جسٹس فرخ عرفان کی آف شور کمپنی کا ریفرنس

اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل نے آف شور کمپنیاں بنانے والے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کے خلاف کھلی عدالت میں ریفرنس کی کارروائی کرتے ہوئے دفاع کے دس گواہان کے بیانات قلمبند کر کے ان پر جرح مکمل کر لی ہے ۔ کونسل نے ہائیکورٹ کا تمام ریکارڈ سیل کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے ۔

چیئرمین میاں ثاقب نثار کی زیرصدارت پانچ رکنی کونسل کے سامنے جسٹس فرخ عرفان کے حق میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا بیان حلفی جمع کرایا گیا ۔ جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ہم نے سابق چیف جسٹس صاحبان کے بیانات حلفی جمع کرائے ہیں، کونسل ان کو طلب کرکے بیان لے ۔

کونسل کے چیئرمین جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر سابق چیف جسٹس صاحبان آپ کی محبت میں آنا چاہیں تو بے شک آ جائیں، ہم سابق چیف جسٹس صاحبان کو طلب نہیں کریں گے، جنھوں نے بیان حلفی دیا ہے انھیں کہیں خود آنا چاہیں تو آجائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ  کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم سابق چیف جسٹس صاحبان کو طلب کریں اور لکھیں فلاح جج صاحب کا بیان درست نہیں ۔

کونسل کے رکن جسٹس گلزار احمد نے دفاع کے وکیل سے کہا کہ وکلاء حضرات نے کس طرح جسٹس فرخ عرفان کے حق میں بیان حلفی جمع کرائے، وکلاء کیوں جسٹس فرخ عرفان پر مہربانی کر رہے ہیں، کیا پریکٹس کرنے والے وکلاء اس طرح بیان حلفی دے سکتے ہیں، وکلاء کیوں فریق بن گئے ہیں ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جو وکلاء جسٹس فرخ عرفان کے حق میں بیان حلفی دے رہے ہیں کل انہوں نے عدالت میں اسی جج کے سامنے پیش ہونا ہے ۔

کونسل کے سامنے گواہ سابق جج اسد منیر نے بیان دیا کہ جسٹس فرخ عرفان کی آف شور کمپنی سے متعلق مجھے علم نہیں ۔ جسٹس آصف سعید نے پوچھا کہ آپ لائرز فورم کی طرف سے فرخ عرفان کۓ ساتھ بیرون ملک گئے کیا ٹکٹ کا خرچ خود کرتے رہے ۔ گواہ اسد منیر نے جواب دیا کہ میں نے ٹکٹ خود بھرا تھا ۔ استغاثہ نے کہا کہ دیگر گواہوں کو کمرے سے باہر بھیجا جائے ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دیگر گواہان کو کمرہ عدالت سے باہر بھیجنے کی ضرورت نہیں، کھلم کھلا گواہان کو بلائیں ۔

کونسل کے چیئرمین ثاقب نثار نے دفاع کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ کہیں تو ہم خود آواز لگا دیتے ہیں فلاں گواہ حاضر ہو ۔ سابق صدر لاہور بار چوہدری زوالفقار سے استغاثہ کے وکیل نے سوال کیا کہ بار انتخابات میں کس گروپ کا تعاون حاصل تھا ۔ جسٹس فرخ عرفان کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ غیر متعلقہ سوال پوچھا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خان صاحب (حامد خان) کے گروپ کا تعاون حاصل رہا ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اعتراض نہ کریں سوال آنے دیں ۔ کونسل کے چیئرمین جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم گواہوں یا ججوں کی تضحیک نہیں کرنا چاہتے، آج یا کل ٹرائل مکمل ہوجائے گا ۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ کونسل گواہ سے سوال پوچھنا چاہے تو پوچھ سکتی ہے ۔ چیئرمین کونسل ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے سوال پوچھا تو گواہ باہر چلا جائے گا ۔ گواہ نے کہا کہ میں دیوانی مقدمات کا بہترین وکیل رہا ہوں، عرفان اینڈ عرفان لاء فرم سے دو یا تین مقدمات میں پیش ہوا ہوں گا ۔ گواہ نے بتایا کہ ٹیکس تفصیل یا پاناما پیپرز میں جسٹس فرخ عرفان کی آف شور کمپنی بارے علم نہیں ۔

چیئرمین کونسل نے پوچھا کہ کسی ایک کیس کا عنوان بتائیں جس میں آپ پیش ہوئے ہم مکمل فائل منگوا لیتے ہیں ۔ وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ کونسل گواہان کیساتھ سختی کم کرے ۔ چیئرمین کونسل ثاقب نثار نے کہا کہ کیا سختی کم کریں جھوٹا بیان حلفی پیش کیا گیا، جھوٹے بیان حلفی پر وکلاء کا مستقبل تباہ ہو جائے گا، میں تڑی نہیں لگا رہا، وکلاء نے بڑا رسک لیا ۔
گواہ مدثر حسن نے کہا کہ میں دو ہزار دس سے لاہور میں پریکٹس کررہا ہوں، جسٹس آصف سعید نے کہا کہ بیان حلفی میں تو لکھا ہے 2012 سے وکیل ہیں، سچ بولیں، اللہ کو جواب دینا ہے ۔ کونسل نے گواہ سے سوال کیا کہ جسٹس فرخ عرفان نے کب خود کو عرفان اینڈ عرفان لاء سے الگ کیا، گواہ نے کہا کہ تاریخ 27 یا 28 ہوگی،

چیئرمین کونسل نے کہا کہ فرخ عرفان کے کتنے فیصلے رپورٹڈ ہیں، جسٹس فرخ عرفان صاحب شریف آدمی ہیں، فرخ عرفان بطور وکیل کتنے مقدمات میں پیش ہوئے، گواہ محمد اسلم نے کہا کہ ہائیکورٹ میں سال میں 8 سے 10 مقدمات میں پیش ہوئے ہوں گے،

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کی بطور وکیل ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات لڑنے اور رپورٹڈ فیصلوں کی تفصیل طلب کر لی
گواہ سید محمد بلال نے بتایا کہ جسٹس فرخ عرفان کے جج بننے سے قبل اثاثوں کی مالیت 302 ملین تھی یہ مجھے علم نہیں، 2009 میں جسٹس فرخ عرفان کے اثاثوں کی تعداد ایک ارب پانچ سو ملین روپے تھی مجھے اس کا علم نہیں ۔

چیئرمین کونسل نے کہا کہ سارے ملازم بیان حلفی دے رہے ہیں، ایک نقطے پر کتنے بیان حلفی دیں گے، کونسل نے گواہ سید فدا کو پیش کردہ بیان حلفی سادہ کاغذ پر دوبارہ لکھنے کی ہدایت کی ۔ چیئرمین کونسل نے ایڈووکیٹ حسن عرفان سے کہا کہ آپ مداخلت نہ کریں، بیٹھ جائیں، آپ کے جو گواہان ہیں اُن کے نام لکھوا دیں ۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمارے مرکزی گواہان نے پاکستان کے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا ہے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بھی بطور گواہ پیش کرنا چاہتے ہیں ۔کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے بیان حلفی میں جسٹس فرخ عرفان کو اچھا آدمی کہا ہے، سابق چیف جسٹس بطور گواہ آئیں گے تو اُن پر جرح بھی ہو گی، جسٹس فرخ عرفان اپنی دیانت داری کا ثبوت دیں ۔
وکیل نے کہا کہ ہمیں یہ طعنہ نہ ملے کہ ہمارا جج پانامہ لیکس کا ہے،

چیئرمین کونسل چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا ہائیکورٹ کا جج کتنا مظبوط، کتنے پانی میں ہے، ہمیں سب معلوم ہے، جسٹس فرخ عرفان نے آٹیکل 10 اے کا حق دیے بغیر ایک شخص کو اندر کرا دیا، بیرون ملک جائیداد خریدنا کوئی جرم نہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ بتا دیں جائیداد جائز طریقے سے کمائے پیسے سے خریدی ، پیسہ بیرون ملک جائز طریقے سے بجوایا گیا،  ہمیں پتہ ہے کس جج کے عدالتی فیصلے کا کیا معیار ہے، ہمیں پتہ ہے کون سا جج کتنے پانی میں ہے، ہمارے فیصلے عوام کو پتہ ہوتے ہیں ۔ حامد خان نے جواب دیا کہ بار کے طور پر ہمیں بھی پتہ ہوتا ہے ۔

چیئرمین کونسل ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے افتخار محمد چوہدری صاحب کا بیان حلفی جمع کرایا، افتخار محمد چوہدری صاحب کو نہ بلوائیں، افتخار چوہدری صاحب کی اپنی بھی زات ہے پتہ نہیں کیا ہوگا، چیئرمین کونسل میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کل سے رات 8 بجے بیٹھیں گے، ڈھائی بجے تک کونسل کی کارروائی ہوگی، ٹھیک ہے پھر کل افتخار محمد چوہدری صاحب کو رات 8 بجےلے آئیں، کھانا میری طرف سے ہوگا،

چیئرمین کونسل ثاقب نثار نے کہا کہ انشاءاللہ اتوار سے دلائل شروع ہو جائیں گے، گفٹ ڈیڈ غیر رجسٹرڈ ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button