ریلوے کا ٹریک کھانے والے

اسلام آباد( رپورٹ : خالدہ شاہین رانا )
سپریم کورٹ نے” 1998میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں چکوال کے ایک ٹرانسپورٹر رکن صوبائی اسمبلی کے ویگنوں کے مقامی اڈے کو کامیاب بنانے،ریلوے ٹریک کا لوہا ”ملک کی اہم سیاسی شخصیت” کی فائونڈری کی نذر کرنے اور اراضی پر ایک وفاقی وزیر کو قبضہ کرنے کا موقع دینے کے لئے گٹھ جوڑ سے انگریز کے دور میں بھون سے مندرہ تک بچھایا گیا 75 کلومیٹر لمباٹریک ختم کرنے اور ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قیام، قبضوں اور کاروباری مقاصد کیلئے دینے ” کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین ریلوے سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پروفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو وضاحت دینے کیلئے طلب کرلیا ہے جبکہ ملک بھر میں چاروں صوبوں کی ریلوے کے زیر استعمال اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کے حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں کو 3روز کے اندر اندرتفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت24دسمبر تک ملتوی کردی ہے،

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریلوے کی اراضی کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی کو لیز پر نہیں دی جاسکتی ہے،یہ اراضی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ملکیت ہوتی ہے، جسے ریلوے سمیت کوئی بھی ادارہ فروخت نہیں کرسکتا ہے ، شیخ رشید تو کہتے تھے کہ انہوں نے اپنی وزارت میں اصلاح کرنی ہے، کیا اب تک یہ بہتری آئی ہے؟

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے جمعہ کے روز از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار ملک فدا الرحمان کی وکیل افشاں غضنفر نے موقف اختیار کیا کہ انگریز کے دور میں 1886 میں بھون سے مندرہ تک 75 کلومیٹر لمباٹریک بچھایا گیا تھا اور ٹرین کو وہاں سے نکلنے والی معدنیات کی باربرداری اور مسافروں کو بروقت راولپنڈی لانے لے جانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، مسافروں سے بھری ہوئی ٹرین صبح سویرے چکوال سے راولپنڈی کے لئے نکلتی تھی اور ملازمت پیشہ افراد نہایت معقول کرائے میں ہی اپنے دفاتر میں پہنچ جاتے تھے اور بعد میں شام کے وقت بھی وہ اسی سہولت کے ساتھ چکوال پہنچ جاتے تھے ، جسے 1998 میں وہاں کی برسراقتدارسیاسی قیادت اور مقامی ٹرانسپورٹ مافیا کے گٹھ جو ڑ سے ختم کر دیا گیا جس پر میرے موکل و مقامی صحافی ملک فدا الرحمان نے اس حوالے سے روزنامہ نو ائے وقت میں میں ایک کالم لکھا تھا ۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین ریلو ے کو طلب کیا تھا ، جنہوں نے عدالت میں لکھ کر دے دیا تھا کہ وہاں پر دوبارہ ٹرین چلانے پر غور کیا جائے گا اور پاکستان ریلوے کی اراضی پر کسی کو بھی قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا ،فاضل وکیل نے بتایا کہ نہ تو آج تک ٹریک دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی پاکستان ریلوے کی ا ربوں روپئے کی اراضی کی حفاظت کی جا سکی ہے جس کے نتیجے میں جگہ جگہ پر بااثر لوگوں نے ریلوے کی کالی بھیڑوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے غیر قانونی طور پر قبضے کرلئے اور تعمیرات کرکے کاروبار جمالئے ہیں جبکہ چکوال کے ہی ایک نواہی قصبہ ڈڈیال میں ریلوے کی اراضی پر ہائوسنگ سوسائٹی تک قائم کرلی ہے ،انہوںنے کہاکہ ہم نے کئی سال تک انتظار کے بعد پچھلے سال چیئرمین ریلوے کے خلاف توہین عدالت کی یہ درخواست دائر کی ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین ریلوے حاضر ہیں تو ریلوے کے لیگل ایڈوائزر طاہر پرویز نے کہاکہ ڈی ایس حاضر ہیں ،انہوں نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ ریلوے نے بھون سے مندرہ تک 75 کلومیٹر ٹریک کی 45کلو میٹر کا مٹیریل فروخت کردیا تھا جبکہ باقی ریلوے ورکشاپ میں لے گئے تھے ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ریاست پاکستان کی اراضی ہے، ریلوے یا کوئی بھی دیگر ادارہ اسے سرکاری مقاصد کی حد تک تواستعمال کرسکتا ہے لیکن اس پر کوئی ہا ئوسنگ سوسائٹی یا کرایہ پر لگانے کے لئے کوارٹر ز نہیں بنائے جا سکتے ہیں، ریلوے سمیت تمام اداروں کی ساری اراضی ہی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ملکیت ہوتی ہے، فاضل ایڈوائزر عدالت کو کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ بر اہ راست ہی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو ہی یہاں طلب کرکے اس حوالے سے پوچھ لیا جائے ؟وہ تو کہتے تھے کہ انہوں نے ریلوے کے نظام میں اصلاح کرنی ہے، کیا یہ بہتری آئی ہے؟بعد ازاں فاضل عدالت نے چیئرمین ریلوے سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پروفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو بھی ضاحت دینے کیلئے ذاتی طور پر طلب کرلیا جبکہ ملک بھر میں چاروں صوبوں کی ریلوے کے زیر استعمال اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کے حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں کو 3روز کے اندر اندرتفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت24دسمبر تک ملتوی کردی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے