نیب ایک درخواست پر پگڑیاں اچھالتا ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں اسپتالوں کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے نیب حکام پر سخت غصہ ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے چیئرمین نیب کو خود یہ رعایت دی تھی کہ وہ عدالت میں پیش نہ ہوں یہ رعایت یا استحقاق ان سے واپس لے لیتے ہیں ۔

تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ شہر کے مضافات میں صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کا مسئلہ تاحال موجود ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ سی ڈی اے نے اسپتال کیلیے زمین فراہم کرنا تھی، کیا ہوا ۔ عدالت کو سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ 237 کنال اراضی نرسنگ اسپتال کیلئے حوالے کی جانی تھی مگر نیب نے نوٹس جاری کرکے تفتیش شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہے ۔

چیف جسٹس نے سخت غصے میں کہا کہ بلائیں نیب کے چیرمین کو، ایک درخواست پر نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دیتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے خود چیرمین نیب کو پیش نہ ہونے کی رعایت دی تھی، ہم چیئرمین نیب سے یہ رعایت واپس لے لیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کدھر ہے نیب کا پراسیکیوٹر جنرل، یہ کام ہیں نیب کے ۔

عدالت میں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر عمران الحق کھڑے ہوئے اور بتایا کہ پوچھ کر ہی آگاہ کر سکتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے سارے پاکستان کو بدنام کرنا شروع کر دیا ہے، نیکی کا کام بھی شروع ہوتا ہے تو نیب ٹانگ اڑا دیتا ہے، ساڑھے بارہ تک نیب حکام عدالت میں جواب دیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکام ناکام رہے تو چیرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں بلائیں گے ۔ عدالت نے چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر نیب چیمبرز میں طلب کرنے کا حکم جاری کیا ۔

نیب پر برہم چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے وکیل سے پوچھا کہ سی ڈی اے کیلئے عدالتی حکم اہم ہے یا نیب کا؟ پھر بولے کہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب فوری طور پر چیمبر میں پیش ہوں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی تحقیقات کرنے کا کوئی معیار ہے یا نہیں، بحرین حکومت دس ارب روپے دینے کو ترس رہی ہے ۔

چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا کہ کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاوتر ہیں، نیب سپریم کورٹ کے احکامات کی تزلیل کروا رہا ہے، ہر معاملے میں نیب انکوائری شروع کر کے کام روک دیتا ہے، کس نے کس نیت سے درخواست دی اور نیب نے کارروائی شروع کر دی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ نیب چیئرمین سابق جج ہیں، سابق سپریم کورٹ ججز کو عدالتی حاضری سے استثنی خود ہم نے دیا، کیا نیب کے علاہ سب چور ہیں، کیا سارا پاکستان چور ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے بھی آ جائیں ۔

بعد ازاں نیب کے چیئرمین اور سی ڈی اے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مختص کی گئی زمین فوری طور پر سی ڈی اے متعلقہ محکمے کے حوالے کرے تاکہ اس پر نرسنگ اسپتال کی تعمیر کی جا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے