بجٹ اور بجلی

ملک میں بجلی پیدا کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں ۔ ان میں پانی، تھرمل، ہوا، شمسی اور ایٹمی توانائی شامل ہیں ۔ تھرمل ذرائع میں فرنس آئل، گیس، کوئلہ، بائیو ڈیزل شامل ہیں۔ اس سال باگاس یعنی گنے کے پھوک سے بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے پلانٹس نے کام کرنا شروع کرنا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں سنہ 2016  میں بجلی کے 53  نجی پلانٹس یعنی آئی پی پیز جب کہ 33 سرکاری پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ سرکاری پاور پلانٹس میں واپڈا ہائیڈرو کے 19، اور 15 جینکوز شامل ہیں۔

 اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2016 میں واپڈا ہائیڈرو پلانٹس کی کل استعداد 6,902 میگا واٹ، اسی طرح جینکوز کی کل پیداواری صلاحیت 8,000 میگا واٹ جب کہ آئی پی پیز (تھرمل) کی نو ہزار میگا واٹ پیداواری صلاحیت ہے لیکن کوئی بھی پلانٹ اپنی استعداد کے مطابق پیداوار نہیں کرتا ـ

نیوکلئیر پاور پلانٹس کی کل استعداد 414 میگا واٹ ہے۔ اسی طرح ہوا سے 306 میگا واٹ   جنریشن ہے۔ جبکہ ملک میں جون سنہ 2016 تک بجلی کی طلب 25 ہزار میگا واٹ تھی۔

 جس دور میں نجی بجلی گھروں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی گئی ملک میں درامدی فرنس آئل کی قیمت 1,500 روپے فی ٹن تھی لیکن 2013 میں یہ 72 ہزار روپے فی ٹن ہو چکی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1985 تک پاکستان میں 67 فیصد بجلی پانی اور 33 فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کی جا رہی تھی جبکہ 65 فیصد بجلی تھرمل اور 35 فیصد پانی سے حاصل ہو رہی ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے مطابق گذشتہ چار سال میں بجلی کے ہائیڈل کے آٹھ ، پن بجلی کے 14، تھرمل کے آٹھ جبکہ نیوکلئیر کا ایک پلانٹ نصب کیا ہے۔ جن کی مجموعی صلاحیت پانچ ہزار میگا واٹ بتائی جاتی ہے۔

 وزارت پانی و بجلی کے مطابق 2018 کے آخر تک بجلی کی پیداواری صلاحیت 30 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ تاہم کہا جارہا ہے کہ اگر یہ اضافہ ہو بھی گیا تب بھی ترسیل کا نظام اپ گریڈ نہ ہونے کی وجہ سے صرف 18 ہزار میگا واٹ بجلی ہی صارفین تک پہنچ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button