اور پھر جے آئی ٹی کی رپورٹ

 

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

ایک مصروف ترین دن کا آغاز اسی طرح ہوتاہے۔ مقدمے کی سماعت اگر دن ایک بجے بھی مقرر ہوتو ٹی وی کے رپورٹر کوصبح ساڑھے آٹھ بجے عدالت پہنچ کر اسکرین پر شکل دکھاکر ابتدائی خبر دیناہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کی پارکنگ دن کے ابتدائی اوقات میں ہی گاڑیوں سے بھرچکی تھی۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی دن رات بڑھوتری کی وجہ عدالت کے احاطے میں مرد وخواتین رپورٹروں کی بہار آئی ہوئی تھی۔دن کے ایک بجنے تک رنگارنگ وکیل بھی کالے کوٹوں میں عدالت کے کمرے میں پہنچ چکے تھے جہاںمرکزی ائرکنڈیشنڈ نظام کے باوجود بہتے پسینے گردن سے اترکر نازک مقامات کی جانب سفر پرگامزن تھے اورجب ایک بج کر پچاس منٹ پر جج اپنی کرسیوں پر بیٹھے تو سانس لینے میں مشکل پیش آنے کا مرحلہ شروع ہوچکاتھا۔
تینوں ججوں نے سب سے پہلے متفرق درخواستوں کو نمٹانے کا اعلان کیا۔ اور پھر حسین نواز کی جے آئی ٹی سے تصویر لیک ہونے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم نے آپ سے پوچھا تھاکہ حکومت نام سامنے لانا چاہتی ہے، مگر جواب کچھ اور دیاگیاہے۔ اس کے بعد عدالت نے حکم لکھوایا کہ تصویر لیک پر کمیشن بنانے کی درخواست منظور نہیں کی جاتی، کمیشن بنان سپریم کورٹ کے اختیار سے باہر ہے، حکومت خود تصویر لیک کرنے والے کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے، جے آئی ٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تصویرلیک کرنے والے کام نام سامنے لایاجائے۔ اس دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہمارے کندھوں کو استعمال نہ کیاجائے۔
کافی کچھ کہنے کے بعد دوسرے معاملے میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفرحجازی کے خلاف ریکارڈ ٹمپرنگ پر مقدمہ درج کرنے کی ایف آئی اے کی رپورٹ پر بحث ہوئی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ظفرحجازی کے خلاف سخت ریمارکس دیے اور بولے کہ انہوں نے سپریم کورٹ سے جھوٹ بولا جبکہ اپنے ماتحت عملے کو ڈرا دھمکاکر ریکارڈ ٹمپرنگ کرائی۔ جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے کہاکہ مقدمہ آج ہی درج ہونا چاہیے۔
اس کے بعد جنگ گروپ کی باری آئی۔ ( جج اپنے آنے سے قبل ہی اسٹاف کے ذریعے دی نیوز اخبار کی کاپیاں اپنے ٹیبل پر بھجواچکے تھے)۔ دی نیوز اخبار کے نمائندگی کون کررہاہے؟۔ تینوں ججوں نے پوچھا تو ہمارے دوست سہیل خان عدالت میں کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ مجھے رپورٹر احمد نورانی نے فون کرکے جے آئی ٹی کی سیکورٹی اور معاملات آئی ایس آئی کے حوالے کرنے سے متعلق پوچھا، میں نے جواب دیاکہ جج عدالت میں بولتا ہے۔ اسی رپورٹرنے دوبارہ فون کیا، اورپھر اس کی خبر بھی میرے نام سے چھاپ دی۔ ایک رپورٹر کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ جج کو دوسری بار فون کرے اور جج کا نام اپنی خبر میں لکھے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ ایک باقاعدہ مہم کا حصہ تھا اور یہ سب کچھ بار بار کیا گیا۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم اس معاملے کو نہ دیکھتے مگر بہت تسلسل کے ساتھ ایک باقاعدہ جذباتی انداز میں باتوں کو دہرایا اور شائع کیا گیا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم نے حسین نواز کی متفرق درخواست کے آدھے حصے میں کی گئی استدعا کو مسترد کیاتھا جس میں کہاگیا تھاکہ جے آئی ٹی ویڈیو ریکارڈنگ نہ کرے، تصویر لیک کے معاملے پر کوئی حکم جاری نہیں کیا گیاتھا لیکن دی نیوز نے غلط رپورٹنگ کی اور لکھاکہ تصویر لیک پر بھی درخواست مسترد کی گئی ۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ایسی رپورٹنگ باربار کی گئی۔ اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ اس میں سہیل خان کاکوئی قصور نہیں، جس رپورٹرنے خبر چھاپی وہ خود چھپ گیاہے۔عدالت نے اخبار کے مالک میرشکیل الرحمان، پرنٹر میرجاویدرحمان اور خبرنگار احمد نورانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے سات روز میں وضاحت طلب کی ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ حکومت کی جانب سے میڈیا کے اداروں کو جاری کیے گئے اشتہارات کاتقابلی جائزہ پیش کرنے کیلئے اٹارنی جنرل کو زبانی ہدایت کی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ شاید ہم اس طرف نہ جاتے مگر جس شدت اور باقاعدگی کے ساتھ خبریں شائع کی گئیں اس بات کا جائزہ لینے پر مجبور ہیں۔
عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں طلال چودھری اور آصف کرمانی کی جے آئی ٹی کے خلاف کی گئی تقاریر کا ریکارڈ اور متن طلب کیا تو تحریک انصاف کے فواد چودھری نے کہاکہ دیگر لوگ بھی اس کام میں ملوث تھے ان کے بیانات کاریکارڈ بھی منگوایاجائے۔ عدالت نے سعد رفیق کا نام بھی فہرست میں شامل کیا تو فواد چودھری نے کہاکہ رانا ثناءاللہ اور عابد شیرعلی کی تقاریرکامتن بھی طلب کیاجائے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کہیں ان لوگوں کی تقاریر کے پیچھے آپ ہی تو نہیں، اس پر عدالت میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل گئیں۔
اس کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی باری آئی تو عدالت نے کہاکہ رپورٹ متعلقہ فریق رجسٹرار کے دفتر سے حاصل کرسکتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کو مخاطب کرکے کہاکہ پیر کو ہم اس رپورٹ پر سماعت کریں گے مگر پرانے دلائل نہ دہرائے جائیں، تیاری کرکے آئیں اور عدالت کو اپنے مﺅقف سے آگاہ کریں۔ جسٹس عظمت سعید نے عدالت میں موجود افراد کو مخاطب کرکے کہاکہ جس کسی نے بھی مٹھائی کھانی ہے پہلے رپورٹ پڑھ لے۔ ہم بھی رپورٹ پڑھ کر ہی سماعت کریں گے۔
جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت سے استدعا کی کہ رپورٹ کی دسویں جلد عام نہ کی جائے کیونکہ یہ حصہ مزید تفتیش کیلئے استعمال کی جاسکتاہے، اس حصے میں دوسرے ممالک سے تفتیش میں قانونی مدد سے متعلق چیزیں زیربحث لائی گئی ہیں۔اس کے بعد عدالت نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو کہاکہ وہ اپنے دفتر سے دس دن میں تمام سامان اٹھالے اور جے آئی ٹی کو ختم تصور کیاجائے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ ہرایک پر واضح ہوکہ جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کے خلاف کسی بھی محکمانہ کارروائی کیلئے سپریم کورٹ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا، عدالت نے جے آئی ٹی کے تمام ارکان اور ان کے اہل خانہ کو مکمل سیکورٹی دینے کی بھی ہدایت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اب ہرقسم کا گند اور کیچز اچھالنا بند کیاجائے۔اس کے بعد سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کی گئی۔
(چونکہ عدالت سے باہر آنے والے میرے نوٹس کسی دوست نے راستے میں ہی غائب کردیے تھے اس لیے یہ کارروائی یادداشت کی بنیاد پرلکھی گئی ہے)۔
اڑھائی سو صفحات کی رپورٹ میں سے ایک بڑا حصہ پڑھ لیاہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی نہیں بخشا۔ کلثوم نواز اور نوازشریف کی دوسری بیٹی عاصمہ کو بھی ٹیکس چوری اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا قصور وار ٹھہرایا گیاہے۔ نوازشریف کے والد میاں محمد شریف کے بارے میں بھی کہاگیاہے کہ انہوں نے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ دولت اکھٹا کی اور سنہ انیس سو ترانوے میں ان کی دولت اچانک بڑھناشروع ہوئی۔ حسین اور حسن کے علاوہ مریم نواز کو بھی ٹیکس چور اور ناجائز دولت اکھٹا کرنے والا قراردیاگیاہے۔
اسحاق ڈار کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ان کی دولت صرف ایک سال یعنی دوہزار آٹھ میں اکیانوے گنا بڑھی۔رپورٹ کہتی ہے کہ اسحاق ڈار نے دوہزار پانچ میں ساڑھے پانچ ملین پاﺅنڈ ایک کمپنی میں سرمایہ کاری کی اور پھراسی کمپنی کی آمدن سے اپنے بیٹے کو دوہزار آٹھ میں چاراعشاریہ نوملین پاﺅنڈ کا قرض دیا۔ رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے پانچ ملین پاﺅنڈ کی سرمایہ کاری کرتے وقت دولت کا ذریعہ نہیں بتایا اور اسی دولت کے ذریعے انہوں نے دبئی میں اپنی کاروباری سلطنت قائم کی اور پاکستان میں بھی اثاثے بنائے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ شہباز شریف نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ان کو اپنے والد اورطارق شفیع کے اصل سرمائے اور اس کے ذرائع کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ جے آئی ٹی کہتی ہے کہ ایسا انہوں نے دراصل جان بوجھ کر حقائق چھپانے کیلئے کہا تاکہ اس معاملے میں مزیدتضادات سے بچاجاسکے۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ کے آخری چار صفحات میں نتائج اخذ کیے گئے ہیں تاہم نوازشریف اور اس کے بچوں کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی کوئی سفارش نہیں کی گئی بلکہ کہاگیاہے کہ جے آئی ٹی خود کو یہ کہنے پر مجبور پاتی ہے کہ یہ معاملہ نیب قانون کے تحت آتاہے، یا اسے نیب قانون کے تحت پرکھاجاسکتاہے۔ اسی طرح یہ بھی کہاگیا ہے کہ قانون شہادت کی شقیں ایک سو سترہ اورایک سو بائیس بھی اس کیس میں لاگو ہوسکتی ہیں۔ جے آئی ٹی نے کہاہے کہ شریف خاندان کے افراد اپنے اثاثوں پر تحقیقاتی ٹیم کو مطمئن نہیں کرسکے، وہ متعلقہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہےجس سے بظاہر یہی نتیجہ اخذ کیاجاتاہے ان کے اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے متجاوز ہیں۔
(رپورٹ بہت طویل ہے اور اس میں بہت سے دیگر کاروباروں کا بھی احاطہ کیا گیاہے)۔

متعلقہ مضامین