جے آئی ٹی رپورٹ سے ہوا نکال دی گئی

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام ایگزٹ کنٹرول فہرست سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے نیب کو تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ چیف جسٹس نے زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی حمایت کرنے والے وکیلوں سے کہا کہ جے آئی ٹی سے ہم سے گزر کر فاروق نائیک تک جائے گی، ہم ان کے ساتھ ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کا تعلق اس مقدمے سے نہیں بنتا تو ان کا نام ای سی ایل میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟ ۔ جے آئی ٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ لندن پارک لین کی ایک پراپرٹی میں بلاول بھٹو کے نام پر 25 فیصد شیئرز ہیں جس کی وجہ سے ان کا نام رپورٹ میں آیا ۔

وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ 32 جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ تھا اور گیارہ جعلی کمپنیاں تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت اومنی گروپ کے پرانے اور نئے جواب دیکھ لے ۔ دسمبر کے اختتام تک موقف کچھ اور تھا، جب تک جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں آئی تھی عدالت سے جھوٹ بولا جاتا رہا ۔

اس سے قبل اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ یہ سب بدنیتی پر مبنی ہے اور سارے الزامات ہیں جن کا حقائق سے تعلق نہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ موقف ٹرائل کے دوران اختیار کر لیں ۔

پیپلز پارٹی کے وکیلوں فاروق نائیک اور لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں میں جو بلاول بھٹو زرداری کا حصہ بتایا جا رہا ہے اس کے مطابق رقم کی ایک منتقلی اس وقت ہوئی جب بلاول کی عمر ایک سال تھی، اور دوسری اس وقت ہوئی جب وہ چھ سال کے تھے ۔

وکیلوں کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ جلد بازی میں تیار کی گئی اور کا کوئی جواز سمجھ نہیں آیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں بنتا تو نہ صرف ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے بلکہ جے آئی ٹی سے رپورٹ کا بھی بلاول سے متعلق حصہ ڈیلیٹ کر دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ ایک اہم عہدے کے مالک ہیں اور اس عہدے کی ہمیں عزت محفوظ رکھنا ہے، کیا وزیراعلی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا پاکستان کے مفاد میں ہے؟ بین الاقوامی طور پر ہماری بدنامی ہوگی کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں وزیراعلیٰ کے ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر نیب چاہے تو وہ جے آئی ٹی کو رپورٹ کو اپنی تحقیقات کی بنیاد بنانے کے بجائے ایک اطلاعی رپورٹ کے طور پر پیش کر سکتی ہے ۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button