نواز شریف کی موجودگی میں انصافی حکومت پر ریمارکس

عمران خان کی درخواست پر بنی گالہ تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے موجودہ حکومت کے بارے میں ریمارکس دیے ۔ اس دوران عدالت میں نواز شریف بھی موجود تھے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان چھٹیوں پر ہیں انہوں نے کیس ملتوی کرنے کی درخواست دی ہے ۔سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین نے بتایا کہ جس ایڈیشنل اٹارنی کے ساتھ سروے کرنا تھا وہ دستیاب نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کو تو حکومت نے نکال دیا ہے، وہ زیادہ لبرل اور سچی بات کرنے والے تھے، اسی وجہ سے نکال دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہر وہ شخص جو انصاف کیلئے کھڑا ہوتا ہے حکومت اسے نکال دیتی ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ وزیراعظم کا گھر ریگولرائز ہوا یا نہیں ، پیشرفت رپورٹ دیں ۔ کیا انہوں نے درخواست دی؟کیا انہی کی وجہ سے ریگولرائزیشن میں تاخیر ہورہی ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نایاب گردیزی نے بتایا کہ کیس کی فائل انہیں تاخیر سے ملی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فائل دیکھ کر بتائیں۔کس کس نے گھر ریگولرائز کرنے کےلیے رجوع کیا؟ کس کس نے فیس جمع کرائی؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بجلی اور گیس کے کنکشن کےلیے ماحولیات اور دیگر اداروں سے اجازت لینا ہوگی۔اس کیس میں اب کچھ نہیں رہ گیا، ریگولرائزیشن سی ڈی اے کا کام ہے وہی کرے۔۔وزیر اعظم جو پالیسی بنائیں اسے ماسٹر پلان سے مشروط کردیں ۔
عدالت نے وزیراعظم کا گھر ریگولراز ہونے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی ۔

سپریم کورٹ نے بنی گالہ کے نباتاتی باغ کا قبضہ واگراز کرانے کا حکم دیدیا، سی ڈی اے بنی گالہ کے نباتاتی باغ پر قبضہ کی گئی تمام زمین کو واگزار کرائے، عدالت نے قرار دیا کہ قبضہ واگزار کرانے کیلئے پولیس سی ڈی اے کیساتھ تعاون کرے، عدالت

سی ڈی اے قبضہ واگزار کراکے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے، عدالت

آئی جی پولیس قبضہ واگزار کرنے کیلئے سی ڈی اے سے مکمل تعاون کرے، عدالت

سی ڈی اے بنی گالہ کی نباتاتی زمین پر قبضے کی اراضی اپنی تحویل میں لے، عدالت

عدالتی حکم سے متاثرین کے بنیادی حقوق متاثر ہونگے، وکیل ظفر علی شاہ
جن افراد کا سی ڈی اے گلہ دبائے گا وہ کہاں جائیں گے، ظفر علی شاہ

بنی گالہ اراضی بارے انفرادی افراد کے حقوق کا بعد میں جائزہ لیں گے، عدالت

بنی گالہ کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا، جسٹس اعجاز الااحسن

بنی گالہ کے حوالے سے سی ڈی اے اور حکومت کو پالیسی واضح کرنی چاہیے تھی،

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ عدالت میں لیکر آنے خود بھی آج نہیں آئے، اگر بنی گالہ کیلئے اتنا ہی رومانس تھا تو اس کے لیے کچھ کام بھی کریں، گزشتہ حکومت نے بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کیا، نئی حکومت کو آئے ہوئے بھی کافی دیر ہوچکی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنی گالہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں لیکر آنے والے خود عمومی التوا لیکر چلے گئے ۔

وزیراعظم عمران خان نے سی ڈی اے ماسٹر پلان کا مکمل جائزہ لینے کیلئے کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے، ایڈووکیٹ سردار اسلم

عدالت نے فن اینڈ جوائے کی لیز منسوخ کرنے کا حکم دیدیا

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے