لندن فلیٹس سے ججوں کے مزاح تک

جب سے قطر کے شیخ معاملے میں کودے ہیں کھیل کامزا دوبالا ہوگیا ہے۔ عدالت میں جب تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے قطری شہزادے کے خط کا ذکر شروع کیا تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ خط پر کہیں پرنس (شہزادہ) نہیں لکھا، آپ کیوں شہزادہ کہہ رہے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ چونکہ وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم لوگ ہرامیر شخص کو شہزادہ کیوں سمجھتے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ہم تو بس شہزادے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ وکیل صاحب، آپ نے شہزادے پر کتاب بھی لکھی ہے۔
تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دستاویزات سے لندن میں حسن نواز کا فلیٹ نکال کر دکھایا تو وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ کرسی پر پہلو بدلنے لگے۔ نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ حسن نواز کے نام  پر انگلش کمپنی رجسٹرڈ ہے، کمپنی کانام فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ ہے، اس کمپنی نے 29جنوری 2004 کو لندن میں ’بارہ اے‘ فلیٹ خریدا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا بیٹا 2001 سے پراپرٹی کے بڑے کاروبار سے وابستہ تھے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ہی پہلے کہتے تھے کہ دادا میاں شریف نے صرف ایک پوتے حسین نواز کو سب کچھ منتقل کیا، اب پتہ چل گیا کہ انہوں نے دوسرے پوتے کو بھی محروم نہیں رکھا۔
وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ عدالت میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ درخواست گزار نے لندن کی صرف چار جائیدادوں کا کیس کیا ہے، اس لیے حسن نواز نے بھی جواب میں اس جائیداد کا ذکر نہیں کیا۔ اگر عدالت اس فلیٹ کا مقدمہ بھی سنتی ہے تو مجھے موقع دیاجائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی باری آنے پر جو بولنا ہے بول دیں۔
مسلم لیگ ن کے کئی ارکان قومی اسمبلی کو عدالت میں نشست مل گئی مگر دیر سے آنے پر طلال چودھری کیلئے جگہ نہ بنی تو عمران خان کے عقب میں ایک کرسی خالی کرکے بٹھایا گیا۔ ان کے پہلو والی کرسیوں پر تحریک انصاف کی خواتین براجمان تھیں جن میں سے ایک شیریں مزاری تھی۔ تحریک انصاف کا وکیل شریف خان خاندان کے بارے کوئی جملہ کستا تو شیریں مزاری سامنے والی کرسی کے کندھے پر جھک کر عمران خان کے کان میں جملہ بولتی اور طلال چودھری اپنی نشست پر پہلو بدل کر رہ جاتے۔ عمران خان کے دائیں طرف جہانگیرترین بیٹھے تھے جو باربار اٹھ کر وکیل نعیم بخاری کے پاس جاتے جبکہ بائیں جانب سراج الحق خاموشی سے کارروائی دیکھ رہے تھے۔ دو نشستیں چھوڑ کر وزیردفاع خواجہ آصف عدالتی کارروائی میں ججوں کے ریمارکس پر توجہ دیے ہوئے تھے۔
کیس کے دوران دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل نے لندن فلیٹوں کی ملکیت ثابت کرنے کیلئے برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع کلثوم نواز کا بیان پڑھنا چاہا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر اخباری بیانات کو اسی طرح مان لیں تو مسائل آپ کیلئے پیدا ہوں گے، آپ کے موکل (عمران خان) کے خلاف تیس سال سے الزامات اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ نعیم بخاری پڑھنے پر مصر رہے تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اپنے موکل سے پوچھ لیں کیونکہ سیاسی میدان میں ہرطرف سے الزامات لگائے جاتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا محتاط رہیں۔ نعیم بخاری نے پھر اخبار کا ذکر کیا تو جسٹس عظمت نے کہا کہ سونے میں کھوٹ کیوں ڈالتے ہیں، کیس لڑیں وگرنہ آپ کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ اس خبر میں سے صرف ایک جملہ پڑھنا ہے جو خاتون اول کلثوم سے متعلق ہے، جس پر جسٹس عظمت نے کہاکہ وہ ہمارے سامنے فریق نہیں ہیں۔
لندن فلیٹس کا ذکر ہواتو وہاں مریم نواز اور حسین نواز کے درمیان کسی ٹرسٹی معاہدے کا بھی حوالہ آیا اور اس میں منروا سروسز کمپنی کا نام لیا گیا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ اس کو بھی دیکھا جائے، جس پر شریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ اپنی کرسی سے اٹھے اور جسٹس عظمت سعید کو کہا کہ آپ نیازی سروسز لمیٹڈ کا بھی پوچھ لیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں، میرے سامنے وہ کیس نہیں ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پوچھا کہ معاملے کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے ہمیں حسن، حسین اور مریم کی عمریں بھی معلوم ہونی چاہئیں۔ اس کے بعد کہا گیا کہ وہ قطر کے شیخ کی عمربھی انٹرنیٹ سے دیکھ کر بتادی جائے۔ یہ شاید جج صاحب کی جانب سے ٹی وی پروگرام میں جہانگیر ترین کی جانب سے غلطی پر طنز تھا جس میں انہوں نے گوگل سے حمد بن جاسم کی غلط عمر حاصل کرکے بتائی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button