ڈنڈی مار جج

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ کے جج بھی ایک دوسرے سے قانونی معاملات اور مقدمات میں اختلاف کرتے ہیں اور بعض اوقات ان کی نوعیت شدت بھی اختیار کر جاتی ہے اور ذاتی پسند ناپسند کے خانے میں ایک دوسرے کو ڈال دیتے ہیں۔ قانون کی تشریح اور آئین کے مطابق فیصلے دیتے ہوئے کچھ جج چھوٹی موٹی ڈنڈی مار جاتے ہیں۔
پاکستان میں عرب شیخوں کے تلور کے شکار کا مقدمہ زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں جواد ایس خواجہ، دوست محمد خان اور قاضی فائزعیسی نے عوامی مفاد کے قانون کے تحت مقدمہ سن کر شکار پر پابندی عائد کی۔ فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا تھا۔ اس کے خلاف حکومت نے نظرثانی اپیل کی تو جسٹس جواد ایس خواجہ ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اپیل سننے کیلئے بنچ کا سربراہ جسٹس ثاقب نثار کو بنا دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پہلے لمحے سے طے ہوگیا تھا کہ جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے پہلے حکم کو ختم کرکے شیخوں کو حکومت کی مرضی سے تلور کے شکار کی اجازت دیں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی بھی اس بات کو سمجھ چکے تھے اس لیے ان کی آپس میں ٹھن گئی اور یہ بات ہر کسی نے عدالت میں محسوس کی۔ جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مقدمہ چیف جسٹس کو واپس بھجوا دیا کہ اس کو سننے کیلئے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ بنایا جائے۔ جسٹس قاضی فائز نے اس پر یہ اعتراض داغ دیا کہ معاملہ اتنا پیچیدہ اور اہم نہیں کہ اس کو پانچ جج سنیں۔
خیر، اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی نے پانچ ججوں کا بنچ بنایا اور چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں جسٹس دوست محمد کو شامل نہ کیا۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے شکوہ بھی کیا مگر چیف جسٹس نے کہا کہ بنچ بنانا ان کا صوابدیدی اختیار ہے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ (روایت یہ ہے کہ جن ججوں نے پہلے کیس سن کر فیصلہ دیا ہو ان کو نظرثانی اپیل سننے والے بنچ میں لازمی بٹھایا جاتا ہے)۔ جسٹس دوست محمد کو بنچ میں شامل نہ کرنے پر فکس میچ کا انجام یہ ہوا کہ مقابلہ چار ایک پر ختم ہوا، جسٹس قاضی فائز نے اختلافی نوٹ بھی لکھا اور پانچ رکنی بنچ بنانے کے فیصلے کو بھی رگڑا لگایا۔ لیکن سپریم کورٹ نے شیخوں کو شکار کھیلنے کی اجازت دیدی۔ یہ فیصلہ انتہائی عجلت اور غیر ضروری جلد بازی دکھاتے ہوئے دیا گیا، فیصلہ خواہ جتنا بھی قانون کے مطابق ہو مگر ججوں کے قد کاٹھ کا تعین کر گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کے مزاج میں شاید کچھ تلخی ہے اس لیے بلوچستان سے کروڑوں روپے برآمد ہونے والے سیکرٹری مشتاق رئیسانی کے مقدمے میں کچھ روز قبل چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ میں سخت سست کہا تو آج اس کیس کو جسٹس ثاقب نثار نے اپنے پاس لگا گیا اور خود سنا ( کیونکہ اب وہ چیف جسٹس ہیں اور یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے)۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے بعض جج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف مقدمات میں عام وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سرکاری وکیل پیش کیوں نہیں ہوتے جن کو لاکھوں روپے کی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے یہ کیا کہ کچھ دن قبل اس حوالے سے فیصلہ بھی تحریر کر دیا۔ فیصلے میں انہوں نے لکھ دیا کہ اگرسرکاری وکیل نااہل ہیں توان کو فارغ کردیا جائے اور اگر اہلیت رکھتے ہوں تو خود پیش ہوں، سرکاری وکیلوں کے ہوتے ہوئے حکومت کے مقدمات میں بڑے وکیل لاکھوں روپے فیس لے کر کیوں پیش ہوتے ہیں؟۔ اس فیصلے میں جسٹس قاضی فائز نے جسٹس ثاقب نثار کے ایسے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر دیا تھا۔
اس فیصلے سے بڑے نامی گرامی وکیلوں کو تکلیف تو ہونا تھی مگر کچھ ججوں کیلئے بھی شاید مشکل صورتحال پیدا ہوگئی جو وکیلوں سے بنا کر رکھتے ہیں۔
آج یہ معاملہ سپریم کورٹ کے دو مختلف بنچوں میں زیربحث آیا، ایک جانب سابق وفاقی وزیرحامد سعید کاظمی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی تو جسٹس امیرہانی نے پوچھا خصوصی پراسیکیوٹر اس مقدمے میں کیوں لگایا گیا اور پیش کیوں نہیں ہو رہا؟۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل نے بتایا کہ خصوصی پراسیکیوٹر چودھری اظہر کی خدمات رحمان ملک کے کہنے پر حاصل کی گئیں تھی اور ان کو چوالیس لاکھ فیس بھی ادا کردی تھی۔ جسٹس امیرہانی نے کہا کہ آئندہ اس طرح کے مقدمات سرکاری وکیل خود لڑیں۔
دوسری طرف وزیراعلی سندھ کے مشیروں کے تقرر کے مقدمے کی سماعت تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بیٹھا ہوا تھا۔ سندھ حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے حکومتی مقدمات میں نجی وکیلوں کے پیش ہونے کے خلاف فیصلہ دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا ابھی ہم نے بھی وہ تفصیلی طور پر نہیں پڑھا۔ وکیل بولے مگر میں مزید شرمندگی کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے خود کو شرمندگی سے بچانے کیلئے سندھ حکومت کی وکالت سے الگ ہو رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی تو نہیں ہوتا اس پر نظرثانی بھی کی جاسکتی ہے۔ بنچ میں بیٹھے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ایسے فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نجی وکیل سرکاری مقدمات میں بہت بھاری فیس لیتے ہیں اور دوسری جانب سرکاری وکیلوں کو کام بھی نہیں کرنا پڑتا اور تنخواہ بھی لیتے ہیں، اسی طرح سرکاری افسران اپنے خلاف مقدمات میں بھی سرکاری خزانے سے نجی وکیلوں کو فیس دیتے ہیں۔ تاہم وکیل مخدوم علی خان نے خود کو مقدمے کی وکالت سے الگ کر لیا۔
اس کے بعد ایک جج نے دوسرے سے کھسر پھسر کی، مائیک آن ہونے کی وجہ سے ہلکی سی آواز نشر ہورہی تھی۔ میں نے کرسی کے پچھواڑے میں نصب اسپیکر سے کان لگایا تو صرف دو جملے سن سکا’ پتہ نہیں کیسے ان لوگوں کو ’اے لیویٹ‘ (اوپر لانا) کرکے یہاں لایا گیا ہے، کیا اب ہمیں سپریم کورٹ میں ان کی تربیت کرنا پڑے گی‘۔ (واضح رہے کہ ’اے لیویٹ‘ کا لفظ ججوں کو ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں لانے کیلئے استعمال ہوتا ہے)۔
اپنا خیال رکھیے گا ۔ آپ کا، اے وحید مراد

متعلقہ مضامین