیں کی گئی، ملزمان بغل میں ریکارڈ رکھ کر کہتے رہے کہ یہ ڈھونڈیں،، جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ ملزم مزید کون سے دستاویزات پیش کر سکتے تھے جو نہیں کیں؟ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ ملزم کمپنیوں کی ان کارپوریشن سرٹیفیکیٹ، بینک ریکارڈ اور میمورنڈم آف آرٹیکل پیش کر سکتے تھے، اس سے کمپنیوں کی رجسٹریشن اور سرمایہ کاری کا پتہ چلتا،، جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ کیا نیب تسلیم کرتا ہے کہ یہ سب میاں شریف کی سرمایہ کاری تھی؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ملزمان کا ڈیفنس ہے کہ سرمایہ کاری کی، نیب اسے تسلیم نہیں کرتا، العزیزیہ کا اتنا بڑا سیٹ اپ تھا کوئی دکان نہیں جو اتنی جلدی کام شروع کر دے، یہ سارے عناصر وائٹ کالر کرائم میں آتے ہیں ۔

بار ثبوت سے متعلق دلائل میں نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ نائن اے فائیو کے تحت تمام جزو پورے کئے ہیں، اگر گدھوں یا گھوڑوں پربھی رقم منتقل کی ہوتی تو ثبوت دیتے، پراسکیوٹر نے آمدن سے زائد اثاثہ کیس سے متعلق ہانگ کانگ، انڈیا اور دیگر ملکوں کے قانونی حوالے بھی دئے، کل سے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث العزیزیہ ریفرنس میں حتمی دلائل کا آغاز کریں گے، فلیگ شپ ریفرنس میں نواز کا 342 کا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے