جعلی بنک اکاؤنٹس بھی نیب دیکھے

سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے جعلی بنک اکاؤنٹس کے مقدمے میں جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پر نیب کو مزید تفتیش کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ سے بلاول بھٹو، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور وکیل فاروق نائیک کے نام نکالنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جے آئی ٹی کے افسران سے پوچھا کہ رپورٹ میں بلاول کا نام کس کی ڈکٹیشن پر شامل کیا؟ ہم نے تو کبھی جے آئی ٹی پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔

چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے ایک رکن سے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب ہم نے تو آپ سے کبھی ایسا کرنے کو نہیں کہا پھر کس کے حکم پر یہ کیا گیا؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق  چیف جسٹس نے کہا کہجے آئی ٹی میں نے بنائی اور میری طرف سے جے آئی ٹی پر کوئی دباؤ نہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی بتائے اس نے کس کے کہنے پر بلاول بھوت کا نام ای سی ایل میں ڈالا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کیریئر ابھی تک بے داغ ہے۔ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے بلاول کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ انکے والد اور پھوپھی کا تو اس معاملے میں کوئی کردار ہو گا لیکن بلاول کا کیا کردار ہے؟

جے آئی ٹی اس حوالے سے مطمئن کرے۔ چیف جسٹس

جے آئے ٹی رپورٹ کے صفحہ ستاون پر پارک لین کی ایک پراپرٹی کا زکر ہے۔ وکیل جے آئی ٹی فیصل صدیقی

اس جائیداد کو جعلی اکاؤنٹس سے خریدا گیا۔ اس جائیداد میں بلاول بھٹو کے پچیس فیصد شیئر ہیں۔ وکیل جے آئی ٹی

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر شیئر ہیں تو کیسے ثابت ہوا کہ بلاول نے کوئی جرم کیا ئے، جائیداد کو منجمد کر دیتے ہیں لیکن اس بنیاد پر بلاول کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button