حکومت چار ماہ میں ایک قانون منظور نہ کر سکی، چیف جسٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر پر سپریم کورٹ نے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حکومت چار ماہ میں ایک قانون نہ منظور کرا سکی ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل بتائیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کیلئے حکومت کیا کررہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ہدایت کی تھی، پتہ تو لگے کہ پیش رفت کیا ہے ۔

اٹارنی جنرل پیش رفت سے بے خبر نکلے اور کہا کہ معلوم کرکے بتائوں گا۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت میں ایک اور وکیل نے کھڑے ہو کر بتایا کہ کابینہ نے اسلام اباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی منظوری دے دی ہے ۔ اسی دوران دوسرے مقدمے میں روسٹرم پر کھڑے وکیل بابر اعوان نے بتایا کہ منظوری دی جا چکی ہے، پہلے آرڈی ننس جاری ہوگا، پھر جوڈیشل کمیشن ججز کے تقرر کے لئے طریقہ کار کے مطابق سفارشات کرے گا ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری قانون نے کل مجھے فون کیا تھا، مجھے اصل پوزیشن کا معلوم ہونا چاہئیے، اسلام آباد ہائی کورٹ مکمل غیر فعال ہوچکی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو چار ماہ ھوگئے ایک قانون منظور نہیں کر سکی، عدالت کو اٹارنی جنرل حکومتی موقف سے آگاہ کرے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس کاسی کی ریٹائرمنٹ اور جسٹس شوکت صدیقی کو نکالنے کے بعد عدالت میں صرف تین ججز رہ گئے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button