ہندو کمیونٹی کی زمین پر قابضین کو نوٹس

سپریم کورٹ نے سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ھندو کمیونٹی کی جائیدادوں پر قبضے کرنے والے تمام افراد کو نوٹس جاری کئے ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لاڑکانہ کی تمام متنازعہ زمینیں عدالت اپنے قبضے میں لے گی ۔

ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم لاڑکانہ کے جوڈیشل افسران اور انتظامیہ کو کہیں گے کہ وہاں ان جائیدادوں کا تحفظ کرے۔ عدالت کو معشوق علی جتوئی نے بتایا کہ لاڑکانہ کی جس زمین کی بات کی جارہی ہے وہ ھمیں فروخت کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زمینیں اب نہ آپ کی رھینگی نہ ان کی ھم اس پر قبضہ کرتے ہیں ۔ معشوق جتوئی نے کہا کہ آپ جو فیصلہ کریں ھمیں قبول ہے ۔

جب تک اس زمین پر کوئی کاشت نہیں ہوگی جب تک زمین ھمارے قبضے میں ہو گی چیف جسٹس

ھمارے وہاں سینکڑوں گھر ہیں۔ باقی زمین خالی پڑی ہے۔ معشوق علی جتوئی

ہندو کمیونٹی کو ہراساں کیا جا رہا ہے، رمیش کمار

عدالت نے کمیٹی بنائی تھی اس نے رپورٹ دی، جن لوگوں کو رپورٹ پر اعتراض ہے وہ دیوانی مقدمہ دائر کر سکتے ہیں، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی عدالت میں سب مقدمات بھیج دیئے جائیں، جن لوگوں نے مبینہ طور پر قبضے کئے ہیں عدالت نے ان کا موقف طلب کیا تھا، چیف جسٹس

قابضین کی ایک فہرست بنا کر دے دیں، چیف جسٹس کا رمیش کمار ونکوانی سے مکالمہ

میں فہرست بناکر دے دیتا ہوں، رمیش کمار

ناجائز قابضین کو ڈپٹی کمشنر اور سیشن جج لاڑکانہ نوٹس جاری کریں

تحصیلدار 44 ایکڑ متنازعہ زمین اپنے قبضے میں لے، زمین سے حاصل ہونے والا کرایہ کنٹرولر کے پاس جمع ہوگا۔ اس کیس کا فیصلہ عدالت کریگی ضروری ایکشن تین دن میں لیا جائے ، عدالت

مجھے پتہ ہے اس میں ساری بدمعاشی ہے۔ چیف جسٹس

اگر ہو سکے تو عدالت اس کیس میں تمام افراد کی زمینوں پر حکم دے، ایڈوکیٹ جنرل سندہ سلیمان طالب الدین

ابھی ھم نے یہ ایک ٹیسٹ کیس لیا ہے باقی فریق بھی آئیں تو مزید دیکھیں گے۔ چیف جسٹس

مجھے علم ہوا ہے کہہ کرسچن کمیونٹی کے پلاٹ پر قبضے ہوئے ہیں، چیف جسٹس

سماعت 24 دسمبر تک ملتوی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے