کوچ اور کھلاڑی

کوچ بہت اچھا ہو تب بھی میدان میں کھلاڑی نے کھیلنا ہوتا ہے۔ یہ بات تقریبا ہر عدالتی رپورٹر کو معلوم ہے کہ جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قریبی ساتھیوں میں شمارہوتے ہیں۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ بات کہی جارہی تھی کہ افتخار چودھری سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کیلئے ان کی تیاری کراتے ہیں مگر آج ان کے ایک معاون وکیل نے یہ بات تسلیم بھی کرلی۔ تصدیق ہوگئی کہ گزشتہ روز دو گھنٹے چودھری صاحب نے وکیل صاحب کی ’کلاس‘ لی یا ان کو سبق پڑھایا۔ جس شدومد سے وکیل صاحب افتخار چودھری کی جانب سے سولہ برس قبل دیے گئے ’ظفر علی شاہ‘ کیس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں خدشہ ہے کہ اس فیصلے میں دی گئی جمہوریت بھی دوبارہ نہ مانگ لیں۔ ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ نے ڈکٹیٹر پرویزمشرف کو تین سال حکومت کرنے کا اختیار دیا تھا۔
افتخار چودھری قانون و آئین کو سمجھنے والے بہت تیز جج تھے اس بات میں شبہ نہیں مگر ان کی کوچنگ مکمل ناکام ثابت ہوگئی۔ وکیل صاحب کمبل کو نہیں چھوڑ رہے تھے یا کمبل ان کو، یہ تاثر تمام دن کمرہ عدالت میں رہا، اور جج بہت مجبور ہوکر بھی جماعت اسلامی کے وکیل کو روکنے سے قاصر تھے۔ تاہم ججوں نے اپنی آبزرویشن اور جملوں کے ذریعے ایسی کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ کسی کو سمجھ نہ آئے وہ کیا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان ساڑھے گیارہ بجے آئے اور ساڑے بارہ بجے چلے گئے، شیخ رشید صبح پہنچ گئے تھے مگر وقفے کے بعد عدالت کا رخ نہ کیا۔
جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے عدالت میں آج سب سے پہلے ہمار ا گلہ کیا کہ مجھ سے میڈیا نے زیادتی کی، عدالتی آبزرویشن کو میرے خلاف استعمال کیا گیا حالانکہ ججوں کے جملے فیصلہ نہیں ہوتے۔ وکیل نے کہا کہ ارکان اسمبلی کا استحقاق آئین سے مشروط ہے، وزیراعظم کی اسمبلی تقریر ایجنڈے اور اسمبلی قواعد کے خلاف تھی اس لیے پارلیمنٹ کی کارروائی کا حصہ نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کیا اسپیکر کے پاس قواعد معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے؟ وکیل نے کہا اختیار ہے مگر وہ صرف منگل کے دن ’پرائیویٹ ممبر ڈے‘ ہوتا ہے، یہ تقریر منگل کو نہیں پیر کے روز کی گئی تھی ، جسٹس عظمت نے کہاجملہ پھینکا کہ اسی دن تقریر ہونی ہے جس دن گوشت ملتاہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کیا وزیراعظم کی تقریر پر اسمبلی میں کسی نے اعتراض کیا تھا؟ وکیل نے کہا اپوزیشن نے اعتراض اور بائیکاٹ بھی کیا تھا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا آئین کہتاہے کہ اسمبلی کی کارروائی کو عدالت میں زیربحث نہیں لایا جاسکتا، پھرکہتے ہیں کہ تقریر کارروائی کاحصہ نہیں تھی کیا کریں؟ وکیل نے کہا تقریر ریکارڈ اور کارروائی کا حصہ تھی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا وکیل صاحب، آپ کہتے ہیں تقریر کارروائی کا حصہ ہے بھی اور نہیں بھی، چلیں اب آگے بڑھیں۔ تقریر قواعد کے مطابق تھی یا نہیں یہ انتظامی معاملہ ہے اس وقت عدالت اس کیس کو نہیں دیکھ رہی۔ وکیل نے پھر وہی بات کرنے کی کوشش کی تو جسٹس عظمت بولے، سوال سن لیاکریں، ہم کچھ اور کہہ رہے ہیں، دلوں کے حال صرف اللہ جانتاہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا عدالت میں صرف وزیراعظم کی تقریر کا معاملہ ہے۔وکیل پھر اسی نکتے پھر پھنسے رہے تو جسٹس گلزار احمد بولے، وزیراعظم کو استحقاق بھی نہیں، تقریر ایجنڈے کا حصہ بھی نہیں تھی اور اسمبلی قواعدکے مطابق بھی نہ تھی، آپ کے تمام نکات لکھ لیے ہیں اب آگے چلیں۔
وکیل نے کہا عدالت اسپیکر سے وزیراعظم کی تقریر منگوائے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا تقریر عدالت کے سامنے ہے۔ وکیل نے کہا وزیراعظم کی تصدیق شدہ تقریر منگوائیں۔ جسٹس عظمت نے کہا کیا عدالتی ریکارڈ میں موجود تقریرغلط ہے؟ کیا کسی کو اس پر اعتراض ہے؟۔ وکیل سے جواب نہ بن پایا تو بولے غلط نہیں مگر شاید سافٹ ویئر کے ذریعے انگریزی سے اردو میں ترجمہ درست نہیں ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن بولے تقریر تھی ہی اردو میں تو ترجمہ کیسے کیا جاسکتاہے؟۔ وکیل پھر بھی بضد رہے کہ اسمبلی سے تصدیق شدہ تقریر منگوائی جائے تو جسٹس کھوسہ بولے جو تقریر آپ نے اپنی درخواست کے ساتھ لگائی ہے اسی کو تصدیق شدہ مان لیتے ہیں، آگے بڑھیں۔ وکیل نے کہا وزیراعظم نے بہت سے چیزیں چھپائیں، اسپیکر کو جو دستاویزات دی تھیں وہ منگوائیں جائیں؟ ۔ جج نے پوچھا وہ کیا ہیں ، تقریر میں سے نشاندہی کریں۔ وکیل بولے کیا پوری تقریر پڑھ لوں؟ ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا وزیراعظم نے اسپیکر کو تصاویر پیش کی تھیں وہ عدالتی ریکارڈ میں ہیں، آپ بتائیں کون سی چیزیں چھپائیں تاکہ معلوم ہو۔ وکیل بولے میری درخواست پر وزیراعظم کی جانب سے جواب داخل نہیں کیا گیا، اس طرح یہ بلامقابلہ ہوگئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا اپنی درخواست کا مقابلہ آپ خود ہی کررہے ہیں، ایک نکتے پر دلائل دیتے ہیں پھر واپس لے لیتے ہیں، دوسرے اور تیسرے نکتے پر دلائل دیتے ہیں پھر واپس لے لیتے ہیں، آپ نے ہمیں بے بس کردیاہے، جو چیزیں وزیراعظم نے اسپیکر کو پیش کی تھیں وہ عدالت میں ہیں اب بتائیں مزید کیا منگوائیں؟۔ جسٹس آصف کھوسہ بولے آپ ان کو دستاویزات کو بھی منگوانے کا کہہ رہے ہیں جن کا وزیراعظم نے ذکر بھی نہیں کیا۔ وکیل نے کہا وزیراعظم نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کا کہا تھا۔ جسٹس عظمت بولے، آپ کو استحقاق واستثنا کا نہیں پتہ۔ جس طرح کی چیزیں منگوانے کی استدعا کر رہے ہیں لگتا ہے جان بوجھ کر سماعت ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔ وکیل جج صاحب کے ریمارکس پر ناراض ہوئے تو بنچ کے سربراہ نے کہا جیسے آپ کا دل کرے دلائل دیں ۔
وکیل نے وزیراعظم کی تقریر پڑھنا شروع کی تو تُلنا کو زبر کے ساتھ تلنا کہہ گئے، بولے وزیراعظم نے کہا تھا تلنا ہی ہے تو سب کو ایک ترازو میں تولیں، وکیل کی زبان کی غلطی پر عدالت میں قہقہے کافی دیر تک گونجتے رہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا آپ کے دل کی بات زبان پر آگئی۔ (لگتاہے وکیل صاحب سردیوں میں مچھلی کے ساتھ وزیراعظم کو بھی تلنے کے چکر میں ہیں، میرا تبصرہ)۔
وکیل نے وزیراعظم کی اسمبلی تقریر کو ایک بارپھر ذاتی اور خاندانی کہا تو جسٹس عظمت بولے پھر عوامی مفاد کے قانون کے تحت ذاتی معاملے کو کیسے سنیں؟ وکیل نے کہا وزیراعظم بیس کروڑ کا نمائندہ بھی ہے اس لیے عوامی مفاد ہے۔ جسٹس عظمت بولے اپنے ہی خلاف دلائل نہ دیں ، کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ۔ وکیل نے کہا بتائیں کون سی بات اپنے خلاف کی ہے؟۔ جسٹس عظمت بولے، آواز اونچی کرنے سے دلیل میں جان نہیں پڑتی، پھر کہا آپ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں تقریرنہیں کررہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مداخلت کرکے کارروائی کو مزید جملے بازی کی طرف جانے سے روک دیا۔
وکیل نے ایک بار پھر کہا یہ وزیراعظم کا ذاتی معاملہ ہے حکومت کا تعلق نہیں، تو جسٹس گلزار نے برجستہ کہا تو پھر کیا کریں؟۔ وکیل بولے حکومت یہاں وزیراعظم کا دفاع کررہی ہے، وزیر عدالت آتے ہیں باہر بیان دیتے ہیں۔ جسٹس گلزار بولے وزیراعظم کی تقریر پڑھ لیں اپنی تشریح بعد میں کریں۔ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے سارے لوگ اپنی کمنٹری خود تک رکھیں، سڑکوں پر جو ہوناتھا ہوچکا، اب عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں۔
وکیل نے کہا ارکان اسمبلی کیلئے دیانتداری کی شرط حلف میں ہے،یہ شق دوبارہ پڑھتا ہوں ، دو دن پہلے بھی پڑھی تھی۔ جسٹس عظمت برجستہ گویا ہوئے، مزے کی ہے کیا؟۔ پھر بولے دیانتداری والی بات تفصیل سے بتائی تھی اب آگے بڑھیں۔ وکیل بولے حلف آئین کا حصہ ہے، لفظ ’جسٹ لی‘ کی تشریح ڈکشنری سے کروں گا۔ جسٹس کھوسہ نے وکیل کو روکتے ہوئے کہا ’جسٹ لی‘ کا لفظ حلف میں ہے اور نہ آئین کے آرٹیکل 62 میں، عدالت میں تشریح کے وہ دو صفحات کیوں پڑھنا چاہتے ہیں جو متعلقہ ہی نہیں۔ یہاں وکیل کی مدد کو جسٹس اعجاز افضل آئے اور کہا یہ لفظ آئین کے آرٹیکل 218 میں الیکشن سے متعلق ہے، یہاں متعلق نہیں۔ وکیل بولے وزیراعظم کو زیادہ دیانتدار ہونا چاہیے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا توقعات الگ اور آئین و قانون الگ چیز ہیں، توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ اس
مقدمے میں فیصلہ دینے کی مجازہے۔ جسٹس اعجازا فضل نے پوچھا مگر عدالت تفتیش کیسے کرائے گی اور کس سے کرائے گی؟۔ وکیل نے کہا تمام ریکارڈ عدالت کے سامنے ہے ۔ جسٹس گلزار بولے جو ریکارڈ آنا تھا آگیا، جو نہیں فراہم کیا گیا اس کا قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
وقفے کے بعد وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا پارلیمان میں جھوٹ بولا گیا، پارلیمان کے تقدس پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے دیتاہوں۔ جسٹس عظمت بولے، کسی کا بیان جھوٹ اس وقت ہوتاہے جب سچ کا پتہ ہو۔ جنمقدمات کے حوالے دے رہے ہیں ان میں پہلے ثبوتوں پر فیصلے آئے۔ وکیل بولے اب عدالت کو عوامی مفاد کے تحت مقدمہ سننے کے حوالے دوں گا۔ جج نے کہا اس کا فیصلہ کردیاہے، سماعت کا اختیار ہے صرف دائرہ اختیار اور حدود طے ہونا باقی ہے۔ وکیل نے کہا عوامی مفاد وسیع ہے تو جسٹس عظمت نے کہا سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ عوامی مفاد کے تحت ان لوگوں کا مقدمہ سنا جاتاہے جن کی قانونی نظام تک رسائی نہیں، ہمارے ملک کی تیس چالیس فیصد آبادی اس میں آتی ہے۔
وکیل نے کہا دبئی مل کا ریکارڈ عدالت کو نہیں دیا گیا، یہ نوازشریف نہ ان کے والد کے نام تھی۔ جسٹس اعجاز نے پوچھا وزیراعظم نے دفاع کیا ہے کہ ان کا نام کہیں نہیں آیا، آپ بتائیں ان کو کیسے منسلک کریں گے؟۔ وکیل نے کہا سارا کام ہی بے نامی تھا، بنک ٹرانزیکشن نہیں تھی۔ جسٹس اعجاز نے پوچھا پھر کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کاروبار وزیراعظم کا تھا؟۔ جسٹس گلزار بولے 2004تک وہ خود تسلیم کرتے ہیں اس سے پہلے کاروبار کس کا تھا؟۔ وکیل بولے اس سے قبل میاں شریف کابھی نہیں تھا طارق شفیع کاتھا۔ (اس موقع پر ایک رپورٹر نے مجھ سے پوچھا یہ وکیل درخواست گزار کے دلائل دے رہاہے یا وزیراعظم کا دفاع کر رہاہے؟)۔
عدالت کے سوال سے تنگ آکر وکیل نے کہا ثبوت دینا میرا کام نہیں، میرا کام ہے کہ بار ثبوت ان پر ڈالوں اس کیلئے قانون بتارہاہوں۔ جسٹس اعجاز نے کہا قانون متعلقہ نہیں۔ جج نے پوچھاانکوائری کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کریں؟۔ جسٹس عظمت نے کہا مقدمہ اگر معاندانہ ہوتو بار ثبوت فریق ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں، یہ مقدمہ عدالت کی جانب سے شروع کیاگیا ہے اور تفتیشی نوعیت کاہے۔وکیل سے جواب نہ بن پایا تو جج بولے سوال کا جواب دے دیا کریں، وکیل نے کہا ایک وقت میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکتاہوں۔ جج بولے یہ پانچ رکنی بنچ ہے اسی طرح سوال ہونگے، اس وکٹ پر ایسے ہی کھیلا جاتاہے، ہنس لیا کریں۔وکیل نے کہا ثبوت ملزم کے سرہے، حضرت عمر کی مثال سامنے ہے، استثنا نہیں مانگا تھا، اسمبلی میں وزیراعظم نے پورے خاندان کا دفاع کیا یہاں الگ الگ آگئے ہیں۔ وکیل نے کہا اس پرفیصلوں کے حوالے نہیں دوںگا، وقت بچانا چاہتا ہوں۔ جسٹس عظمت برجستہ بولے، کس کا اپنا یا ہمارا؟۔
وکیل نے کہا آئین کے مطابق جاننا عوام کاحق ہے۔ جج بولے جب کہتے ہیں کہ ذاتی و خاندانی معاملہ ہے تو آئین کے عوام کے جاننے کے حق کا آرٹیکل استعمال کرتے ہوئے کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات کیسے حاصل کی جاسکتی ہیں۔وکیل بولے ایان علی ایک سے دوسری عدالت پھر رہی ہے، عتیقہ اوڈھو سپریم کورٹ کی وجہ سے آج تک مقدمہ بھگت رہی ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا پہلے طے کرلیں ایان کے وکیل ہیں یا عتیقہ اوڈھو کے۔ عدالت میں کافی دیر تک ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
وکیل نے کہا وزیراعظم نے باتیں چھپائی ہیں، حدیبیہ پیپرز مل والا معاملہ بھی ہے۔ جسٹس اعجاز بولے بتائیں وزیراعظم نے کیا چھپایا؟۔ جسٹس عظمت بولے سرکلر ڈیٹ کی طرح آپ کے دلائل بھی سرکلر ہیں۔ وکیل نے کہا عدالت کی معاونت کی کوشش کررہاہوں۔ جسٹس گلزار نے پوچھا حدیبیہ پیپرز مل پاکستان میں ہے تو مقدمہ لندن میں کیوں چلا؟۔ وکیل بولے انہی کو معلوم ہوگا مجھے کیا پتہ۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اعتراف جرم کیا، وہ صادق وامین نہیں رہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا پھر تو آپ کے دلائل مکمل ہوگئے۔ وکیل بولے عدالت دستیاب ریکارڈ پر نااہلی کا فیصلہ دے، قطرکا خط بھی جھوٹ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا خط وزیراعظم کی طرف سے نہیں ، بچوں کی جانب سے ہے۔ وکیل بولے دلائل دے رہاہوں معلوم نہیں کس حد تک کامیاب ہوں۔ جسٹس اعجازبولے آپ بہت کامیاب رہے ہیں۔ عدالت میں پھس پھس کی آوازیں گونج گئیں۔
وکیل نے رخ آف شور کمپنیوں کی جانب موڑا تو جسٹس کھوسہ بولے یہ بات پہلے ہوچکی ہے کہ آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ پرائیویٹ بندہ نہیں لاسکتا، جس کی کمپنی ہے وہی لاسکتاہے۔ وکیل نے کہا عدالت اجازت دے گی تو مزید فیصلوں کے حوالے پڑھوں گا، جسٹس عظمت نے کہا اتنی بار اجازت طلب کرتے ہیں کہ جیسے پوری کوشش ہو کہ عدالت آپ کو اجازت نہ ہی دے۔ یہاں وکیل نے ایک اور موڑ مڑا ، بولے وزیراعظم نے تقریر میں جبری جلاوطنی کا ذکر کیا وہ بھی جھوٹ ہے اس لیے صادق وامین نہیں رہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا ا س وقت جبری جلاوطنی کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں، طیارہ اغواکیس میں نواز شریف کی سزا ختم کرکے عدالت نے یہ معاملہ بھی نمٹا دیا تھا آپ وہ فیصلہ پڑھ لیں۔وکیل نے کہا عدالت فیصلہ دے سکتی ہے۔ جسٹس کھوسہ بولے ایک ہی بات دس بار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، انصاف کرنے کیلئے ہمیں آئین نے کوئی بھی حکم جاری کرنے کا اختیار دیاہے۔ عدالت کے پوچھنے پر وکیل نے کہا مزید ایک گھنٹہ دلائل دوں گا۔ جسٹس عظمت نے کہا دس منٹ کا کیس تھا ۔
قارئین۔ اب فیصلہ آپ کریں کہ افتخار چودھری کی کوچنگ کس حد تک کامیاب ہے ۔

متعلقہ مضامین