تحریک انصاف کے مقدمے کا کیا بنے گا؟

خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس کی سماعت نئے آرمی چیف کے آنے تک ملتوی کر دی ہے۔
یہی ہونا تھا، جب حامد خان جیسا وکیل اتنے اہم مقدمے میں شواہد ودلائل کیلئے اسد کھرل جیسے ’صحافی‘ کی ’کتاب‘ پر انحصار کرے گا تو ایسی ہی سبکی ہوگی۔ آپ نے اگر آج کی عدالتی کارروائی سمجھنی ہے تو جان لیں کہ تحریک انصاف کے وکیلوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے ججوں نے وہ کیا ہے جو ایک غیرت مند شیر کے ساتھ اس شرارتی بندرنے کیا تھا جس کے پیچھے شیرنی کے منع کرنے کے باوجود غصے سے بھرے جنگل کے بادشاہ نے شہر کا رخ کرکے اپنا سر پائپوں میں پھنسا لیا تھا۔
ایک موقع پر وزیراعظم کا خطاب پڑھتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ نوازشریف نے کہاتھاکہ الزام ثابت ہونے پر گھر جانے کا عہد کرتاہوں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ وزیراعظم کا عہد اپنے آپ سے ہے، ہم آپ سے نہیں۔ دوسراخطاب پڑھنے سے قبل حامد خان نے پڑھا ۔۔ ’عزیز اہل وطن‘ ۔۔ تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کیا خطاب سے قبل’ میرے عزیزہم وطنو ‘ نہیں ہوتا تھا؟ جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ وکیل حامد خان نے کہاکہ وہ والے الفاظ فوجی ڈکٹیٹر استعمال کرتے تھے اس لیے وزیراعظم نے احتیاطا تقریر کے آغاز پر یہ الفاظ کہے۔
دوسری جانب جب تحریک انصاف کے وکیلوں نے کہاکہ 1999 میں یہ فلیٹس شریف خاندان کے نام تھے اور انہوں نے لندن کی ایک عدالت کے سامنے جرمانے پر گروی رکھے تھے۔ عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل سے اس بات کا ثبوت مانگا تو وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ اپنی نشست سے اٹھے اور بولے کہ اس وقت فلیٹس حسین نوا زکے نام تھے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دیکھیں جو چیز ریکارڈ پر ہی نہیں وکیل خود سے تسیلم کررہے ہیں ، معلوم نہیں کس کی وکالت کر رہے ہیں۔ جسٹس عظمت کے ریمارکس پر تحریک انصاف کے کیمپ میں مسکراہٹ پھیل گئی جبکہ ن لیگ کے وزراءاور وکلاءنے انتہائی ناخوشگوار تاثرات دیے۔
اس سے قبل جب عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجربنچ کے سامنے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے وزیراعظم کے قوم سے دو خطاب اور قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پڑھی تو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت گزر گیا جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ لگتا ہے آپ چاہتے ہیں مقدمہ آگے نہ بڑھے، کیس چلانے کی بجائے سیاست کر رہے ہیں، عدالت کا وقت تقریر پڑھنے میں ضائع کرنے کی بجائے اپنی وہ دستاویزات پیش کریں جس پر انحصار کرکے لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت کررہے ہیں۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ کیا وزیراعظم کے بیانات پر ہم کیس کا فیصلہ کرسکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صرف ان باتوں کو دیکھتے ہوئے کیسے کہہ دیں کہ لندن میں جائیداد غیرقانونی رقم سے خریدی گئی۔ آپ کو دستاویزات سے ثابت کرناہوگا اور اگر ایسا نہ کرسکے تو شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ہوتاہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ معاملہ صرف لندن فلیٹس کی ملکیت کا ہے، درخواست گزار اپنی دستاویزات دے اور اگر نہیں ہیں تو وزیراعظم اور بچوں کی دستاویزات سے ان کو غلط ثابت کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی تک کوئی ایسا کاغذ ریکارڈ رپر نہیں لایا گیاکہ خریدتے وقت لندن فلیٹس کی مالیت کیا تھی۔ جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکلاءکو کہاکہ وزیراعظم کے بچوں کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کاہی جائزہ لے لیں تو بہت کچھ مل سکتا ہے جس کے بعد انہوں نے متعلقہ دستاویز کی جانب وکیلوں کی توجہ دلائی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ جج وکیلوں سے زیادہ محنت اس لیے کررہے ہیں کہ معاملہ ملک کے وزیراعظم کا ہے، چاہتے ہیں الزام ہے تو صاف ہوجائے۔ جسٹس منظورالاحسن نے کہا کہ اگر آپ ثابت کرتے ہیں کہ وزیراعظم کے خطاب میں جھوٹ ہے تو تب ہی اس کے نتائج ہو سکتے ہیں۔
کمرہ عدالت میں حکومتی کے وزراءتحریک انصاف کے وکیلوں کے دلائل پر مسکراتے رہے۔ دانیال عزیز کی سرخ و سپید رنگت مزید کھل رہی تھی۔ انوشے رحمان بار بار خوشی کے مارے وزیراعظم کے وکیل کے پاس اٹھ کر جانے لگیں تو انہوں نے ٹوک دیا۔ تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے ججوں کے تابڑ توڑ سوالوں سے بچنے کی کوشش کی تو سماعت کے آخری لمحات میں وکیل نعیم بخاری آگے بڑھے اور اکتوبر 99 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ فیصلے کی بجائے اس میں لکھے وکیل کے دلائل پڑھ رہے ہیں جس پر عدالت میں بیٹھے لوگ ہنس پڑے۔
عدالت سے باہر نکلتے ہوئے ایک صحافی نے تحریک انصاف کے اسد عمر سے مذاق کیا کہ آپ کے وکیلوں نے تو لگتاہے تیاری ہی نہیں کی۔ اسد عمرنے قریب سے گزرتے ٹی وی اینکر کاشف عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مجھے بھی لگتاہے کہ اب ارشد شریف اور کاشف عباسی کو ہی ججوں کے سامنے دلائل کیلئے لانا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button