ماں کا انتظار

فیصل حکیم

چار سال گزر گئے، میرے بیٹے تمھیں ہم سے بچھڑے لیکن یوں لگتا ہے کہ ابھی تمھاری آواز گھر کے کسی کونے سے سنائی دے گی۔۔لیکن چار سال ہوگئے کوئی تمھاری صدا سنائی نہیں دیتی، صبح جب تمھارے بابا اور بھائی کےلئے ناشتہ بناتی ہوں تو ناشتہ کی ٹیبل پر میری نظریں اس خالی کرسی پر ہوتی ہیں جہاں تم میرے قریب بیٹھتے تھے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تم کہو گے ماما کتنی بار کہا مجھے مکھن نہیں پسند۔۔۔پھر آج مکھن پلیز آملیٹ بنا دیں میں نے آملیٹ کھانا ہے، لیکن ایسی کوئی آواز نہیں آتی جس کو سننے کےلئے میرے کان ترس گئے۔
جب تمھارا بھائی سکول جانے کےلئے تیار ہوتا ہے تو میری نظریں آج بھی تمھارے کمرے کی طرف ہوتی ہیں کہ شاید تم ابھی نکلو گے اور مجھے کہو گے ماما مجھ سے ٹائی صحیح طریقے سے نہیں بندھ رہی آج باندھ دیں پلیز۔۔کل سے خود باندھ لوں گا ۔۔۔میں کہوں گی تم بڑے ہوگئے ہو بیٹا اپنے کام کرنا خود سیکھو ۔لیکن چار سال ہوگئے ایسا نہیں ہوتا صرف میرا گمان ہوتا ہے۔
میرے بیٹے آج بھی جب تمھارا بھائی بابا کے ساتھ سکول جانے کےلئے گاڑی میں بیٹھتا ہے تو فرنٹ سیٹ خالی ہوتی ہے کیونکہ وہاں بابا کا شیر بیٹھتا تھا، وہ شیر جو دعویٰ کرتا تھا کہ بابا میں نے آپ کا نام روشن کرنا ہے اس ملک کانام روشن کرنا ہے خالی سیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے دل چیختا ہے لیکن مجھے اپنا غم چھپانا ہے تمھاری دوری کا ۔
میرے بیٹےآج بھی تھمارا کمرہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح سولہ دسمبر کو چار سال قبل تھا میں روزانہ جاتی ہوں تمھارا کمرہ احتیاط سے صاف کرتی ہوں تمھاری مسکراتی تصویریں مجھے تمھارے قریب کر دیتی ہیں کچھ دیر کےلئے مجھے تم اپنے پاس محسوس ہوتے ہو۔ تمھارا وہ فٹبال جس سے تم کھیلتے تھے آج بھی تمھارےکمرے میں اسی طرح اپنے مقام پر رکھا ہے، جہاں تم نے اپنے ہاتھوں سے رکھا تھا۔تمھارے بوٹ اور چپل آج بھی اسی طرح بکھرے ہیں جس طرح سولہ دسمبر کو بکھرے چھوڑ کر گئے تھے میں انہیں نہیں ہلاتی بس دیکھتی رہتی ہوں۔
میرے بیٹے سکول سے چھٹی کے وقت جب تمھارا بھائی واپس آتا ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ ابھی گیٹ کھلے گا اور تم ایک کونے میں چھپ جاؤ گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔۔۔اب تو تمھارا بھائی اکیلا واپس آتا ہے۔ میری نظریں اب بھی تمھیں ڈھونڈتی ہیں۔ میں جب بھی تمھارے بابا کے ساتھ تمھارے بھائی کو سکول جاؤں میری نظریں اس گیٹ پر ہوتی ہیں جہاں سے تم سکول کے اندر داخل ہوتے تھے۔ جب دن ڈھلنا شروع ہوتا ہے تو تمھارا بھائی صحن میں اکیلا بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔میں انتظار کرتی ہوں کہ تم ابھی اپنا فٹبال لیکر نکلو گے اور اسے کہو گے چلو فٹبال کھیلنے چلتے ہیں گراؤنڈ ۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

میری آنکھیں تمھارا راہ تکتی رہتی ہیں۔چار سال کی مسافت شاید کئی صدیوں کی مسافت محسوس ہوتی ہے۔میرے بیٹے میں تو دنیا کی نظروں سے اپنا غم اپنے دکھ چھپائے بیٹھی ہوں، جب رات ہوتی ہے تو اکثر آنکھیں نم ہوتی ہیں تماری راہ تکتے تکتے تمھاری یاد میں شاید تو اسوقت تمھارے بابا اکثر دلاسہ دیتے ییں۔مجھے دلاسہ دیتے ہیں اور خود رات کو اٹھ کر چھپ چھپ کر روتے ہیں۔۔کبھی تمھارے کمرے میں جا کر۔کبھی تمھارے ہاتھ کے لکھے کارڈ دیکھ کر۔۔۔بس چھپ چھپ کر روتے ہیں اور میں بھی انکا بھرم ٹوٹنے نہیں دیتی۔۔کیونکہ ان کو اپنے شیر کادکھ ہے۔اور اس دکھ کا کوئی مداوا کر نہیں سکتا ۔ میرے بیٹے مجھے یقین کہ ایک دن ہماری ملاقات ضرور ہوگی ہم ایکدن ضرور اکھٹے ہونگے اس جہاں میں نہ سہی۔میرے بیٹے میرا انتظار طویل ضرور ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ میرا رب مجھے تم سے ضرور ملائے گا اور میں تمھیں دیکھ سکو گی اپنے قریب رکھ سکوں گی ۔ جہاں کسی درندے کا ڈر نہیں ہوگا، جہاں امن و آشتی ہوگی اور ہم خوش ہونگے ۰۰۰ بس میرا انتظار طویل ضرور ہے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا

متعلقہ مضامین