”شہرکراچی“

خود کو مستقل ذہنی تناﺅ سے محفوظ رکھنے کے لئے میں ہفتے کے آخری دنوں میں ٹی وی نشریات سے لاتعلق رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ کل وقتی صحافی ہونے کی وجہ سے ”تازہ خبروں“ کا پتہ رکھنا بھی لیکن ضروری ہے کیونکہ ایک چیز ہوتی ہے Beeper۔
کوئی بھی بڑا واقعہ ہوجائے تو نیوزاینکرز مجھے ”سینئر صحافی اور تجزیہ نگار“ گردانتے ہوئے فون پر لے لیتے ہیں۔اکثر اوقات یوں بھی ہوا کہ صرف نیوزاینکرز کے سوالات سے اندازہ ہوا کہ میرے ”گراں قدر“ خیالات کس واقعے کی بابت برداشت کئے جارہے ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات سے قطعاََ بے خبر ہونے کے باوجود انتہائی ڈھٹائی سے ”تجزیہ“ فرماتے ہوئے دل ہی دل میں کافی ندامت محسوس ہوئی۔
بہرحال،ہفتے کی سہ پہر تھوڑی دیر کو ٹی وی کھولا تو کیمرہ ”شہرکراچی“ کے بڑی محنت سے بنائے ایک ”ترجمان“ پر Liveکٹ ہوچکا تھا۔موصوف سندھ کی صوبائی حکومت کو بے تکان اپنی تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔
شہری معاملات سے متعلق کئی اداروں پر اس حکومت کے ”قبضے“ کی بھرپور مذمت کے بعد ”ترجمان“ نے رُخ اپنی بدکلامی کا وزیر اعظم کی جانب موڑلیا۔ نواز شریف کو ”وزیر اعظم پاکستان نہیں وزیراعظم پنجاب کہا“ اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ شہر کراچی کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لئے اب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے سرکاری گھر پر احتجاجی مظاہرے کے ذریعے دھاوا بولنے کو تیار ہے۔اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔
”شہر کراچی“ کے بڑی محنت سے بنائے یہ ”ترجمان“ کئی برسوں تک ان دنوں لندن میں مقیم ”بھائی“ کے جاں نثار وفادار ہوا کرتے تھے۔ اسی جاں نثاری کا صلہ انہیں کراچی کا ایک بہت ہی بااختیار میئر بناکر دیا گیا۔ ملک ہمارا اس وقت جنرل مشرف صاحب کی رہ نمائی میں ترقی اور خوش حالی کی جانب زقندیں بھرتا سفر کررہا تھا۔جمہوریت بھی ان کے افلاطونوں بنے جنرل تنویر نقوی کے متعارف کردہ نظام ضلعی حکومت کی بدولت ”جعلی“ نہیں ”اصلی“ ہوا کرتی تھی کیونکہ اقتدار،بقول ان کے ”عوام کے حقیقی اور نام نہاد Grassrootsسے اُٹھے نمائندوں کو منتقل کردیاگیا تھا۔
اس میئر نے اپنے دورِ اختیار میں کئی "Overhead”پل اور راستے تعمیر کروائے۔ فرانس کے ایک نوجوان محقق نے بہت تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے کہ ان پلوں کے ذریعے اُردو بولنے والے متوسط طبقات کو یہ سہولت فراہم کی گئی کہ وہ غیر مہاجر کچی بستیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے راستوں سے بالابالا اپنے گھروں،محلوں اور دفتروں تک سرعت سے پہنچ جایا کریں۔Overheadاور انڈر ہیڈ بائی پاسز کو Mega Projectsشمار کیا جاتا ہے۔انہیں تعمیر کرنا عام ٹھیکے داروں کے بس میں نہیں ہوتا۔اس ضمن میں بلڈرز مافیا کے مگر مچھوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے جو ”پارٹی قیادت“ کے نازنخرے اٹھانے میں بھی کافی فیاضی کا مظاہرہ فرماتے ہیں۔
”شہر کراچی“ کو کوالالمپور جیسا دکھانے کے بعد یہ میئرسینٹ کے رکن بنائے گئے۔وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد نجانے کہاں غائب ہوگئے۔پھر اچانک خبر آئی کہ برطانوی حکومت کئی برسوں سے لندن میں مقیم ”بھائی“ کو منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت رگڑا لگانے والی ہے۔نسلی اور لسانی عصبیت کی بنیادوں پر کی جانے والی سیاست میں ”قیادت کا خلائ“ پیدا ہونے کی گنجائش نظر آئی تو یہ صاحب اچانک کراچی میں نمودار ہوگئے۔اس شہر کے ایک نسبتاََ پوش علاقے میں ”کمال لانڈری سروس“ والی دُکان کھول لی۔ ”قائد کے غداروں“ کو ”موت کا حق دار“ ٹھہرانے والے کئی نامی گرامی بھتہ جمع کرنے والے اس دُکان پر آکر وطنِ عزیز کو حقیقی معنوں میں ”پاک سرزمین“ بنانے کے لئے Liveکیمروں کے سامنے حلف اٹھانے لگے۔
گناہوں سے تائب ہوکر اپنا ایمان تازہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے میری نظر میں ہمیشہ بہت مشکوک رہے ہیں۔ انہیں دیکھنے اور سنتے ہوئے دل میں جذبات کچھ ایسے ہی امڈ آتے ہیں جیسے ان دنوں کئی پاکستانیوں کے دل میں وحشی صفت دہشت گردوں کے سابق”ترجمان“ احسان اللہ احسان کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔
ایک زمانے میں بھارت کی اندرونی سیاست پر نگاہ رکھنا میری پیشہ وارانہ مجبوری ہوا کرتی تھی۔ان دنوں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کا بہت چرچا تھا۔اس ”سنت“کی اندراگاندھی نے اپنے ایک قابل اعتماد مشیر گیان ذیل سنگھ کے اصرار پر بہت عرصہ خفیہ طورپر سرپرستی کی تھی۔مقصد اس سرپرستی کا بھارتی پنجاب کو اکالی دل کے قبضے سے آزاد کروانا تھا۔مذہبی انتہاءپسندی اور فرقہ وارانہ سوچ کی علامت اکالی دل،سکھوں کو بھارتی مین سٹریم سے جدا رکھے ہوئے تھی اور اندراگاندھی اپنی آل انڈیا کانگریس کو پورے بھارت کی واحد سیاسی جماعت ثابت کرنے کے لئے جنونی آمروں کی طرح تلی ہوئی تھی۔بھنڈرانوالہ کی سرپرستی مگر بالآخر اسے سکھوں کے ایک مقدس مقام-گولڈن ٹمپل- پر بھارتی فوج کی چڑھائی کی طرف لے گئی۔اس آپریشن ہی کی وجہ سے اکتوبر1984ءمیں اس کا اپنے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل بھی ہوا۔
میں جبلی طورپر اکثر اس خدشے میں مبتلا رہتا ہوں کہ ”شہر کراچی“ کے بڑی محنت سے بنائے یہ ”ترجمان“ بھی ریاستِ پاکستان کے چند دائمی اداروں کی مہربانیوں سے ہمارے بھنڈرانوالہ ثابت ہوسکتے۔
صرف اندھی عصبیت یا بے حسی ہی آپ کو یہ حقیقت تسلیم نہ کرنے پر مجبور کرے گی کہ 1980ءکی دہائی سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو مختلف النوع جرائم پیشہ گروہوں کی آماجگاہ بنادیا گیا ہے۔یہ گروہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر ”سیاسی“ ہوئے لوگوں کے آلہ کار اور سہولت کار بھی ہیں۔2008ئءسے پیپلز پارٹی سندھ کی مسلسل حکمران ہے۔کراچی ہی نہیں اس صوبے کے دیگر شہروں کو بھی اس نے مسلسل نظرانداز کیا۔ وجہ اس کی ووٹ بینک والی منحوس سیاست ہے۔
کراچی ہی نہیں سندھ کے دوسرے شہروں کو بھی صا ف ستھرا،جدید تر اور شہری سہولتوں کا حقدار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز سے جائز اور کماحقہ رقوم بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔اس سب سے اہم ضرورت مگر ایک ایسے سیاسی عمل کو متعارف کروانا ہے جہاں سندھ کے رہائشی خود کو رعایا نہیں،حقوق وفرائض والے شہری بنائیں۔کسی بھی نوعیت کے تعصب سے بالاتر ہوکر۔
”شہر کراچی“ کا بڑی محنت سے بنایا”ترجمان“ مگر صرف اپنے شہر کوکئی برسوں سے لندن میں مقیم ”بھائی“ کے متعارف کردہ تعصبات کی بنیاد پر سب سے ”وکھرا“ دکھانے کے جنون میں مبتلا ہے۔ووٹ بینک کی بنا پر ابھری ”قیادت“ کے خلا کو پُر کرنے کے لئے بے چین اور تلون مزاج۔اس کی سرپرستی اور پذیرائی سے پرہیز ہی میں عافیت ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button