کل بھوشن، عدالت اورتجزیہ کار

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کے مقدمے کی گونج ہرطرف سنائی دے رہی ہے۔
آئین، قانون اورعالمی امور پر تجزیے وہی افراد کرتے نظر آتے ہیں جو پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر ہر فن مولاہیں۔
سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ ’ہمیں عالمی عدالت انصاف کو جواب ہی نہیں دینا چاہیے تھا‘۔
ابتدائی سماعت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کو عبوری طور پر روکا گیاتو وکیل کو نشانے پر رکھ لیا گیا۔
فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’کل بھوشن کیس میں وکیل میں نے کیاتھا‘ تو سینئر تجزیہ کار اس موضوع پر خاموش ہوگئے۔
تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے بعض سیاست دان ابھی تک وکیل کے پیچھے پڑے ہیں اور اس آڑ میں نوازحکومت پر غصہ نکال رہے ہیں۔
جس کسی نے وکیل خاور قریشی کے دلائل سنے ہوں اسے معلوم ہوگاکہ بھرپور تیاری کی تھی اور بہترین انداز سے مقدمے میں دفاع کیا۔
پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر کوئی سنجیدہ اور پڑھا لکھا وکیل تجزیہ کرتاتو بتاتا کہ
پاکستان نے کل بھوشن کو قونصلر رسائی نہ دینے کا فیصلہ کرکے غلطی کی،
پاکستان نے جاسوس کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلاکر غلطی کی،
اور پورا یورپ سزائے موت کے خلاف ہے اس لیے بھی ہمارے کیس میں اس ’کمزوری ‘ کو مدنظر رکھا جائے۔
بھارت نے اجمل قصاب کے مقدمے میں پاکستان کو قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کی تھی اور کیس بھی عام عدالت میں چلایا تھا۔
رات ایک ٹی وی چینل پر پرویزمشرف کے مایہ ناز وکیل کہہ رہے تھے کہ ’میں دی ہیگ میں نہیں تھا ورنہ عدالت کے باہر میڈیا کو بتاتا کہ انڈیا کتنا بڑا دہشت گرد ہے‘۔
پاکستان کے پاس عدالت کے باہر اور ٹی وی چینل پر مقدمہ لڑنے والے ہزاروں لاکھوں وکیل ہیں مگر ہمیں عالمی عدالت انصاف کے اندر کیس جیتنے کیلئے اچھے وکیلوں کی ٹیم تشکیل دینی ہے۔
آرمی چیف نے خاورقریشی کو وکیل کرکے بہت اچھا کیا، مگر اس سے بھی اچھا ہوتا کہ خاور قریشی کو وزیرقانون اور اٹارنی جنرل سے بھی ملنے دیا جاتا، کیس کو بھرپور انداز سے لڑنے کیلئے ایسا ضروری ہے۔
اے وحید مراد

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button