سیاست کے ہندو

 تحریر: مطیع اللہ جان

اللہ کا شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں ۔ مگر سیاسی طور پر ہم ہندؤں سے کم نہیں ۔ گائے کی قربانی ہمارا مذہبی فریضہ ہے مگر مقدس گائے کو پوجنا ہماری سیاسی اور آئینی ذمے داریوں میں شامل ہے ۔ ہم مذہب کے مسلمان اور سیاست کے ہندو ہیں ۔ واضح رہے کہ ہندو بھی انسان ہیں اور مذہب کی بنیاد پر یہ مؤازنہ ہر گز ان کی بے توقیری نہیں ۔ بتانا صرف یہ ہے کہ اس مقدس گائے نے سرحد کے دونوں اطراف برابر کا خون بہایا ہے ۔ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں آئین اور قانون کے نام پر ۔ کہیں مسلمانوں کی لاشیں گری ہیں تو کہیں آئین اور قانون کا خون ہوا ہے ۔ پاکستان میں ایسی دو گائے ہیں جن کے ” تقدس ” کو آئینی اور قانونی طور پر تحفظ دیا گیا ہے ۔ ہر مہذب ملک میں عدلیہ اور فوج کو بے جا تنقید کے خلاف قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ اس تقدس کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور کچھ شرائط ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں اس تقدس کے تقاضے تو بہت کیے گئے مگر ہمارے مقدس ادارے تقدس کے اس معیار پر خود پورا نہیں اترے جس کے لیے انہیں آئینی تحفظ دیا گیا تھا ۔ ہماری تاریخ فوج اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے بھری پڑی ہے ۔ ایوب خان کا مارشل لاء ہو ، یا جنرل ضیاء الحق اور اس دور میں بھٹو کی پھانسی ، یا جنرل مشرف کی فوجی بغاوت ہر بار عدلیہ نے ” شرمناک ” کردار ادا کیا ۔ جہاں سویلین ادوار حکومت آئے بھی تب بھی تب بھی در پردہ وردی حاوی رہی اور عدلیہ نے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیااور نہ ہی اظہار شرمندگی ۔ کالے کوٹوں اور کالے بوٹوں نے چند کالے کرتوتوں والے سیاستدانوں کی معاونت سے اپنے نام نہاد تقدس کی خاطر آئین کے تقدس کو سرعام پا مال کیا ۔ ظلم تو یہ ہے کہ جس آئین کے تقدس کی پامالی کو وقت کا نظریہ ضرورت قرار دیا جاتا تھا اس آئین کے تحت فوج اور عدلیہ کے تقدس کیلیے آئینی شقیوں کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ۔ آج بھی اداروں کا تقدس ایک نئے روپ میں سامنے آ رہا ہے ۔ اسے حکومتی اور عوامی نمائندوں کی بزدلی کہیں یا بدعنوانی آج فوج اور اسکے خفیہ اداروں کا وہ سیاسی کردار جو کبھی عدلیہ میں زیر بحث رہا اور ناپسندیدگی سے دیکھا گیا آج اس کو شعوری یا لاشعوری طور پر عملی شکل دے دی گئی ہے ۔ انیس سو نوے کے انتخابات کی چوری میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کردار کے حوالے سے سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہو یا لاپتہ افراد کے زیر سماعت سینکڑوں مقدمات میں فوج کے ان خفیہ اداروں پر الزامات ہوں سپریم کورٹ کو کبھی بھی ان خفیہ اداروں سے وہ تعاون نہیں ملا جو پانامہ کیس میں فراہم کیا جا رہا ہے ۔ پانامہ جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کی شمولیت اور جے آئی ٹی کے دفتری معاملات کا کنٹرول بھی ان خفیہ اداروں کے حوالے کرنے کے بعد اب امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمات میں بھی وہی تیزی اور اداراتی تعاون دیکھنے کو ملے گا جو پانامہ کیس میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ سیاستدانوں سے متعلق فیصلے اور انکی تذلیل جتنی آسان ہے اتنا ہی آسان انصاف کے ہتھوڑے کا استعمال لاپتہ افراد کے مقدمات میں بھی ہونا چاہیے ۔ اگر ایسا نہیں تو عام عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ انصاف کے ہتھوڑے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک لوہے اور دوسرے کاغذ کا ۔ اور اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ فوجی آمر جرنیل کے احتساب میں ناکامی کا سہرا تو حکومت کے سر باندھ دیا جاتا ہے ( جو کافی حد تک دورست بھی ہے ) تو پانامہ کیس میں خود حکومت کو بھی قانون کی رسیوں میں جکڑ کر کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا جاتا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حکومت کے خلاف کاروائی اتنی مشکل نہیں جتنی ایک "متوازی حکومت ” کے خلاف مشکل اور خطرناک ہے ۔ بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی ۔ ایسے ہی ایک کاغذی ہتھوڑے کی مثال تب بھی سامنے آتی ہے جب ایک اب سابق چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی کو پانامہ کیس سے پہلے اچانک خیال آتا ہے کہ حکومت کا بنایا گیا انکوائری کمیشن درست تحقیقات نہیں کر سکے گا ۔ جبکہ اس سے پہلے جب اسی قانون کے تحت سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات واسطے سپریم کورٹ کے تین معزز ججوں کے کمیشن نے کام شروع کیا تو اسوقت کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کو اس قانون میں نقائض کے باعث اس کی تحقیقات میں طاقت ور ملزمان کے خلاف ٹھوس کاروائی نہ کرنے کا ایک اچھا بہانہ موجود تھا ۔ بہانہ اس لیے کہ تین معزز ججوں کی حامد میر کمیشن کی ایک لیک شدہ غیر مصدقہ مگر غیر مسترد شدہ رپورٹ میں قاتلوں تک پہنچنے میں ناکامی کا یہ جواز دیا گیا کہ پولیس نے حامد میر پر قاتلانہ حملے کے جائے وقوعہ کی ” جیو فنسنگ ” رپورٹ فراہم نہیں کی تو یہ ایک لحاظ سے اچھا ہی ہو گیا کہ پرانے قانون کے تحت تاریخ میں پہلی بار تین سپریم کورٹ کے ججوں کے کمیشن کو زیادہ اختیار نہیں ملے تھے ۔ اگر مل جاتے تو شاید سپریم کورٹ ” جیو فنسنگ ” رپورٹ کی عدم فراہمی کا الزام پولیس کے معمولی اہلکاروں پر لگا کر خاموش ہوجانے کی بجائے آئی ایس آئی یا ایم آئی کے سربراہان کو طلب کر کے یہ رپورٹ حاصل کر لیتی اور پھر حامد میر کمیشن رپورٹ بے نتیجہ رکھنا نا مکمن ہو جاتا۔ حامد میر کمیشن رپورٹ کے لیک ہونے سے پہلے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایک ڈنر پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی مہمان خصوصی تھے۔میں ان کے پاس چلا گیا اور کہا کہ حامد میر کمشین رپورٹ کے جاری نہ ہونے کے باعث صحافی برادری خدشات اور دباو کا شکار ہے۔نرم گفتار چیف جسٹس اچانک سیٹ سے کھڑے ہو گئے اور ساتھ بیٹھے ایک نامعلوم مہمان کے سامنے کہا کہ انھوں نے رپورٹ لکھ کر کمیشن کے ساتھی ارکان کو رائے دینے کے واسطے بھیج دی ہے اور ان کی رائے کا انتظار ہے اس مکالمے کا ڈرامائی اختتام مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔جب میں نے کہا کہ کیا ہم صحافی لوگ کمیشن کی اس رپورٹ سے ایسے ٹھوس فیصلے اور نتیجے کی توقع رکھئے جس سے ملک میں آزادی صحافت اور اظہار رائے محفوظ ہونگے۔تو ان کا جواب میرے لیے انتہائی غیر متوقع اور افسوسناک تھا۔اپنے آئیئی عہدے کے حلف میں آئین کا دفاع کرنے کی قسم کھانے والے معزز چیف جسٹس نے ایک ہی جملے میں آئین اور قانون کی بالادستی کا پول کھول کر رکھ دیا۔ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ مجھے آج بھی نہیں بھولتے۔ "مائی لارڈ” نے فرمایا “Matiullah , you know this is Pakistan یہاں کیا ہو سکتا ہے ” کچھ دیر کے لیے تو مجھے اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آیا مجھے شک ہوا کہ شاہد میں کسی غلط آدمی کو چیف جسٹس سمجھ بیھٹا ہو۔میں نے ادھر ادھر دیکھا ساتھ موجود نامعلوم شخص کے چہرے پر کسی حیرانگی کے تاثرات نہیں تھے۔یہ سنسے کے بعد میں نے زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور تقریب سے چلا آیا۔میرا شک درست تھا کہ میں ایک غلط آدمی کو چیف جسٹس سمجھ بیٹھا تھا اور یہ غلطی صرف میں نے نہیں کی بلکے اس آئین سے بھی ہوئی جس کے تحت ایک سینئر ترین جج ہی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن سکتا ہے۔ حامد میر کمیشن کے دوسرے ممبران میں ایک جسٹس حمید الرحمان تھے جو اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔ وہ چیف جسٹس حمود الرحمان ( جو حمود الرحمان کمیشن کے سربراہ تھے ) کے فرزند ہیں۔ جسٹس اقبال حمید الرحمان نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جو ملازمتیں دی تھی سپریم کورٹ کے ساتھی ججوں نے انھیں کالعدم قرار دے کر ان تقرریوں میں ملوث موجود چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔ مگر ججوں کے خلاف کاروائی کو نہ صرف خفیہ رکھا جاتا ہے بلکے ان کی "با عزت” ریٹائر منٹ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہ سہولت سویلین وزراء اعظموں کا حاصل نہیں جو اپنی مدت پوری کرنے کا واویلا کرتے رہتے ہیں۔ بارلحال حامد میر کمیشن کے تیسرے رکن جناب جسٹس اعجاز افصل تھے ۔ جو اب پانامہ عملدرآمد بنچ کے سربراہ ہیں ۔ وہ بنچ جس نے پانامہ جے آئی ٹی میں موجود آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران کو جے آئی ٹی کی کاروائی اور ریکارڈ کے تحفظ واسطے اہم ذمہ دارویاں سونپی ہیں ۔ کاش حامد میر کمیشن کاروائی میں بھی ان خفیہ اداروں سے ایسے ہی کام لیتے ہوئی ایک معمولی ” جیو فنسنگ ” وپورٹ حاصل کر لی جاتی تاکہ ایک بے نتیجہ کمیشن رپورٹ کے باعث ہم صحافی لوگ آج خود کو غیر محفوظ نہ محسوس کرتے ۔ اسی طرح لاپتہ افراد کے زیر سماعت مقدمات میں بھی جو جے آئی ٹی آج تک بنتی رہی ہے ان کو بھی اتنا ہی موثر بنا یا جاتا جتنی موثر آج پانامہ کی جے آئی ٹی ہے ۔ لوگوں کو جب اخبارات اور قابل اعتماد ذرائع سے یہ پتا چلتا ہے کہ واٹس ایپ ٹیلی فون خفیہ پیغامات کے ذریعے رجسٹرار سپریم کورٹ نے کچھ افسران کے نام محکمانہ فہرستوں میں ڈلوائے ہیں ۔ یا پھر آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی کی کاروائی اور ریکارڈ کے تحفظ کے لیے حکم دیا گیا ہے ، یا پھر جے آئی ٹی کی رپورٹیں سارے اراکین جے آئی ٹی کو پڑھنے سے پہلے دستخط کے لیے دی جاتی ہیں یا پھر جے آئی ٹٰی سے ایک لیک شدہ ملزم کا نام اور ادارہ ہماری قومی سلامتی سے جڑا ہے۔تو یہ سب جاننے کے بعد عام عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ عدلیہ ایک بار پھر شاہراہ دستور کو چھوڑ کر مال روڈ پر گامزن ہے۔سول اور ملڑی تعلقات خاص کر فوج کے ترجمان کی ٹویٹوں کے تناظر میں عدلیہ کے خفیہ اداروں کو غیر اعلانیہ انداز میں دیے گئے اختیارات اور ان سے متعلق خبروں پر پراسرار خاموشی نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس ملک میں احتساب کی چھری سیاست کی فارمی مرغیوں پر ہی چلتی ہےاور اس چھری کے نیچے کبھی بھی کوئی مقدس گائے نہیں آ سکتی۔ لگتا ہے اس ملک میں ہر کوئی اپنی اپنی مدت ملازمت اور جان بچانے میں لگا ہے۔ آئین اور قانون میں درج تقدس مذہبی فریضہ بن چکے ہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے