رپورٹ کی روشنی میں

ایک دھماکے کی صورت پانامہ دستاویزات اپریل 2016میں ہم لوگوں کے سامنے آئی تھیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے،جو دنیا بھر میں ٹیکس بچانے کا ایک پُرکار ذریعہ سمجھی جاتی ہیں،غیر ممالک میں قیمتی جائیداد وغیرہ کا دھندا چلانے والوں میں 400پاکستانیوں کے نام بھی ان دستاویزات میں شامل تھے۔ بہت واضح اور کئی حوالوں سے جائز وجوہات کی بناءپر ہماری سوئی مگر نواز شریف اور ان کے بچوں کے نام پر اٹک کر رہ گئی۔
ان دستاویزات کو منظر عام پر لانے والوں نے انہیں متعارف کرواتے ہوئے کھلے دل سے اعتراف کیا تھا کہ ہر آف شور کمپنی ”حرام“ کے پیسے سے نہیں بنائی جاتی۔ یہ ٹیکس چوری کے بجائے "Tax Avoidance”کی ترغیب دیتی ہے۔ ان کمپنیوں کا ”قانونی“ ہونا مگر کئی راشی اور بدعنوان حکمرانوں کو اپنی ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کو چھپانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ منشیات اور اسلحہ کی فروخت سے وابستہ کئی ”گاڈ فادر“ بھی ان کی بدولت ”معزز“ ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں کے نام منکشف ہونا تھے،ان سے روابط ہوئے۔ انہیں اپنا ورژن بیان کرنے کا مناسب وقت اور موقعہ فراہم کیا گیا۔
شریف خاندان کے پاس لہذا ایک سنہری موقعہ تھا کہ وہ 1930ءکی دہائی سے جڑے اور میاں شریف مرحوم کے متعارف کروائے کاروبار سے اپنی داستان شروع کرتے ہوئے، بھٹو حکومت کی جانب سے صنعتوں کو قومیانے کے بہانے کا سہارا لیتے۔ شاید یہ بیانیہ ان کی جانب سے 1993ءمیں لندن کے چند قیمتی فلیٹس کو خریدنے کا جواز بھی فراہم کرتا کیونکہ اس سال ”بھٹو کی بیٹی“ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں اور ارادے ان کے شریف خاندان کے بارے میں کافی حوصلہ شکن تھے۔
اپنی کہانی کو 1993ءتک لانے کے بعد مشرف کے دور میں نازل ہوئی جلاوطنی کا ذکر کرتے ہوئے ایک معقول بیانیہ گھڑا جاسکتا تھا۔ شریف خاندان کے بدترین مخالفین کے لئے اگرچہ وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوتا۔ ہمارے لوگوں کی اکثریت مگر ”سیاسی ہوئے“ کاروباری خاندان کی مجبوریوں کو تھوڑا سمجھتے ہوئے درگزر سے کام ضرور لیتی۔
نواز شریف مگر خود کو پانامہ دستاویزات کے حوالے سے بے گناہ ثابت کرنے پر ڈٹ گئے۔ ان کی ضدی صفائیوں نے نیوٹن کے تیسرے قانونِ حرکت کی طرح مخالف سیاستدانوںا ور میڈیا میں بیٹھے ”پارساﺅں“ کو بھی شدید ردعمل پر مجبور کیا۔ اب ایک طویل کش مکش کے بعد ہر دن دل ودماغ کو خفتان میں مبتلا رکھنے کے بعد سپریم کورٹ کی بنائی چھ رکنی JITنے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔
JITکی تشکیل اور اس کے طریقہ کار نے میرے شکی اور وسوسوں بھرے دل میں بھی کئی سوالات اٹھائے تھے۔ ان سوالات کو بیان کرنا میرے لئے کئی مشکلات کا باعث بھی ہوا۔ ”لفافہ“ وغیرہ کے طعنے تو پہلے ہی اپنی جگہ موجود تھے۔ ان سب کو بہت صبرسے برداشت کیا کیونکہ وطنِ عزیز کی تاریخ کے ایماندارانہ مطالعے نے سبق یہ سکھایا ہے کہ ریاست کے دائمی اداروں کی جانب سے عوام کے منتخب کردہ لوگوں کی ”صفائی ستھرائی“ نے پاکستان کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔ جمہوری نظام کے تسلسل کی حمایت کو مگر ”بدعنوانی“ کی حمایت گردانا گیا۔
بہرحال، JITکی رپورٹ آگئی ہے۔ اگر Ends Justify Meansکے فارمولے پر یقین ہو تو اس رپورٹ نے نظر بظاہربہت تفصیل کے ساتھ سپریم کورٹ کے ان ججوں کو درست ثابت کیا ہے جنہوں نے 20اپریل 2017ءکے دن پانامہ کیس پر فیصلہ لکھتے ہوئے شریف خاندان کو ”گاڈفادر“ قرار دیا تھا۔
بظاہر بہت محنت سے مرتب کی ہوئی اس رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف کا دفاع مجھ ایسے سادہ لوح اور معاشی باریکیوں سے قطعاً ناآشنا دو ٹکے کے رپورٹر کے لئے ممکن ہی نہیں۔ ذمہ داری اب صرف اور صرف نواز شریف کی ہے کہ اگر واقعتا وہ اس پورے قصے میں بے گناہ ہیں،بد طینت تہمت کا نشانہ بنائے گئے ہیں تو پوری شدومد سے سپریم کورٹ کے روبرو خود پر لگائے الزامات کا جواب دیں۔
JITکی رپورٹ کو جھوٹااور اندھے انتقام پر مبنی ثابت کرنے کے لئے مگر سب سے پہلا قدم انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے اٹھانا ہوگا۔ پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوکر وہ اپنی ”خوش نصیبی“ ثابت کرچکے ہیں۔ اقتدار ہی مگر سب کچھ نہیں ہوتا۔ اس سے کہیں زیادہ اہم شے ”وقار‘ ہوتی ہے۔ انہیں صرف اپنی ذات کا دفاع ہی نہیں کرنا۔ اپنے مرحوم باپ اور آنے والی نسلوں کے چہروں پر JITکی رپورٹ کے ذریعے لگائی سیاہی کو بھی دھونا ہے۔ اپنی اور اپنے خاندان کی صفائی انہیں مگرسپریم کورٹ اور عوامی عدالت کے روبرو ایک عام شہری کے طورپر پیش کرنا چاہیے۔
سیاست ہمارے ملک میں ایک گندا دھندا بنادی گئی ہے۔ منتخب وزیر اعظم کے منصب کی ایک توقیر اور ساکھ بھی ہوتی ہے۔ تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس منصب کی توقیر کو بحال کریں۔ یہ ثابت کرتے ہوئے ”تاریخ“ بنائیں کہ بہت محنت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے شخص کو اس ملک کی دائمی اشرافیہ، خلقِ خدا کی خدمت کرنے کی ”اجازت“ نہیں دیتی۔ اسے وہ تمام ضروری فیصلے لینے سے ہر صورت روکا جاتا ہے جنہیں بروقت لینا پاکستان کے استحکام اور ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔
نواز شریف ہماری تاریخ کے اس اہم موڑ پر جاں گسل سیاسی فیصلے کرنے سے قاصر رہے تو سیاست ہمارے ملک میں صرف اور صرف ہوسِ زر میں مبتلا خودپسندوں کا میدان ہی تصور کی جائے گی۔ نواز شریف اب بھی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے پر بضد رہے تو ان کے مخالفین مضبوط ہوتے جائیں گے۔ انجام اس پورے قصے کا لیبیا کے معمر قذافی جیسا نہ سہی تو کم از کم مصر کے حسنی مبارک جیسا ضرور ہوگا۔
اپنے تمام ترتحفظات کے باوجود مجھے اب بھی گماں ہے کہ ہمارے سیاستدان حسنی مبارک نہیں ہیں۔ ہمارے عوام ووٹ کی طاقت پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ جبلی طورپر جمہوری نظام کے حامی اور آزادی¿ اظہار کی نعمت کی دل وجان سے قدر کرتے ہیں۔
JITکی مرتب کردہ رپورٹ بھی یقینا حرفِ آخر نہیں ہے۔ کسی بھی فردِ جرم کی طرح اس میں سو طرح کے جھول ہیں۔ خلقِ خدا کی معقول اکثریت کی نظر میں نواز شریف JITکی رپورٹ کے پیش ہوجانے کے باوجود بھی اتنے گنہگار نظر نہیں آرہے جیسا انہیں JITکی رپورٹ نے بناکر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اگر سچے ہیں تو اپنا شدومد سے دفاع کرنا نوازشریف کی اب اخلاقی اور تاریخی مجبوری بن چکا ہے۔ اس سے مفر ممکن ہی نہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین