کمرہ عدالت کی کہانی

تاریخ بنے گی یا دہرائی جائیگی؟ اس سوال کے ساتھ کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخل ہوا۔ پاناما کیس کا فیصلہ ساڑھے گیارہ بجے سنایا جانا ہے۔ نواز شریف کے پاس ابھی کچھ وقت ہے۔یہ سپریم کورٹ کا سب سے بڑا کمرہ ہے جو چیف جسٹس کی عدالت کے لیے مختص ہوتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار دو دوسرے فاضل ججوں کے ساتھ ایک معمول کا مقدمہ سن رہے ہیں۔ ٹھیک گیارہ بجے ان فاضل ججوں نے اٹھ جانا ہے اور پھر پانچ فاضل ججوں نے اس کمرہ عدالت میں آکر پاناما کیس کا فیصلہ سنانا ہے۔
نوازشریف سیاسی جماعتوں،جمہوریت اور آئین اور قانون کی بالا دستی کا مستقبل داؤ پر ہے۔اس کمرہ عدالت میں اس سے پہلے بھی بڑے تاریخی فیصلے سنائے جاتے رہے۔ انیس سو نوے سے لیکر آج تک جتنی سیاسی حکومتیں کرپشن کے الزامات میں صدارتی حکم پر برطرف ہوتی رہیں یا فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کی جاتی رہیں ان میں سے کچھ کے مقدمات کے فیصلے اس کمرہ عدالت نمبر ایک میں ہی سنائے گئے۔ کمرہ عدالت کی دیواروں پر چیف جسٹس صاحبان کی بڑی بڑی تصاویرآویزاں ہیں۔ان میں سے کچھ نے ان مقدمات کے فیصلے کیے۔ بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے والے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر۔ جیسے مسکراکر کہہ رہے ہوں کہ آج بھی کچھ نہیں بدلا۔دیوار سے جھانکتے ان چوبیس چیف جسٹس صاحبان کو بلا تمیز عزت اور احترام ملا۔ چاہے کسی نے عدالتی قتل کیا یا آئین کی بالادستی کیلئے قربانی دی۔ چوبیس میں سے سترہ فاضل ججوں نے اپنی ان یادگار تصویروں کیلئے انگریزوں کی رسمی ٹوپی”وگ ” سر پر رکھنا مناسب سمجھا۔یہ بھیڑ کی اون سے بنائی جاتی ہے۔ مگر شائد اس بھیڑ کی اون کا اس بھیڑ چال سے کوئی تعلق نہیں جو ہر مارشل لا کے فوراً بعد پی سی او پر حلف اٹھائے جانے کے بعد چلی جاتی تھی۔ سب سے اہم اور بڑی تصویرچیف جسٹس کی سیٹ کے پیچھے اوپر دیوار پر قائد اعظم محمد علی جناح کی شیروانی اور ٹوپی والی ہے جس سے قائد اعظم جھانکتے نظر آئے ۔انکی نظر یں کمرہ عدالت کی سامنے کی دیوارسے اوپر چھت پرگڑی ہیں۔ اس کمرہ عدالت میں ہونے والی کارروائی سے بے اعتناعی واضح ہے۔شائد ناراضگی کی وجہ نائب قاصدوں کو پہنائی گئی وہ شیروانی اور” جناح کیپ” بھی ہے۔انہیں پہنے یہ ملازم فاضل ججوں کے اشاروں پر ان کے آگے پانی کا گلاس رکھنے کیلئے ہر گھڑی تیار کامران کھڑے ہیں۔قانون کی کتابوں کا ایک انبار ہے جو فاضل ججوں کے ڈائس کے آگے ایسے سجا ہے جیسے پرانی کتابوں کا صدر بازار راوالپنڈی میں لگا جمعہ بازار۔ان کتابوں کو دیکھ غریب سائلین یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب کچھ کتاب اور قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ صرف وکیل اور منشی ہی جانتے ہیں کہ ان کتابوں میں درج ماضی کے کچھ غلط فیصلوں کو پڑھ پڑھ کر وکلااور ججز صاحبان مستقبل کیلئے کچھ مزید فیصلے کرتے ہیں۔وہ دوبارہ چھپ کر نئی کتابوں کی صورت اسی کمرہ عدالت میں پہنچ جاتے ہیں اور جن کا پھر سے حوالہ دے کر مزید ایسے فیصلوں کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
کمرہ عدالت میں رش بڑھ رہا ہے۔تحریک انصاف کے لیڈرصبح سے ہی عدالت پہنچ گئے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈران کو شائد عدالت پہنچنے کی جلدی نہیں۔جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق پہلی صف میں بیٹھے اپنے قلم سے پرچی پر کچھ لکھ رہے تھے۔ شائد فیصلہ حق میں آنے کے بعد کی تقریر کے اہم نکات ۔ جہانگیر خان ترین بھی پہلی صف کے سائلین میں شامل ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ساتھ بیٹھے علیم خان سے گفتگو میں مصروف ہیں۔ایبٹ آباد کمیشن کے اہم رکن اور پاکستان کے نامور سفارتکار جہانگیر اشرف قاضی بھی دوسری صف میں ساتھ موجود شبلی فراز کے ساتھ محوگفتگورہے۔کمرہ عدالت کھچاکھچ بھرچکا ہے۔بیٹھنے کی کل گنجائش تقریبا ڈیڑھ سو تھی۔
اسد عمر بھی سیٹ کے بغیر کھڑے ہیں۔بڑی تعداد میں عدالتی ملازم اور چند کارکن اپنی اعلیٰ قیادت کی آمد سے پہلے انکے لیے سیٹوں کو قبضے میں لیے بیٹھے ہیں۔ دانیال عزیز بھی علامہ اقبال کی طرح چہرے پر ہاتھ رکھے کھڑے کھڑے "نئے پاکستان” کے "تصور” سے پریشان نظر آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کے شفقت محمود شفافیت کے جوش میں بغیر بنیان کے کچھ زیادہ ہی شفاف کرتے شلوار میں گھوم پھررہے ہیں۔صحافیوں کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ جو صرف کمرہ عدالت نمبر ایک میں ہی ملتی ہے اس پر بھی صحافیوں کی بڑی تعداد کرسیوں پر براجمان اور پیچھے کھڑی ہے۔
میری خوش قسمتی کرسی پر بیٹھا یہ لکھ رہا ہوں۔یہاں بھی پوری عدالت کی طرح اس کرسی کے پیچھے دوست تو کیا بیٹاباپ کو پہچاننے سے انکاری ہوجائے۔ساری عمر جمہوریت اور بھٹو ازم کے سحر میں صحافت کرنے والے مرتضی سولنگی ایک ایسے ڈاکٹر اینکر صاحب کے ساتھ محوگفتگوتھے جو چند دوسرے صحافی ڈاکٹر صحافیوں کے اس بینڈ میں سرگرم ہیں جو ہر سیاسی بحران میں وزیر اعظم نوازشریف کے جانے کی”قومی دھن” بجابجا کر تھگ گئے ہیں مگر آج ایک بار پھر اپنے ڈرموں کو تیل لگاکر آئے ہیں۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں ، کمرہ عدالت میں داخلے سے پہلے پولیس ،رینجرز اور انسداد دہشتگردی فورس کے جوانوں کی دوطرفہ قطار سے گزرکرآنا کسی بھی دہشت گردکے لیے ناممکن ہے۔ ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے جن نظروں کا سامنا کرناپڑتاہے۔ ایک شریف مرد یا خاتون تو خوف اور شرم سے ہی پھٹ جائے۔کمرہ عدالت کے اندر بھی سول کپڑوں میں ملبوس مستعد اہلکار کسی ایسے مشکوک شخص کی تلاش میں ہیں جو فاضل ججوں کے ڈائس کے بغل سے گزر کر ان کی جیب سے انصاف نکالنے کے چکر میں ہو۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمان مکمل پیلے لباس میں ملبوس آج کرسی کی بجائے ایک سائیڈ پر ہی اکتفاء کرکے بیٹھی ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں سے کرسی چھوڑنے پر افسوس بھی نہ ہو۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی روح بھی کمرہ عدالت میں کہیں بھٹک رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو کیا اس دن کے لیے میری تصویر بطور چیف جسٹس آویزاں نہیں کی گئی۔اس گہما گہمی میں مرحوم چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی بھیڑ کی اون والی تصویر کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ انہیں 1993 کا اپنا وہ فیصلہ یاد آ رہا ہے جس میں اس وقت بھی کرپشن کے الزامات میں برطرف نواز حکومت کو انہوں نے بحال کر دیا تھا۔ مگر پھر جنرل وحید کاکڑ نے ایسا کیا کہ ایک بحال حکومت کے اوسان خطا ہو گئے۔ استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کرتے کرتے اس وقت بھی نواز شریف نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یوں لگا جیسے شاہ صاحب گلہ کر رہے ہوں کہ فیصلے ہماری سپریم کورٹ جو بھی کرے اصل فیصلہ ڈنڈے کا ہوتا ہے۔ افتخار چوہدری نے بھیڑ کی اون تو سر پر نہیں رکھی مگر تصویر کے فریم میں وہ منہ موڑے نظر آرہے ہیں۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ اس کمرہ عدالت میں میں نے ایک فوجی آمر کے خلاف سنگین غداری کے جرم میں کاروائی کا کہا تھا۔ کاروائی تو شروع ہوئی مگر پھر اس جرنیل کو بھگا دیا گیا۔ کیمرے میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی بجائے افتخار چوہدری بھی بس دوسری طرف منہ کر کے اپنی تاریخی وکلاء تحریک اور عدلیہ کی آزادی کے بعد آج ایک اور وزیر اعظم کی ممکنہ نا اہلی پر لا تعلق نظر آئے۔
ان سے کچھ فاصلے پر چیف جسٹس سجاد علی شاہ بھیڑ کی اون اوڑھے بڑی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ پاناما کیس کے متوقع فیصلے کو مکافات عمل قراردیتے نظر آئے۔ سجاد علی شاہ کو جس طریقے سے انکے عہدے سے نواز شریف نے ہٹایا تھا۔ شاہ جی کیلئے آج دلی سکون کا اہتمام لگ رہا ہے۔ سب سے اہم مناظر تو کمرہ عدالت کی مخصوص گیلری کے ہیں۔ جہاں معزز ججزصاحبان کے خصوصی مہمان اور اہل خانہ بڑے جوش و خروش سے موجود ہیں۔ وکلاء اور سیاست دان نیچے کمرہ عدالت کے ہجوم اور اسکی گھٹن کا شکار ہیں اور اشرافیہ” گاڈ فادر” کی اس ” فلم ” کو انجوائے کررہی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے بینچ سمیت جا چکے ہیں اور اب انتظار ہے ان فاضل ججوں کا جنہوں نے پاناما کا فیصلہ سنانا ہے۔ہجوم اتنا ہے کہ عدالت کے کمرے میں باقاعدہ مائیکرو فون کے ذریعے ایس ایس پی سکیورٹی منظم رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
تمام نظریں فاضل ججوں کے داخلی دروازوں پر لگی ہیں جس کے کھلنے کے ساتھ ہی کسی پر سیاست کے دروازے بند ہونے کا امکان ہے۔ نواز حکومت کوپہلے ہی ایک گھنٹہ مل چکا ہے ۔دن کے ساڑھے بارہ بج گئے اور مائیکرو فون پر اعلان ہورہا ہے کہ جج صاحبان آنے والے ہیں۔ سرگوشی تک کی ممانعت کا اعلان ہے۔ ایک منصف کیلئے انصاف کا دروازہ کھلا اور ساتھ ہی ایک سیاست دان پر سیاست کا دروازہ بند ہوتا دکھائی دیا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button