آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں ترمیم

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں آئین میں ترامیم چاہتی ہیں تاہم دونوں ایک دوسرے کی مجوزہ آئینی ترامیم سے متفق نہیں ہیں۔

حکومت چاہتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں ترمیم کی جائے۔ وزیرقانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں کسی رکن پارلیمان کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، ہم چاہتے ہیں کہ نااہلی کی مدت پانچ سال سے بھی کم ہونا چاہیے۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے ترمیم پیش کی ہے کہ سیاسی جماعتوں پر پارٹی فنڈز کے ذرائع بتانے کی شرط ختم کی جائے۔ تاہم حکومت نے اس کی مخالفت کی ، جس کے بعد ترمیم کو اسمبلی میں کثرت رائے سے مسترد کردیاگیا۔ قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات دو ہزار سترہ کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل میں الیکشن کمیشن کو مکمل مالی اور انتظامی خود مختاری دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین