مولوی دو قسم کے ہوتے ہیں !

پہلی قسم
ـــــــــ

پہلی قسم والا وہ ہے جو جمعے کے روز آدھے گھنٹے کی تقریر کے لئے ڈیڑھ گھنٹے کی رگڑائی والا غسل فرما کر منبر پر آتا ہے تو بہووں کے ستائے ہوئے 10 بابے پہلی صف میں بیٹھے بہت ہی اخلاص سے کھانس رہے ہوتے ہیں۔ یہ اس کھانسا کھونسی کی لے میں اپنا مترنم عربی خطبہ بلند کرکے فرماتا ہے۔

"حضرات ! آج میں آپ کو دلائل سے ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ علماء کی اتنی فضیلت ہے کہ جو نہ مانے وہ بھی کافر ! اور ایسے منحوسوں کو جہنم میں جو بریانی ملے گی وہ مٹن نہیں کیڑا بریانی ہوگی !”

پھر اس کے دلائل شروع ہوتے ہیں جو کرامتوں کی حکایتوں اور ان خوابوں کے بیابانوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور جو تین تین گھنٹے کی فلم کا خلاصہ لگتے ہیں۔ یہ اتنا چیختا چلاتا ہے کہ سوئی ہوئی خلائی چٹانیں بیدار ہو کر زمین کا رخ کر لیتی ہیں اور ناسا کو وارننگ جاری کرنی پڑ جاتی ہے کہ یہ چٹان عذاب بن کر اگلے جمعے فلاں اسلامی ملک پر گرے گی لیکن اس کی یہ چیخ و چنگھاڑ مسلم دل و دماغ تک رسائی نہیں رکھتی۔ وہ دس بابے بھی کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ اتنا اونچا سنتے ہیں کہ لاؤڈ سپیکر بھی ان کی سماعت کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا ورنہ الف لیالی کی یہ داستانیں سن کر وہ ڈر کے مارے دوڑ کر کسی چرچ میں پناہ لے لیں ! خطاب کے عین آخری پانچ منٹ میں مسجد کی آبادی 10 سے 1000 ہوجاتی ہے اور قصہ تمام ہوجاتا ہے۔ اسی روز عصر کی نماز میں یہ حضرت اپنے مؤذن سے فرماتے ہیں۔

"مسجد کا ساؤنڈ سسٹم ٹھیک نہیں۔ کوئی بیان سننے ہی نہیں آتا !”

دوسری قسم
ــــــــــــ

دوسری قسم کا مولوی وہ ہے جو وضوء کرکے بھی آجائے تو ایک خلق کو اپنا منتظر پاتا ہے۔ وہ سادہ سا عربی خطبہ پڑھ کر کہتا ہے۔

"حضرات ! میں ایک بہت ہی کم علم انسان ہوں اور آپ نے اس حسنِ ظن پر مجھے یہاں کھڑا کردیا ہے کہ شائد میں کوئی عالم ہوں اور آپ کے حکم سے انکار کی میری مجال نہیں ! حضرات ! میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں جو آپ کی اکائیوں سے جڑ کر تخلیق ہوا ہے۔ اس لئے جو مسائل آپ کو درپیش ہیں وہی میرے بھی دکھ ہیں۔ اگر ہم ان مسائل کو مل جل کر حل نہیں کریں گے تو آپ ہی نہیں میں بھی اور آپ کے ہی بچے نہیں میرے بچے بھی پریشان رہیں گے”

یہ کہہ کر وہ سماج کے ایک ایسے سلگتے مسئلے کو اٹھا لیتا ہے جو ہر گھر اور محلے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ خلق خدا سوچتی ہے۔ یہ کتنا عجیب مولوی ہے ! یہ تو میرے گھر کے اندر کی ہی بات نہیں جانتا بلکہ میرے دل میں چھپے وہ دکھ بھی اس پر عیاں ہیں جو میں نے کبھی اپنی بیوی سے بھی نہیں کہے۔ یہ مولوی کوئی انتریامی یا صاحب کرامت نہیں ہوتا بس صاحبِ بصیرت ہوتا ہے۔ یہ معاشرے میں سانسیں ہی نہیں لے رہا ہوتا بلکہ معاشرے کی سانسوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے۔ یہ رحمت کا وہ آکسیجن سلینڈر ہوتا ہے جو دکھی سماج کی گھٹتی سانسوں کو بحال رکھنے کے کام آتا ہے۔ اس کا علم و حکمت سے بھرا ایک ایک بول لوگ یوں اپنی جھولیوں میں بھرتے ہیں جیسے وہ انہی کی تسبیح کے بکھرے دانے ہوں۔ وہ دانے جو ان کے دلوں میں بکھر کر انہی کی آنکھوں سے درِ ابلق بن کر گر رہے ہوتے ہیں۔ مولوی کی اس قسم کو معاشرہ اپنے ان ایوانوں میں بھی بلا بلا کر سنتا ہے جس کے فانوسوں کی روشنی میں ایرانی قالینوں پر بیٹھ کر معاشرے کی اونچی کلاس سراپا ادب و حضور بیٹھی نظر آتی ہے۔ کون کافر کہتا ہے کہ معاشرے میں مولوی کی عزت نہیں۔ ہے عزت ! میری جاں ہے عزت ! بس مولوی میں دم ہونا چاہئے !

مولوی کی اس قسم کو ساؤنڈ سسٹم سے کوئی شکایت نہیں رہتی کیونکہ یہ خود سماج کی ساؤنڈ ہے !

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے