آدمی جزیرہ نہیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
چیف جسٹس ثاقب نثار کراچی گئے تو سپریم کورٹ کا کمرہ نمبر ایک پانامہ پیپرز کیس سننے والے ججوں کا مسکن بنا، کشادہ عدالت کی اونچی چھت تلے ہر کسی کو کرسی میسر آئی تو سکھ کا سانس لیا۔ شاہراہ دستور پر پارلیمان اور ایوان صدر سمیت ریاستی عمارتوں کے جھرمٹ میں سپریم کورٹ کو جاپانی آرکیٹیکٹ نے ایسے ڈیزائن کیا ہے کہ اس کے کمرہ نمبر ایک جہاں چیف جسٹس بیٹھتے ہیں کی چھت ہر بلڈنگ سے اونچی دکھائی دیتی ہے۔ انصاف کا بول بالا ہو نہ ہو مگر سبزرنگ کی فائبر والی چھت پر تیز بارش گرتی ہے تو عدالت میں اس کا ترنم اترتا ہے۔
ایسے میں مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا عمر کے تقاضے کی وجہ سے وہ اونچا سننے لگے ہیں، ان تک ججوں کے سوال مشکل سے پہنچتے ہیں اور آج بارش کا شور بھی ہے توجج صاحبان با آواز بلند بولیں شکر گزار ہوں گا ۔ پانچ رکنی بنچ کے سامنے وکیل شاہد حامد نے گزشتہ روز کے عدالتی سوال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ حسین نواز کی ایک بیوی فلسطینی، دوسری برطانوی شہریت رکھتی ہے۔ وکیل صاحب نے مریم نواز کے ٹی وی انٹرویو کی بھی وضاحت دینے کی کوشش کی اور بولے انٹرویو کو سیاق وسباق میں دیکھنا ہوگا انہوں نے صرف الزامات کے جواب دیے تھے۔ شاہد حامد نے مریم کے زیرکفالت نہ ہونے کے معاملے پر دلائل دیتے ہوئے کہا انکم ٹیکس محکمے نے اثاثوں کا فارم واضح نہیں بنایاتھا اس لیے وزیراعظم نے مریم کے نام جائیداد ایک ہی خانے میں لکھی۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا زیرکفالت کی تعریف وتشریح انکم ٹیکس و عوامی نمائندگی کے قوانین کے علاوہ نیب آرڈی ننس میں بھی واضح نہیں ہے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا قانون سازوں نے زیرکفالت کو مکمل طور غیر واضح چھوڑ دیا ہے تو پھراس کی تعریف عدالت کرے گی اور ہر کیس میں اس کی الگ تشریح حالات و واقعات کے مطابق ہوگی۔جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا کہ جب پورا خاندان ہی کاروبار کر رہا ہوتو پھر زیرکفالت کی تعریف کیا ہوگی؟۔ ان کاکہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے اس کے بچے خود بھی کاروبار کرتے ہیں مگر سربراہ ان کو بھی پیسے دیتا ہے، ایسی صورت میں کیا باقی لوگ اس کے زیرکفالت تصور ہوں گے۔ وکیل نے کہا رشتے کے جذباتی اثرات کے تحت بھی کفالت تصور ہوتی ہے اور ثقافتی طور پر بھی یہ معاملہ مختلف ہوتاہے۔ جسٹس اعجاز افضل بولے جب قانون میں واضح تعریف نہ ہوتو ڈکشنری کی تعریف لینا ہوگی۔ وکیل نے کہا قانونی لغت میں زیرکفالت کے معانی مکمل طور پر کسی کے سہارے زندہ رہنا ہے۔ وکیل نے کہا اصل معاملہ انکم ٹیکس کا ہے اگر ٹیکس دیاہے تو زیرکفالت ہونا مسئلہ نہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا جب ٹیکس گوشوارہ جمع کرایا، کیا کسی ٹیکس افسر نے اعتراض کیا؟ کیا پانچ سال بعد ٹیکس کھاتے کو قانون کے مطابق کھولا جاسکتاہے؟ کیا ہم یہاں ٹیکس فیصلے پر براہ راست اپیل عوامی مفاد کے مقدمے میں سن سکتے ہیں؟۔وکیل نے کہا کسی نے اس وقت ٹیکس معاملے میں اعتراض نہیں کیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہم صرف زیرکفالت ہونے کا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔
وکیل شاہد حامد نے کفالت اور سہارے و تعلق پر جان ڈن کی انگریزی نظم بھی سنائی ۔ شاعر نے کہا کوئی بھی انسان جزیرہ نہیں، وہ دوسرے انسان سے جڑا ہوا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل مزاح کے موڈ میں بولے اگر اس کی تشریح کی جائے تو نواز شریف بھی زیرکفالت ہیں اور اپنے بچوں کے سہارے ہیں۔
پھر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں اور وکیل شاہد حامد کے درمیان مریم نواز کی جائیداد اور ذرائع آمدن پر طویل اور دلچسپ بحث ہوئی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا بتائیں نواز شریف نے مریم کیلئے زمین کب خریدی، حسین نے والد کو کروڑوں کے تحائف کن تاریخوں میں دیے، پھر نوازشریف نے مریم کو رقم تحفے میں کب دی اور مریم نے زمین کی قیمت اپنے والد کو کب ادا کی۔ یہ تاریخیں اہم ہیں اور ہم جاننا چاہتے ہیں۔ وکیل نے کہا اس کی تفصیلات بعد میں فراہم کروں گا، پہلے مریم کی چار جائیدادوں کے بارے میں جان لیں ،نواز شریف نے مریم کو 2010 میں کیلئے اٹھارہ کنال زمین47 لاکھ میں خریدکردی،اسی سال 12 کنال تیرہ مرلے زمین 34 لاکھ 78 ہزار میں خریدی گئی مگر رجسٹری اپریل دوہزار گیارہ میں ہوئی۔ وکیل نے کہا مریم کی تیسری اور چوتھی جائیداد یکم مارچ دوہزار گیارہ کو خریدی گئی، 8 کنال زمین 22 لاکھ میں جبکہ 47 کنال زمین ایک کروڑ 33 لاکھ میں خریدی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اسٹامپ پیپر یکم مارچ کاہے اور زمین خریداری کی تاریخ سات فروری ہے، یہ بات سمجھائیں۔ وکیل نے کہا یہ غلطی ہے عموما وکلا ءکے دفاتر میں سادہ کاغذ پر ڈرافٹ بناکر بعد میں اسٹام بنائے جاتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا غلطی کو دیکھیں گے تاریخ اہم ہوئی تو اثرات ہوسکتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا اس غلطی کو درست کیوں نہیں کیا گیا؟۔ وکیل نے کہا آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کی نشاندہی کی۔ وکیل شاہد حامد نے کہا مریم کو بی ایم ڈبلیو کار بیچنے سے دوکروڑ کامنافع ہوا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا یہ کار بھائی نے تحفے میں بھیجی تھی جس پر 35لاکھ کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی ، مریم کی اپنی آمدنی بتائیں۔ وکیل بولے مریم کی زرعی زمین سے آمدنی ہے، جج نے کہا زرعی زمین بھی والد نے خرید کردی تھی، بتائیں سب سے پہلی زمین مریم نے کس کمائی سے خریدی۔ وکیل نے کہا مریم نواز کی آمدنی کی تمام تفصیل دینے کو تیار ہوں۔ جسٹس گلزار نے کہا یہ تمام تفصیل تحائف سے ملنے والی رقم کی ہے آمدنی نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا جب زیادہ تر آمدنی تحائف کی صورت میں ہے تو کیا وہ زیرکفالت نہ ہوئیں؟۔ وکیل بولے یہ بات درست نہیں ہے، مریم زرعی زمین سے آمدن پاتی ہیں۔ جج نے کہا پھر ہمیں مریم نواز کی تحائف کے علاوہ ذریعہ آمدن بتائیں۔
وکیل شاہد حامد نے کہا کیپٹن صفدر کی آمدن اٹھارہ لاکھ جبکہ مریم نواز کے ساتھ ملا کر کل اکتالیس لاکھ تھی، دونوں کے اخراجات 35 لاکھ روپے تھے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا زیرکفالت معاملے کو کیا آمدنی واخراجات کے پیمانے پر ناپا جا سکتا ہے؟ ہم سا س کی طرح حساب کتاب نہیں مانگ رہے۔وکیل نے کہا مریم نواز کو تحائف ملے ، بیٹیوں اوربہنوں کو تحفے دینا اچھی روایت ہے، دیگر لوگوں نے بھی ایسے تحائف دیے ہیں اور ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ (مریم نواز کے وکیل نے یہ بات تواتر کے ساتھ دہرائی تو جہانگیر ترین اپنی کرسی پر پہلو بدلتے رہے اور سماعت کے اختتام پر انہوں نے میڈیا کے سامنے اس بات پر اپنی وضاحت بھی پیش کی اور کہا کہ وکیل نے مجھے ہٹ کیا ہے)۔
وکیل شاہد حامدنے کہا حسین نواز نے آج دستاویزات جمع کرائی ہیں ان میں برطانوی وکیل کا خط بھی ہے کہ 1993 میں ان سے شریف خاندان کے کسی شخص نے فلیٹ خریداری میں رابطہ نہیں کیا تھا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ خط صرف ایک ہفتہ قبل کاہے اوربرطانوی وکیل نے حسین کے وکیل سلمان اکرم کو لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا اس کا مطلب ہے حسین نواز عدالت میںمخالف دلائل سن کر اپنی دفاعی باڑ کو درست کررہے ہیں۔وکیل نے کہا مریم عام شہری ہیں عوامی مفاد کے تحت مقدمہ کیسے سنا جاسکتا ہے، سیاسی رقابت کی وجہ سے ایک شخص عدالت آیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا تین سیاسی جماعتیں عدالت آئی ہیں، سیاسی مخالفت جنگ نہیں ہوتی۔ ہرسیاسی جماعت اپنے منشور کے تحت بہتری لانا چاہتی ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا سیاسی مخالفت والا مقدمے کیوں نہیں سن سکتے، بتائیں بدنیتی کیا ہے؟۔ وکیل نے کہا ننانوے میں عمران خان نے مشرف مارشل لاء کو خوش آمدید کہا تھا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا قاضی حسین احمد نے بھی یہی کہاتھا، یہ پرانی باتیں ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا معلوم ہے جیلوں میں پڑے بہت سے لوگوں کے مقدمات سماعت کے منتظر ہیں مگر یہ کیس بھی سننا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیس سننے سے فیصلہ نہیں ہوجاتا کہ قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرلیا، عدالت کے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے