آف شور کمپنیاں بنانے والے جج کا مقدمہ

سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان سے آف شور کمپنی بنانے کی منی ٹریل طلب کر لی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کی گئی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کونسل کے چیئرمین جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ جج صاحب نے کمپنیاں بنائیں، اُف شور کمپنیوں کے زریعے بیرون ملک پراپرٹی خریدی گئی، کیا پیسہ بیرون ملک کمایا یا پاکستان سے گیا، منی ٹریل کی وضاحت جج صاحب نے خود کرنی ہے۔

جوڈیشل کونسل کے چیئرمین جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بیرون ملک جائیداد خریدنے کی جوابدہی تو دینی ہے ۔  اس سے قبل پانچ رکنی جوڈیشل کونسل نے ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا تو ریجنل ٹیکس آفیسر لاہور سرمد قریشی کونسل میں پیش ہوئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ریجنل ٹیکس آفیسر نے جسٹس فرخ عرفان کے ٹیکس گوشوارے پیش کئے ۔

جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ کونسل نے صرف جسٹس فرخ عرفان کے 2011،2012 اور 2010 کے ٹیکس ریٹرن مانگے تھے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جوڈیشل کونسل نے وکیل حامد خان کا اعتراض مسترد کر دیا ۔  استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ جج صاحب کے 2010 سے آگے ٹیکس ریٹرن ریکارڈ پر موجود ہیں، ڈاکٹر سرمد قریشی 2001 اور 2002 کے ٹیکس ریٹرنز لائے ہیں ۔

وکیل استغاثہ نے کہا کہ جسٹس فرخ عرفان نے 2003 سے 2006 تک گوشوارے داخل نہیں کیے، ڈاکٹر سرمد جج صاحب کے ویلتھ ٹیکس کے ریکارڈ بھی لائے ہیں، جج صاحب کو آف شور کمپنی پر نوٹس بھی ریجنل ٹیکس آفیسر نے جاری کیا، استغاثہ نے کہا کہ نوٹس آف شور کمپنی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر جاری کیا ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے نمائندے نے جسٹس فرخ عرفان کی پانچ کمپنیوں کا ریکارڈ پیش کیا ۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل کو اپنا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے آٹھ جنوری تک کی مہلت دے دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے