انگریزی میں جملے بازی

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان آئین وقانون کے ساتھ ’کھیلنے‘ والے بہت پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ ہنسی مذاق کم اور آئین و قانون کی بات زیادہ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچوں جج بھی اس لیے بہت محتاط ہوکر سوال اٹھاتے ہیں مگر آج بہت کچھ سنا گئے۔ اور شاید یہ سنانے کی ہی حد تک ہو کہ قانون کے مطابق مخدوم علی خان نے وزیراعظم کا دفاع درخواست گزار کے دلائل اور تحریری درخواست میں موجود تضادات اور جھول دکھا کر بھی کیا۔
ساڑھے تین گھنٹے مرکزی گرم حمام جیسے کمرہ عدالت میں دو ٹانگوں پر مسلسل کھڑے رہ کر ادھر ادھر کے دھکے برداشت کرنا، باربار کان کھڑے کرکے ججوں کے سوالات سننا اور بوڑھے وکیل کے خشک اورمکمل قانونی دلائل کو لکھتے رہنا حد درجہ تھکا دیتا ہے اور تنگ ہو کر بندہ جگت باز نعیم بخاری کو یاد کرنے لگتاہے۔ تاہم قانون کے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد نے مخدوم علی خان کے دفاعی دلائل سننے کے لیے کمرہ عدالت کا رخ کیا تھا اور عملی طور پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ نعیم بخاری تو کمر درد کابہانہ کرکے نکل گئے تھے اور آج بھی نہ آئے مگر ان کے موکل عمران خان اور اس کے چاہنے والوں کے پاس کوئی راہ فرار بچانہیں۔ ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ جب سے یہ مقدمہ شروع ہوا ہے سپریم کورٹ کے سامنے یوٹرن بھی بند کردیا گیا ہے۔
وکیل مخدوم علی خان نے ایک موقع پر جسٹس گلزار کی تکرار سے تنگ آکر حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ججوں پر میزائل داغ دیا۔ کہا حال ہی میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے مقدمے ’بریگزٹ‘ میں سپریم کور ٹ کے سامنے برطانوی حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس کے ایک سوال کا جواب ہاں میں دیا، تھوڑی دیر بعد اس سوال کے بالکل متضاد سوال کا جواب بھی ہاں میں دیا، تو چیف جسٹس نے حیرت سے پوچھا دوالٹ سوالوں کا ایک ہی جواب کیوں؟ تو برطانوی حکومت کے وکیل نے جواب دیا، ججوں کو بھی معاملہ دیکھ کر اپنی سمجھ بوجھ استعمال کرکے جواب سے نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔
وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے آغاز خوبصورت انداز سے کیا، کہا درخواست گزار کے وکیل نے باربار جھوٹ کو لفظ استعمال کیا، میں جس بات کی تردید کروں گا اس کیلئے جھوٹ یا کذب کی بجائے غلط کا لفظ استعمال میں لاﺅں گا، تو جناب عالی، ان کی درخواست ہی غلط ہے۔ درخواست گزار کے اپنے دلائل اور تحریری موقف میں تضاد ہے، درخواست میں لکھاہے دبئی مل کی فروخت سے نو ملین ڈالرملے جبکہ عدالت میں دلائل دیے کہ فیکٹری فروخت سے شریف خاندان کو پھوٹی کوڑی نہیں ملی۔ مخدوم علی خان نے عمران خان کی درخواست اور ان کے وکیل کے دلائل میں سے ہی جواب دینے شروع کیے اور کئی چھوٹی بڑی غلطیاں عدالت کے سامنے لے آئے توجسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ درخواست گزار کامقدمہ ہے اپنا مقدمہ بتائیں۔ مخدوم علی خان نے کہا وزیراعظم کی کوئی کمپنی ہے اور نہ ہی کبھی کسی کمپنی کے ڈائریکٹر، شیئر ہولڈر یا مالک رہے، ہمارامقدمہ یہ ہے کہ خاندانی کاروبار وزیراعظم کے والد نے شروع کیا اور فیکٹری بنک قرض سے لگائی اور میاں شریف نے ہی بیچی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کیا یہ مقدمہ ہے کہ وزیراعظم کا فیکٹری سے تعلق نہیں؟۔ وکیل نے کہا مقدمہ یہ ہے کہ وزیراعظم کبھی گلف اسٹیل کے ڈائریکٹر نہیں رہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے سوال کیا ڈائریکٹر نہ رہنے کی دستاویز کہاں ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا ڈائریکٹر ہونے کا الزام لگانے والے ثبوت دیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا رقم دبئی سے جدہ اور لندن کیسے گئی اس پر کیا کہیں گے؟۔ وکیل نے جواب دیا یہ وزیراعظم کے بچوں کامعاملہ ہے ان کے وکیل بتائیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا بچے وزیراعظم کے ہیں، ریکارڈ رپر قطری خط کے سوا کچھ نہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا مرضی ہے جو دلائل دیں مگر ہم دستاویزات دیکھنا چاہیں گے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا دبئی فیکٹری اگر بنک قرض سے لگائی تو اس کی دستاویز بھی ہوگی۔مخدوم علی خان نے کہا حسین نواز کے وکیل دکھائیں گے، درخواست گزار کے وکیل نے دبئی مل معاہدہ درست طریقے سے نہیں پڑھا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا بظاہر آپ کی دستاویز سے بھی مقدمہ واضح نہیں، طارق شفیع کے دبئی مل معاہدے کی تفصیلات دیں تاکہ معلوم ہوسکے رقم کہاں سے آئی، جدہ اور قطر کیسے گئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا دبئی فیکٹری تخیلاتی تھی یا حقیقت میں تھی؟ وکیل نے جواب دیا کمیشن بناکر دبئی بھیج دیں۔ جسٹس گلزار نے کہا وزیراعظم نے ریکارڈ موجود ہونے کا بیان دیا تھا، آپ کچھ کہتے ہیں اور درخواست گزار نے بھی کچھ کہاتھا۔ وکیل نے کہا شاید کہیں کوئی کنفیوژن ہو، جس پر جسٹس عظمت سعید کی رگ ظرافت پھڑکی اور کہا کوئی کنفیوژن نہیں، وہ کہتے ہیں دبئی مل سے کوئی رقم نہیں ملی، آپ سے پوچھتے ہیں تو جواب آتاہے یہاں بیٹھ کر پتہ نہیں چلے گا پہلے دبئی جائیں، کل کو کہیں گے دبئی شہر بھی ہے یانہیں۔
عدالت میں مخدوم علی خان اور ججوں کے درمیان انگریزی الفاظ کے استعمال پر بھی دلچسپ مکالمے ہوتے رہے۔ پہلے مخدوم علی خان نے عمران خان کی درخواست میں لفظ ’ایڈ میٹڈلی‘ کو سامنے رکھ کر تختہ مشق بنایا تو جسٹس کھوسہ نے کہا ہوسکتا ہے درخواست گزار نے لکھتے وقت درست انگریزی کا استعمال نہ کیا ہو۔ پھر جب عدالت کی جانب سے لفظ ریکارڈ باربار بولا گیا تو وکیل مخدوم علی خان نے کہا پاکستان کے قانون کے مطابق انگریزی لفظ ’ریکارڈ‘ کو بھی اسی پیمانے پر دیکھنا ہوگا ۔ بعد میں لفظ انڈر سٹینڈنگ پر بحث شروع ہوئی تو جسٹس عظمت سعید ایک بار پھر فارم میں نظر آئے، کہا لطف صرف وہی اٹھاتے ہیں جن کو عدالت میں بیٹھ کر کارروائی سمجھ میں نہیں آتی اور باہر جاکر دوسروں کو بھی سمجھاتے ہیں۔ اس بات پر ظاہر ہے قہقہہ ہی بلند ہونا تھا۔ حقیقت بھی شاید یہی ہے کہ کارروائی ساری انگریزی میں ہوتی ہے، عدالت میں ساﺅنڈ سسٹم بھی اتنا اچھا نہیں، اکثر اوقات جج کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر کچھ بولتے ہیں اور مائیک ان سے دور ہوتا ہے تو بہت سے لوگوں کو سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ انگریزی ہماری مادری زبان نہیں اور پھر بولے گئے جملے کا ترجمہ کم اور تشریح زیادہ ہوتی ہے اس لیے ہر ٹی وی چینل اپنا ٹکر چلاتا ہے اور دونوں جماعتوں کے رہنما عدالت کے باہر آکر اس میں الگ سے رنگ بھرتے ہیں ۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا وزیراعظم کی تقریر میں بھی کچھ کہا گیا تھا، پچھلے وکیل سلمان بٹ نے اس کو سیاسی تقریر قرار دیا تھا، آپ کیا کہتے ہیں۔ مخدوم علی خان نے کہا میں اس کو کم تصدیق شدہ تقریر کہوں گا جس پر ایک بار پھر قہقہہ گونج اٹھا۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کی تقریرمیں کچھ کمی رہ گئی ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا آدھے سچ کو غلط بیانی کہاجائے گا یا کچھ چھپانا؟ ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کیا معصومانہ خطاتھی یا جان بوجھ کر چھپایا گیا، ان دونوں میں تفریق کرنا ہوگی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا تصویر کو مکمل کرنے کیلئے ٹکڑے جوڑنا ہوں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا وزیراعظم کی تقریر تحریری تھی اور مشاورت سے تیار کی ہوگی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا اگراسمبلی میں کی گئی تقریر کا عدالت جائزہ لے گی تو کیا آرٹیکل 66 آڑے گا جس کے تحت پارلیمنٹ کی کہی گئی باتوں کو قانونی کارروائی سے استثنا حاصل ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا قطری خط لندن فلیٹوں سے منسلک ہے مگر وزیراعظم نے تقریر میں ذکر نہیں کیا۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کی تقریر میں رہ جانے والی کمی کو اگر حقائق چھپانے کے زمرے میں ڈالاجائے گا تو پھر یہ اصول سب اراکین پارلیمان پر لاگو ہوگا۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کا خاندانی کاروبار سے تعلق نہیں رہا اس لیے تقریر میں تفصیلات ادھوری تھیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ انتہائی اہم بیان ہے۔ وکیل نے کہا آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہلی کیلئے معیار اور پیمانہ بہت سخت ہے، صرف کسی خطاب پر بغیر ریکارڈ دیے غلط بیانی کامرتکب قرارنہیں دیا جاسکتا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا وزیراعظم نے اپنی تقریر میں خود کو کھلی کتاب قرار دیا تھا ہو سکتا ہے کتاب کے کچھ صفحے غائب ہوں، سولہ مئی کی تقریر سے آج تک یہ کتاب مکمل نہیں ہوئی۔ وکیل نے کہا قانون شہادت کے مطابق بارثبوت الزام لگانے والے کے سرہوگا، جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہر قدم محتاط ہو کر اٹھا رہے ہیں، کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑیں گے تاکہ فیصلہ لکھتے وقت کوئی مشکل نہ ہو۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد مقدمہ ہے۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کو ہٹانے کے دو طریقے ہیں ایک اسمبلی میں اکثریت کے عدم اعتماد کے ذریعے اور دوسرا بطور رکن اسمبلی اثاثوں پر غلط بیانی ثابت کرکے نااہل قراردینے سے۔ جسٹس اعجازا فضل نے کہا ارکان اسمبلی کیلئے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اور منتخب ہونے کے بعد انتخابی عذرداری کے ذریعے قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کی نااہلی کیلئے شیخ رشید نے اسپیکر کو ریفرنس بھیجا، مسترد ہونے پر ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن سے رجوع کیا گیا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا ایسی صورت میں سپریم کورٹ متوازی عدالت لگا کر مقدمہ سن سکتی ہے؟۔ وکیل نے کہا اس پر تفصیل سے دلائل دوں گا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کوئی نہیں چاہتا حقیقت سامنے آئے، کبھی ایک کبھی دوسرا فریق دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔
عدالت میں شواہد ریکارڈ کرنے کیلئے قانون شہادت کی مختلف شقوں پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیراعظم کے وکیل نے کہا ہے کہ سپریم کور ٹ عوامی مفاد کے مقدمے یعنی آرٹیکل 184 تین کے تحت سنے جانے والے کیس میںخود سے براہ راست شواہد ریکارڈ نہیں کرسکتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے