سپریم کورٹ میں ٹی وی ریٹنگ کیس

میڈیا لاجک اور بول وی وی ریٹنگ کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے بول ٹی وی سے پیمرا ریٹنگ ڈیٹا کی تصدیق کے لئے تیکنیکی کمپنی کی اور ماہرین کے نام طلب کر لئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے درخواست گزار اینکر سمیع ابراہیم سے کہا کہ ہمیں ماہر یا کمپنی کا نام دے دیں ہم خود ڈیٹا ریٹنگ کی تصدیق کروا لیں گے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ٹی وی چینلز کے ریٹنگ کے نظام کو درست کرنے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کے وکیل نیئر رضوی نے بتایا کہ ہم نے جواب جمع کرا دیا ہے اور چیئرمین پیمرا پر عائد جرمانہ بھی ڈیم فنڈ میں دے دیا ہے ۔

پیمرا کے وکیل نئیر رضوی نے بتایا کہ ریٹنگ ڈیٹا کے آڈٹ کے لیے دنیا کی تین کمپنیوں کو مہارت حاصل ہے، بیرون ممالک موجود ان کمپنیوں سے چھ ماہ پہلے وقت لینا پڑتا ہے، پیمرا نے خود سے ریٹنگ کمپنیوں کے ڈیٹا کی تصدیق کروا لی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے بتایا کہ پیمرا کی جانب سے لائسنس یافتہ ریٹنگ کمپنیوں کے ڈیٹا کو پچاسی ٹی وی چینلز حاصل کر رہے ہیں، ابھی تک بول ٹی وی نے پیمرا کی منظور کردہ ریٹنگ حاصل نہیں کیں، جب بول نے سبسکرائب نہیں کیا ہے تو شکایت کیسے لے کر آسکتا ہے ۔

چیف جسٹس نے پیمرا کے حکام کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ موثر کام کرتے تو عدالت مداخلت نہ کرتی، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور میڈیا لاجک کہ اجارہ داری اپنی جگہ لیکن پیمرا نے اپنے طور پر کچھ بھی نہیں کیا، ٹیلی ویژن چینلز ریٹنگ پر چلتے ہیں، اگر چینل کو ریٹنگ نہیں ملے گی تو کاروبار کیسے کرے گا ۔

چیف جسٹس نے بڑے چینلز مالکان اور ریٹنگ کمپنی کے گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مافیا کو توڑنے کی کوشش کی، کوششوں تھی کہ اوپن مارکیٹ ہو کسی کا حق نہ مارا جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجازاالاحسن چار ریٹنگ کمپنیوں کو ڈیٹا دینے کو کہا، ہم نے کہا تھا کہ ڈیٹا کی تصدیق بھی کرائی جائے ۔ پیمرا کے وکیل نے کہا کہ ریٹنگ کمپنیوں کو عبوری طور پر ریٹنگ کی اجازت دی گئی، بول ٹی وی کے پاس اپنی ریٹنگ ایجنسی ہے مگر رجسٹرڈ نہیں کروائی ۔

درخواست گزار بول ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز سمیع ابراہیم نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کہتا ہے کہ ہم نے ڈیٹا کی تصدیق کی ہے اور پھر کہتا ہے کہ ہمارے پاس مہارت نہیں ۔ جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ یہ تو کسٹمر کی مرضی ہے کہ وہ جو بھی ڈیٹا لیں، یہ ریٹنگ کمپنیاں تو پرائیویٹ ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق چینل کو دیکھے جانے کی بنیاد پر بزنس ملتا ہے، پرائیویٹ کمپنیوں اور پرائیوٹ کاروبار میں پیمرا کیا کر سکتا ہے ۔

سمیع ابراہیم نے کہا کہ جیسے پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ کی کوالٹی چیک کرتی ہے اسی طرح پیمرا بھی کوالٹی چیک کرتا ہے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ قانون بتا دیں کس قانون کے تحت پیمرا ایسا کرے، قانون ہی نہیں ہے تو پیمرا کو ہم کیسے حکم دیں، اگر ڈیٹا درست نہیں ہے تو پیمرا کیا کر سکتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تمام میڈیا کمپنیوں کو لیول پلے گراونڈ مہیا کیا ہے، کیا پیمرا کے قواعد کو فالو کیا جا رہا ہے، پیمرا نے خود اپنے رولز کو لاگو کرنے کے لئے کیا کیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پیمرا کے وکیل پیمرا اپنے قوانین پر ہر صورت عمل درآمد کرواتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بہت ساری ریٹنگ کمپنیاں موجود تھیں ایک کمپنی کی ساکھ اچھی ہونے کی وجہ سے اس کی ریٹنگ لی جاتی تھی، اگر کسی کو اس کی ریٹنگ پسند نہیں تو وہ دوسری کمپنی سے ریٹنگ لے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جیسے گیلپ سروے مشہور ہے لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے قانون دیکھنا ہے کیسے کہیں کہ بول کو تیسرے نمبر پر ریٹنگ دیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ ریٹنگ کمپنیاں کیسے کام کریں گی اس پر علمدارمد ہو ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ پیمرا کے بنائے گئے قوانین میں آڈیو، ویڈیو اور واٹر مارک سمیت مستقبل کی ٹیکنالوجی ڈیٹا کے استعمال کے لئے کہا گیا تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بنائے گئے قواعد ہمارے فیصلے کے مطابق ہیں؟ پیمرا کے وکیل نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈر کے ساتھ ملکر قواعد بنائے، قاعدہ سات میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا کے لئے آڈیو، ویڈیو یا واٹر مارک اور مستقبل کی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس پر عملدرآمد کیا ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پیمرا کے وکیل نے کہا کہ واٹر مارک کی ٹیکنالوجی صرف ڈیجٹیل سسٹم کے لئے ہے انالاگ کیلئے نہیں ہے، ہمارا زیادہ تر انحصار کیبلز پر ہے ڈیجٹیل نہیں ہوا اس لئے ایسی ٹیکنالوجی ممکن نہیں ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ ریٹنگ کا ڈیٹا جیسے پہلے آتا تھا وہی آ رہا ہے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئی آزاد ماہر ہے جو ڈیٹا کی جانچ کر سکے؟ انہوں نے سمیع ابراہیم سے کہا کہ آپ کوئی ماہر بتا دیں ہم ڈیٹا کی تصدیق کروا لیتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سمیع ابراہیم نے کہا کہ مجھے ایک دن کا وقت دے دیں، میں صرف نہ صرف ماہر بلکہ کمپنیاں بھی بتا دوں گا ریٹنگ ڈیٹا کی جانچ کرکے بتا دیں گی کہ درست ہے یا نہیں تصدیق کریں گی ۔

عدالت نے ڈیٹا کی تصدیق کیلئے ماہر اور ایکسپرٹ کمپنیوں کے نام طلب کرتے ہوئے سماعت دس جنوری تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے