درد؛ درویش اور دہشتگردی

وہ شام کا وقت تھا۔ سردہوتی ہوئی ہوا میں سورج تیزی سے بجھ رہا تھا۔ پہاڑشفق کے رنگوں سے بھر گئے تھے ۔ وادی میں موجود کجھور کے درخت خاموش کھڑے تھے۔ وہ منظر کسی مصور کے تصور جیسا تھا۔ جو منظر اچانک نغارے پر پڑنے والی چوٹ سے جاگ گیا۔ شاہ نورانی کے مزار کے آس پاس لیٹے ہوئے لوگ بیٹھ گئے اور بیٹھے ہوئے لوگ کھڑے ہوگئے اور سب کے پیر اس طرف بڑھنے لگے جس طرف نعرہ مستانہ کے ساتھ رقص دیوانہ شروع ہو چکا تھا۔
یہ دھمال کا وقت تھا۔ اس وقت سارے ساز بجنے لگے تھے۔ سارے جسم ہوا سے الجھنے لگے تھے۔ فولادی کنگن والی کلائیوں سے جڑے ہوئے ہاتھوں میں مچلتے ہوئے چمٹے قیدی عشق کی آزاد پکار بن گئے تھے اور ہرن کے سینگ سے بنی ہوئی اک ناد فریاد بن کر گونج ۔ اس وقت کسی کو یاد نہیں تھا کہ کون شہری ہے اور کون دیہاتی؟ وہ دھمال کی دھول جس میں ہر رنگ اور ہر جنس کا پھول پورے ماحول کو گل دستہ بنا دیتا ہے۔ کچھ ایسا منظر اور کچھ ایسی کیفیت تھی اس وقت جس وقت ان فقیروں اور دیوانوں کے درمیاں ایک دہشتگرد بھی موجود تھا۔
دھمال کے دوراں ایک دھماکہ ہوا اور شاہ نورانی کی مزار چیخ و پکار کے شور سے بھر گئی۔ یہ پہلی بار ہوا تھا۔ مزار کے قریب رکے ہوئے درخت اور بہتے ہوئے چشمے اور اڑتے ہوئے دھوئیں کے ساتھ ساتھ نزدیک نظر آنے والے مگر بہت دور کھڑے پہاڑوں نے نہ پہلے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی۔ سب کی سماعتیں آشنا تھیں ان آواز کے ساتھ جو محبت کی پکار بن کو گونجتی تھیں۔ وہاں کسی کو کبھی نہیں روکا گیا۔ جو بھی آیا اس کے وادی نے اپنی کھلی بانہوں سے خوش آمدید کہا۔ ہم جن لوگوں کو ایک مسلک کے لوگ سمجھتے ہیں ان میں بھی بہت سارے مسلک ہوتے ہیں۔ مگر اس دربار کے در ہر دیوانے پر کھلے ہوئے ہوتے تھے اور وہاں کوئی الغوزے بجانے آتا اور کوئی اپنے تنبورے کی تاروں کو چھیڑتا اور کوئی اک تارا بجاتا اور کوئی صرف دل کے صدائیں سنانے آتا !! کسی کو کبھی کسی نے منع نہیں کیا اور وہاں کے چرند پرند صرف انہیں آوازوں سے آشنا تھے مگر اس شام بم کے دھماکے کی آواز بہت مختلف تھی اور وہ خاموش وادی میں بہت دور تک سنی گئی اور اس آواز کے بعد مزار کے سامنے والے میدان میں جب لوگ تڑپنے لگے اور کٹے ہوئے اعضا سے خون کے پھوارے نکلنے لگے تب پہاڑوں کی آنکھیں بھی بھر آئیں!!
’’یہ دہشت نہیں یہ وحشت ہے!! ‘‘ اس رات ستاروں نے کہا۔
’’یہ توبے حسی کی انتہا ہے‘‘پہاڑوں سے گذرتی ہوئی سسکیوں جیسی ہوا سرگوشیاں کرتی رہی۔
’’کیا بھنبور کا شہر پھر لٹا گیا؟‘‘ایک ویران پہاڑ میں بھاگتے ہوئے ہرن نے اپنے ساتھ سے پوچھا!!
یہ وحشت بھی تھی اور بے حسی بھی۔ اس خطے کی سنگ دل سیاست نے اس علائقے میں کارروائی کی جس علائقے میں شکار کو بھی نفرت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
وہاں امیر نہیں آتے۔ وہاں فقیر آتے ہیں۔ وہاں وہ نہیں آتے جو اپنے مال پر مست ہوتے ہیں۔ وہاں وہ آتے ہیں جو اپنے حال پر مست ہوتے ہیں اور ان کو کچھ سوالات شروع سے ستاتے رہتے ہیں ۔
یہ علائقہ تصوف کے ان روحانی راستوں مجموعہ ہے جس کا بیان کسی کتاب میں نہیں۔ وہ لوگ نہ ’’ہمہ اوست‘‘ کی صدا بھی نہیں لگاتے۔ بس خاموشی سے چلتے رہتے ہیں۔ جب بہت تھک جاتے تب وہاں کچھ دیر کے لیے پڑاؤ ڈالتے ہیں اور پھر سفر کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے اپنا کوئی شاگرد کوئی مرید اور کوئی عقیدت مند بیحد عاجزی سے پوچھتا ہے کہ ’’سائیں منزل کہاں کرنی ہے؟‘‘ تب ان کے سوکھے ہونٹوں پر پہاڑی پھولوں جیسی مسکراہٹ کھل اٹھتی ہے اور وہ بڑی شفقت سے کہتے ہیں کہ ’’بابا! منزل کوئی نہیں۔ سب کچھ سفر ہے!!‘‘
وہ معصوم مسافر تھے۔ جن کے لیے شاہ نورانی کے آنگن کو مقتل بنایا گیا۔
اور ان کے قاتل اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ جن فقیروں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ہے؛ وہ ایسی کارروائیوں سے نہ ڈرتے ہیں اور نہ اس قسم کے حملوں کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے بات کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ’’تو تم کو اس طرح آنا تھا‘‘ پھر و مسکرا دیتے ہیں۔
یہ حملہ داعش نے کیا یا کسی اور نے!! جس نے بھی یہ جرم کیا ہے اس کو معلوم ہونا چاہئیے کہ اس نے انسا نوں کو نہیں بلکہ ان احساسات کو نشا نہ بنایا ہے جن کے پاس محبت کے سوا اور کچھ نہیں۔
یہ ایک مزار پر نہیں اس محبت پر حملہ تھا جس کے کشادہ دائرے میں ایک مزار بھی تھا۔
وہ مقام جس کو دہشتگردی کے لیے منتخب کیا گیا وہ کوئی پکنک پوائنٹ نہیں۔ وہ مقام جھل مل کرتی ہوئی روشنیوں میں جھومتے ہوئے اس شہر سے دوسو کلومیٹر دور ہے اور راستے میں نہ ہوٹلز ہیں اور نہ ریسٹوارنس اور نہ فاسٹ فوڈ پوائنٹس!!
یہ راستے ایسے ہیں جیسے راستوں کے لیے مغربی میڈیا عام طور پر 147Road Less Traveled148 والے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یعنی وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ ’’دشواری کی وجہ سے ان راستوں پر مسافروں کے قدموں کے نشاں کم پڑتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ راستے مشکل تو بہت ہیں مگر پھر بھی وہاں بہت سارے لوگ آتے ہیں۔ اور صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین اور بچے بھی دل دے نعرے لگاتے چلتے رہتے ہیں۔
ان دہشتگردوں کو معلوم ہونا چاہئیے کہ انہوں نے ساٹھ کے قریب زائرین کو نہیں بلکہ ان امیدوں اور ان آنسوؤں اور ان مسکراہٹوں کو قتل کیا ہے جو دنیاوی مطلب سے ماورا تھے۔
انہوں نے بارود کے ساتھ ان آنکھوں کو بجھایا ہے جو ساری رات ستاروں کی طرح چمکتی رہتی تھیں۔
انہوں نے ان ہاتھوں سے بازؤں سے الگ کیا ہے جو دشمن کے لیے بھی دعا مانگا کرتے تھے۔
انہوں نے ان پیروں کو اپنی ٹانگوں سے توڑ کر الگ کیا ہے جن کے تلووں کو پہاڑی دھرتی عقیدت سے چوما کرتی تھی۔
اب وہ آواز خاموش ہیں جو منظوم اندزسے بتاتے تھے کہ :
’’آنکھیں تو ہیں آنکھیں؛ مگر مجھے پیروں پر غرور
وہ روتی ہیں چند قطرے اور یہ رہتے ہیں زخموں سے چور
جو تب تک نہیں ہوتے مجبور؛ جب تک نہ پہنچے محبوب تک‘‘
ہماراماڈرن میڈیا اس حقیقت نہیں جانتا کہ جس علائقے میں دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے وہ علائقہ ویسے تو ویران ہے مگر اس ویرانی کو صدیوں سے ان درویشوں اور فقیروں نے آباد رکھا ہے۔
ان درویشوں کے لیے یہ دھرتی بڑی معنی خیز ہے۔ اس لیے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان دھماکوں کے بعد یہ ویرانہ عقیدت مندوں کی آمد کے حوالے سے بھی ویران ہوجائے گا!!
ایسا کبھی نہیں ہوگا!!ایسا ہونا بھی نہیں چاہئیے اور ایسا ہوگا بھی نہیں!!
اس واقعے پر ہمارے نام نہاد ماڈرن میڈیا نے وزیروں؛ مشیروں اور اسیمبلی ممبروں سے تو پوچھا ہے مگر اس میڈیا نے اپنا بے دماغ مائک کسی صوفی مزاج شخص کی طرف نہیں بڑھایا اگر وہ ارشاد سائل جیسے انسان سے پوچھتے کہ ’’آپ شاہ نورانی کے مزار پر ہونے والے دہشتگرد حملے پر کیا کہیں گے؟‘‘ تو وہ جواب دیتے ’’یہ حملہ کر کے جہالت کے نمائندے کس کو ڈرا رہے ہیں؟ ان فقیروں کو جو جسم کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور جو فنا کی راہ کے مسافر ہیں!!‘‘
مگر اس بات کا احساس کسی کو نہیں۔
اور وہ بات جو بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیا وہ اس سوال کا جواب دے پائے گی کہ ہزاروں عقیدت مندوں والے اس مزار کے قریب کوئی ہسپتال کیوں نہیں ؟ اور عقیدت مندوں کے لیے مزار تک پہنچنے والے راستے بنانے سے حکمرانوں اور انتظامی افسروں کوکس بیرونی ہاتھ نے روکا ہے؟
یہاں پر صرف بہانے بنانے والی باتیں ہوتی ہیں!!
کون جو اس درد کو جان پائے جو پہاڑوں میں پوری پوری رات بے قرار رہتا ہے!!
آدھی رات ؛ ایدھی ایمبولنسوں کا قافلہ؛ بغیر سائرن بجائے؛ صرف اپنی سرخ بتی جلائے ؛ بلوچستان سے سندھ کی طرف روانہ ہے اور اس سنگریز راستے پر کہیں کہیں کسی شہید یا کسی زخمی کے خون کا قطرہ گرتا ہے اور پتھر پر جذب نہیں ہوتا اورسنگ میل بھی نہیں بنتا!!
کہتے ہیں کہ یہ وہ راستے ہیں جن پر کبھی سسی نے اپنے پیار اپنے پنہوں کے لیے ننگے پیروں کے ساتھ سفر کیا تھا۔ اور جب بے خبری کی وہ پورے دور جیسی ایک طویل رات تاریخی تابوت کے ساتھ دفن ہوئی۔ جب کیچ مکران میں بے وفائی کا موسم اپنی انتہا کو پہنچا ۔ جب محبت نے احساس جرم سے جنم لیا۔ تب کسی شاعر کو خیال آیا کہ وہ کیچ مکران کی طرف جاتے ہوئے پہاڑی راستے کو پکار کر کہے:
’’اے پہاڑ کے پتھرو! اٹھو اور اس کے پیروں کو چومو
اس عورت کے علاوہ کون تمہیں لہو سے لال کرے گا؟‘‘
اس صدا کو بھی ایک مدت بیت گئی۔ وہ وعدہ فراموشی کی شکایت بھی دم توڑ گئی۔ مگر وہ پہاڑ اسی طرح کھڑے رہے جس طرح انہیں نے اپنی پتھر آنکھوں سے سسئی کو آخری بار لڑکھڑاتے دیکھا تھا۔ اور سسئی کی اذیت کو محسوس کرتے ہوئے ان راستوں پر شاہ لطیف میلوں پیدل چلے تھے۔وہ پہاڑ جن کی فطری گلیوں سے دن کو گرم اوررات کو سرد ہوا آتی ہے۔ ان پہاڑوں نے صدیوں سے اس وادی میں چلتے ہوئے مسافروں کو دیکھا ہے۔یہ وادیاں جہاں بیوپاری نہیں بستے۔ جہاں سونے اور چاندی کے سودے نہیں ہوتے۔ مگر کچھ تو ہے جو آج بھی ان پہاڑوں میں بہت سارے دیوانے شہروں کو چھوڑ وہاں آتے ہیں اور محبت کی نامکمل ریت کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ وعدہ جو اب تک وفا کے موسم کا منتظر سے !
یہ سنگریز زمیں جس کی خواہش تھی اس کا جلتا ہوا دل پر کوئی بادل برسے مگر اس پر سسئی کے بعد شاہ نورانی کے مزار پر محو رقص روحانیت کے مسافروں کا خون برسایا گیا ہے!!
کیا اذیت صرف انسان ہوتی ہے؟
کیا پہاڑوں کے دل پرزہ نہیں ہوتے؟
لاہوت کی طرف جاتے ہوئے راستے کے کسی بھی لہو میں ڈوبے ہوئے پتھر سے پوچھو کہ ’’درد کیا ہوتا ہے؟‘‘
وہ تمہیں بتائے گا!!
مگر کسی انسان اور خاص طور پرکسی سیاستدان سے مت پوچھو کہ ’’درد کیا ہوتا ہے؟‘‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے