پل دو پل کا شاعر

 آواز حق/ اعجاز منگی

وہ شاعر
جو آوارہ بھی تھا
اور انقلابی بھی!
اب دنیا اس کو بھول رہی ہے
اور اس معلوم تھا
وہ جو جانتا تھا
کل دنیا اس کو فراموش کر دے گی
اس لیے اس نے لکھا تھا:
’’میں پل دو پل کا شاعر ہوں
پل دو پل میری ہستی ہے
پل دو پل میری جوانی ہے!!‘‘
میرے عہد کے بوڑھے
اب اس کی کہانی بھول چکے ہیں
اور بچے نہیں جانتے:
’’وہ کون تھا؟‘‘
وہ جس نے اپنے دور سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا:
’’کل اور آئیں گے نغموں کی
کھلتی کلیاں چننے والے
مجھ سے بہتر کہنے والے
تم سے بہتر سننے والے
کل کوئی مجھ کو یاد کرے!!
کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے؟
مصروف زمانہ میرے لیے
کیوں وقت اپنا برباد کرے؟
میں پل دو پل کا شاعر ہوں!!‘‘
مارکسی شعور سے منور دماغ
اور عاشقی کے اندھیرے دل میں
بھٹکتے ہوئے جذبے جیسا وہ فرد!
بر صغیر کی کبھی بھی ختم نہ ہونے والی رات
کا ایک اداس جگنو تھا!
اب نہ کوئی سدھا ملہوترا کا یہ گیت سنتا ہے
’’تم مجھے بھول بھی جاؤ
تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے
میں نے محبت کی ہے‘‘
اور نہ اب پانچوں دریاؤں سے
بچھڑی ہوئی وہ لہر
بلھے شاہ کی باغی بیٹی
اور جدید پنجابی ادب کی
وہ اکھڑ مزاج شاعرہ زندہ ہے
جس کے ماتھے پر
اس شاعر کی محبت کا الزام
بندیا بن کر چمکا تھا۔
وہ شاعر!
جو آوارہ تھا
جوکہتا تھا:
’’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں‘‘
وہ شاعر!
جو انقلابی تھا
جو کہتا تھا:
’’اک شہنشاہ نے دولت کا سہارہ لیکر
ہم غریبوں کی محبت کا ڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے‘‘
کاش! وقت امرتا کو اتنی مہلت دیتا
کہ وہ اپنے آنچل جیسے آغوش کے سائے میں
اس دور کے سفید بالوں والے بچوں کو بٹھا کر
کہانی سے قبل یہ بول گنگناتی:
’’میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘‘
وہ شخص پل دو پل کا شاعر تھا!
وہ شخص جو ایک ٹوٹے ہوئے گملے جیسے خاندان میں کھلا
اور جس کے گیتوں سے وہ اک دور مہکتا رہا
جس دور میں امیتاب بچن جوان تھا
اور راکھی کے بال جدائی کی طویل اور گھنی رات تھے!
وہ دور جس میں صرف وہ نہ تھا
اس دور کی شام میں
کیفے اعظمی سے لیکر
سردار جعفری تک
اردو ادب کے شاعر بادل بن کربرستے تھے
اس وقت گلزار جوان اور جاوید اختر نوجوان تھا
اس وقت بالی ووڈ بانولی حسینہ جیسی تھی
اور گیتا دت اس کا گیت یہ گیت گاتی تھی:
’’آج سجن موہے انگ لگا لو
جنم سفل ہو جائے!!‘‘
وہ دور دھرتی کی تاریخ میں دفن ہو گیا ہے
جس دور میں لتا نیند سے روٹھی ہوئی رات میں
اس کا یہ گیت گنگناتی تھی:
’’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے!
کہ زندگی تیری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ رنج و غم کی سیاہی
جو دل پہ چھائی ہے
تیری نظر کے شعاؤں سے
کھو بھی سکتی تھی!!‘‘
وہ شاعر
اب کسی کو یاد نہیں
جو شاعر
شاعری لکھتا تھا
شاعری جیتا تھا
جو کہتا تھا:
’’تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں!
میں پھول ٹانک رہا ہوں
تمہارے جوڑے میں
تمہاری آنکھ مسرت سے جھکتی جاتی ہے
نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں
زباں خموش ہے
آواز رکتی جاتی ہے‘‘
اور شاعر جس نے دیکھا تھا
اور لکھا تھا:
’’میرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تم
سہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں
دبے سروں میں وہی گیت گا رہی ہو تم!
تصوارت کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کبھی یقیں کی صورت
کبھی گماں کی طرح‘‘
آج اس شاعر کو کوئی یاد نہیں کرتا
جو ’’پرچھائیاں‘‘ نامی ایک مکان میں رہتا تھا
جو کہتا تھا:
’’مجھ کو اتنی محبت نہ دوستو
سوچ لو دوستو۔۔۔!!
آج کا پیار تھوڑا بچا کر رکھو
میرے کل کے لیے
کل جو انجان ہے
کل جو سنسان ہے‘‘
اور ہے
آج کا دور اس سے انجان ہے
آج کا دور بہت سنسان ہے!
جو نہیں جانتا
اس شاعر کو جو
’’پل دو پل کا شاعر تھا‘‘
وہ پل جو تاریخ کی پاگل گلیوں میں
بهڻک رہا ہے
اور جو اسٹیٹس جاوید اختر اور گلزار کو اپلوڈ کرنا تھا
وہ اسٹیٹس میں اس عنوان سے اپلوڈ کر رہا ہوں
’’وہ پل دو پل کا شاعر تھا‘‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے